sleeping-caught

آخر ہم خراٹے کیوں لیتے ہیں؟

EjazNews

گہری اور پرسکون نیند یقینا کسی نعمت سے کم نہیں ا،یسے تمام خواتین و حضرات خوش قسمت ہی گردانے جاتے ہیں جو نیند سے متعلق کسی بھی قسم کے مسائل کا شکارنہیں ہوتے لیکن ایسے افراد کے بارے میں کیا کہیے جن کی گہری نیند دیگر افراد کیلئے وجہ زحمت بن جاتی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ گہری نیند دیگر افراد کے لئے وجہ زحمت کیونکر بن سکتی ہے؟ تو جناب ہمارا اشار ایسے خواتین و حضرات کی جانب ہے جو سوتے میں خراٹے لینے کی عادت میں مبتلا ہیں لیکن کیا خراٹے لینا محض عادت ہے یا اسے مرض کی حیثیت سے بھی دیکھا جاسکتا ہے؟ اس ضمن میں ہونے والے تجربات سے حقیقت بھی آشکار ہوئی ہے کہ خراٹے لینے والے زیادہ تر افراد پینتالیس سال سے ساٹھ سال کے درمیانی عمرسے تعلق رکھتے ہیں۔ خراٹے لینا ایک عادت نہیں بلکہ ایک مرض کی حیثیت رکھتا ہے جس کے پس پردہ بہت سی وجوہات کارفرما ہیں۔
درحقیقت دوران نیند گلے کے پٹھے قدرے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ سانس لینے کے عمل میں سانس کی نالی کی دیوار میں ایک دوسرے کے قریب آجاتی ہیں جس سے سانس لینے میں دقت محسوس ہوتی ہیں اور گلے کے پٹھوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ۔یوں جسم کو پوری قوت کے ساتھ آکسیجن پہنچانا لازمی ہو جاتا ہے اور اسی قوت کے ارتعاش سے جو آواز نکلتی ہے اس آواز کو خراٹے کا نام دیا جاتا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق ملک میں تیس فیصد سے زائد افراد خراٹے لینے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ خراٹے نہ صرف خاندان بھر کیلئے بلکہ خراٹے لینے والے فرد کیلئے بھی زحمت کا باعث ہوتے ہیں، اس حوالے سے اٹلی میں ہزاروں افراد پر کئے گئے تجربات کے نتائج اہمیت کے حامل ہیں جس کے مطابق خراٹے لینے والے افراد میں موت کی شرح اس مرض سے محفوظ افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ نوٹ کی گئی۔
خراٹوں کی حقیقی جوہات سے پردہ اٹھانے کیلئے گاہے بگاہے تجربات سامنے آتے رہتے ہیںجن کے نتیجے میں مختلف مشاہدات سامنے آئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ محض کسی ایک وجہ کو خراٹے کا باعث قرارنہیں دیا جاسکتا، خراٹوں کے متعلق یہ حقیقت بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ خراٹوں سے پیدا ہونے والی آواز مریض کوخودبھی بالکل واضح اور تواتر کے ساتھ سنائی دیتی رہتی ہے۔ لیکن چونکہ وہ نیند میں ہوتا ہے اور اس کا ان خراٹوں کی آواز کو ایک تسلسل سے نشر کرتا ہے اس لئے افرادخراٹوں کی آواز سے متاثر نہیں ہوتے۔
ماہرین کی نظر میں خراٹوں کی وجوہات:
سائنسی ترقی اور مسلسل تجربات کے باوجود ماہر ین خراٹوں کی وجوہات میںیکساں نوعیت کے حتمی جواب دینے سے قاصر ہیں۔ بیشتر ماہر ین ذہنی اور شدید جسمانی تھکن کو بھی خراٹوں کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وہ افراد جو دن بھر میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے تک مسلسل مصروف رہتے ہیں ان میں خراٹوں کی شرح دیگر افراد سے کہیں زیادہ دیکھی گئی ہے۔ سست طبیعت افراد میں خراٹوں کی شرح تقریباً نہ ہونے کے قریب ہے لیکن تمباکو نوشی ، بسیار خوری اور سونے کے غیر صحت مند انداز مثلاً پیٹ کے بل سوتے رہنے سے بھی خراٹے لینے کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو خراٹے کے مرض کو موروثی قرار دیتا ہے ان کی رائے کے مطابق کھانے کی عادات، سگریٹ نوشی اور دیگر وجوہات ثانوی حیثیت رکھتی ہے لیکن وزن کی زیادتی کے شکار افراد میں خراٹوں کا مرض بہت عام ہے ۔عمر اور وزن میں اضافے کے ساتھ خراٹوں کی رفتار میں بھی شدت آجاتی ہے۔ خصوصاً چالیس سال کی عمر کے بعد وزن کی زیادتی خراٹوں کے علاوہ نظام تنفس اور دل کے امراض کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
خواتین خراٹوں سے کم متاثر کیوں ہوتی ہیں؟:
مشاہدے سے ثابت ہوا ہے کہ خواتین خراٹوں سے کم متاثر ہوتی ہیں آخر اس کا کیا سبب ہے؟ ماہرین کے رائے کے مطابق فربہی جیسے مسائل میں مبتلا خواتین بھی بہت کم اس مسئلے کا شکار ہوتی ہیں کیونکہ خواتین کے گلے کے پٹھے مرد حضرات کے مقابلے میں لچکدار ہوتے ہیں۔ ان میں سانس کی رکاوٹ اتنی شدت سے پیدا نہیں ہوتی، وزن کی زیادتی کے باوجود بھی گردن کے اطراف زائد چربی جمع نہیں ہوتی ۔نیز خواتین کے ہارمونز بھی انہیں اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مردوں میں خراٹوں کی شکایت خواتین کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
خراٹوں کے منفی اثرات:
خراٹے لینے کی رفتار میں تیزی آجائے تو سانس کے سنجیدہ مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ معمر افرادکو بعض دفعہ سانس لینے میں اس حد تک دشواری کا سامناکرنا پڑتا ہے کہ چند لمحوں کیلئے سانس ہی رک جائے۔ اس لئے معالجین عمر رسیدہ افراد کو نیند کی ادویات لینے سے اجتناب برتنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ خراٹے لینے والے افراد پر دن بھر ہلکی سی غنودگی طاری رہتی ہیں اور دن میں بھی نیند کے جھونکے انہیں اپنی لپیٹ میں رکھتے ہیں۔ نزلہ، زکام اور فلو کی صورت میں خراٹوں کے مرض میں مزید اضافہ ہوجاتاہے۔ امریکن ہیلتھ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں بلند فشار خون کے حوالے سے ہونی والی ریسرچ سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا کہ خراٹے لینے والے افراد میں بلند فشار خون کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے کیونکہ سانس کی نالی میں رکاوٹ کے باعث خون میں آکسیجن کی فراہمی میں ہونے والاتعطل دل کی دھڑکن کی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔
خراٹوں کا تدارک کیسے کریں؟ :
ہلکے اور وقفے سے ہونے والے خراٹے صحت کیلئے بہت نقصاندہ ثابت نہیں ہوتے لیکن اگر مرض کی شدت اور خراٹوں کی رفتار میں بھی اضافہ ہوجائے تو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعے خراٹوں کی شدت میں کمی لا ناممکن ہو ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ سیدھے لیٹنے کی بجائے کروٹ کے بل سونے سے تیز خراٹے میں کمی آجاتی ہے لیکن سانس کے مریضوں کی سہولت کیلئے ماسک شکل کی مشین ایجادکی گئی ہے جس سے سانس لینے کا عمل تمام رات کیلئے آسان ہو جاتا ہے۔ یہ سانس کی نالیوں کو باہمی رگڑ سے محفوظ رکھتی ہیں لیکن یہ بھی لازمی ہے کہمشین روزانہ استعمال کی جائے۔ پوزیٹوائیر وے پریشر نامی یہ مشین خاص طور پر امراض قلب، دمہ اور زکام کے مستقل مریضوں کیلئے نہایت مفید ہے جو سوتے میں خراٹے لینے کے مرض میں مبتلا ہیں یہ طریقہ علاج منفی اثرات سے قطعی پاک ہے ۔اگر چہ ترقی یافتہ ممالک میں خراٹوں کا علاج معمولی نوعیت کی سرجری سے بھی کیا جاتا ہے لیکن محض کچھ سال بعد خراٹوں کی شکایت دوبارہ پیدا ہوسکتی ہے۔ اس لئے اب سرجری کے ذریعے طریقہ علاج کو ترک کر دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مندرجہ ذیل نوعیت کی احتیاطی تدابیر خراٹوں کی شدت سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
رات کا کھانا بستر پر جانے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھا لیا جائے، بھوک چھوڑ کر کھانا کھائیں۔
صاف کھلے ماحول میں کچھ دیر چہل قدمی کی جائے۔
سونے کے کمرے ہوادار ہونے چاہئے۔ روشندان کھڑکیوں کو کھلا رکھیں۔
منہ کے بل سونے سے پرہیز کریں ۔کمر کے بل سیدھے سوئیں۔
بھاری نوعیت کے تکیے استعمال نہیں کریں۔
وزن عمر، قد کے مطابق کنٹرول میں رکھیں۔
گوشت، چاول اور ٹھنڈے مشروبات کم استعمال کریں۔
سونے سے پہلے ایک گلاس بالائی اترا نیم گرم دودھ پینے سے بھی افاقہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تپ دق سے بچاؤاور احتیاطی تدابیر
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں