pic

پی آئی سی میں وکلاء کا دھاوا:متعدد مریض جاں بحق صوبائی وزیر تشدد کا نشانہ بنے

EjazNews

لاہور میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء کے ایک جم غفیر نے دھاوا بول دیا۔ دھاوا بولنے کی وجہ جو سامنے آرہی ہے وہ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو ہے۔ اس دھاوے میں ڈاکٹرز تو اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے لیکن وہاں پر داخل غریب 12مریض اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ۔ اب ان کی موت کس کے ذمہ ہے یہ حکومت یا پھر عدالتیں بہتر بتا سکتی ہیں۔
وکلاء نے ایمرجنسی میں بھی دھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کی اور آپریشن تھیٹر تک میں گھس گئے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر آصف کے مطابق وکلا نے اندر داخل ہو کر نعرے لگائے اور جو ڈاکٹر سامنے آیا اسے مارا ۔
اس صورتحال کو دیکھ کر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی کارڈیالوجی پہنچیں لیکن ریاست کی کمزوری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آدھے گھنٹے تک وہ باہر کھڑی رہیں انہیں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
وکیل اس قدر غصے میں تھے کہ صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کو شدید زدو کوب کیا۔ اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ فیاض الحسن کے بال نوچے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور کے مال روڈ پر اب موٹر سائیکلوں کا ٹریک علیحدہ


اس کے بعد صوبائی وزیر کی جانب سے خبر سامنے آئی کہ ان کا کہنا ہے کہ تشدد پسند وکلاء کو نشانہ عبرت بنائیں گے۔
اس ہنگامہ آرامی کے تقریباً کئی گھنٹے بعد پولیس کو ایکشن کی اجزت ملی ۔ پویس نے وکلاء پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی جس کے بعد حالات قابو میں آئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے واقع کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور فوری رپورٹ طلب کی ہے جبکہ ان کی جانب سے سامنے آنے والی خبر یہ بھی ہے کہ دل کے ہسپتال میں ایسا واقع ناقابل برداشت ہے۔

وکلاء کے دھاوے نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پنجاب میں حکومتی رٹ کتنی مضبوط ہے۔ حکومت جتنی بے بس اس سارے معاملے میں نظر آئی شاید پہلے کبھی اتنی بے بس حکومت نہیں دیکھی گئی۔ دو صوبائی وزراء کے ساتھ جو ہوا اور اس کے بعد پولیس نے جتنی دیر بعد ایکشن لیا یہ سب کچھ صوبائی رٹ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ کتنی مضبوط ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  الیکشن کمیشن کو دکھی ہونے کی ضرورت نہیں، یہ ذرا شرمندہ ہونے کی بات ہے:وزیر سائنس

وکلاء نہ صرف ہسپتال کے گیٹ توڑے، اندر داخل ہوئے اور جتنا کچھ کر سکتے تھے کیا اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ وکلاء کے حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

وائی سی اے نے ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں