home-Decoration

گھر کی آرائش بھی ایک آرٹ ہے

EjazNews

گھر ایک مکمل لفظ ہے جو آپ کی شخصیت کا آئین دار ہوتا ہے۔ گھر کی زیبائش وآرائش میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدت آمیز انداز متعارف ہوئے ہیں اور دیکھا جائے تو یہ تبدیلیاں نئے انداز ذرائع ابلاغ کی مرہون منت ہیں جس نے لوگوں کی طرز زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہر وہ چیز جس میں خوبصورتی کا احساس پیدا ہوتا ہے آرٹ کہلاتی ہے۔ مختلف چیزوں کو اکٹھا کر کے ایک خوبصورت اور دلفریب ماحول بنایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آج کے اکثر گھر مشرق اور مغرب کا مکسپچر معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے درودیوار کے رنگ شوخ، ہلکے، مدھم ہو سکتے ہیں اور گھر کو کچھ اس طرح سے سنوارا اور سجایا جاسکتا ہے کہ یہ ایک بہترین نمونہ ثابت ہو، اصل میں ساری بات سٹائل کی ہوتی ہے ۔یعنی گھر کوکس طرح سے سجایا اور سنوارا جائے کہ یہ پرکشش لگنے کے ساتھ ساتھ آرام دہ اور پرسکون ہونے کا احساس دلائے۔
کسی بھی جگہ کی آرائش ایک تخلیقی عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے اردگرد کے ماحول کو دیدہ زیب بناسکتا ہے۔ کسی بھی چیز کی ظاہری شکل اور آرائش انسان کی سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھ دینے کا نام گھر یلوآرائش نہیں بلکہ اس کو مناسب جگہ پر رکھنا آرائش ہے۔ جب کوئی فردکسی بھی جگہ کو سجاتا ہے تو وہ جگہ اس کی ذات کا عکس ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی کی تمام چیزیں اس جگہ استعمال کر کے اس کی ظاہری خوبصورتی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس سے خوبصورتی کا احساس پیدا ہوتا ہے آرٹ کہلاتی ہے۔ مسلسل توازن مناسبت ہم آہنگی اور فوقیت آرٹ کے وہ اصول ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنی روز مرہ زندگی میں خوبصورتی کا عنصر پیدا کر سکتے ہیں۔ گھر کی سجاوٹ میں بھی آرٹ کا استعمال انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ فرنیچر کا انتخاب ترتیب اور استعمال آرٹ سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آرٹ کے وہ کون سے اصول ہیں جن کو ہم سمجھ کراپنے گھر کی سجاوٹ میں غیر معمولی دلکشی پیدا کر سکتے ہیں۔
ترتیب:
ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ترتیب ایک ایسا توازن ہے جو حرکت کی شکل میں پہچانا جاتا ہے ۔ترتیب کی کیفیت گھر کے اندر کی چیزوں کی کسی خصوصیت کو بار بار دہرانے سے پیدا کی جاسکتی ہے۔ مثلاً صوفے کشن پردوں ، قالین اور کمرے کی دیواروں کا رنگ ایک ہی ہو یا نہیں کسی ایک رنگ کے کم یا زیادہ مقدار میں موجود ہونے سے ایک جگ تسلسل محسوس ہوگا جو کہ آرٹ کی ترتیب ہی کہلاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تہذیب و ثقافت کا ترجمان شیشم کا فرنیچر
ہمارے ہاں گھروں میں گیلریاں بنائیں جاتی ہیں مگر ان کی زیبائش کا خیا ل بالکل نہیں رکھا جاتا ۔ اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو یہ گیلریز گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کر سکتی ہیں

توازن کی دلکشی:
آرٹ کا دوسرا اصول توازن ہے توازن سے مراد دو مختلف چیزوں میں برابر کا وزن یا برابر کی دلکشی اور جاذبیت کا ہونا ہے۔ چنانچہ گھر کی سجاوٹ کرتے وقت فرنیچر کی ترتیب اور دیگر آرائش میں توازن کی کیفیت کو مدنظر رکھنا چاہئے توازن کی کیفیت مختلف ہوسکتی ہے۔ مثلاً ایک صوفے کے دونوں اطراف برابر کے فاصلے پر رکھے ہوئے ایک جیسے ٹیبل لیمپ سے توازن کی جوکیفیت پیدا ہوگی اسے رسمی توازن کہا جائے گا اور اگر ایک ہی فاصلے پر ایک طرف گلدان رکھ دیا جائے اور دوسری طرف اس کے توازن کی کوئی دوسری چیز مثلاً کوئی تصور یا کوئی اور ڈیکوریشن پیس موجود ہوتو توازن کی یہ کیفیت غیررسمی کہلائے گی۔
مناسبت کا تعلق :
مناسبت سے مرادکسی چیز میں ایک حصے کا دوسرے حصے سے موزوں تعلق ہے۔ چنانچہ اس اصول کے مطابق گھر کی سجاوٹ کیلئے ضروری ہے کہ کمرے میں رکھے جانیوالے فرنیچر اور کمرے کے سائز میں تناسب ہو مثلاً اگر چھوٹے کمرے میں چوڑی کرسیاں اورصوفے رکھ دیئے جائیں تو اس سے مناسبت برقرار نہیں رہے گی اسی طرح اگر بڑے سائز کے صوفی کی پشت پر ایک چھوٹی سی تصویر لگادی جائے تو وہ ہرگز خوبصورت نہیں لگے گی کیونکہ اس طرح ماحول میں مناسبت کا احساس نہیں ابھرے گا۔
ہم آہنگی کا مطلب یکسانیت کی کیفیت پیدا کرنا ہے۔ مثلا اگر کسی کمرے میں سبز رنگ کا قالین ہو اور اسی رنگ کا کوئی شیڈ پر دوں اور صوفہ سیٹ میں استعمال ہو۔اس سے کمرے میں رنگوں کے ذریعے ہم آہنگی نظر آئے گی اس طرح اگر کمرے کے درمیان گول میز رکھی جائے اور اسی شکل کے لیمپ شیڈ بھی لگائے جائے۔ تو وہ سائز اور شکل کے ذریعے کمرے میں ہم آہنگی پیدا کریں گے۔
فوقیت:
فوقیت کا مطلب ہے کہ ماحول میں کسی ایک جگہ کو زیادہ نمایاں طر یقے سے سجایا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے کمرے میں بہت ساری خوبصورت چیز یں ہوں جن سے نظر ایک طرف سے ہٹ کر دوسری طرف اور پھر تیسری طرف جائے گی ایسے حالات میں نظر کی حرکت سے بے چینی سی محسوس ہوگی۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اکثر ڈرائنگ روم میں پھولوں کی سجاوٹ اور خوبصورت تصاویر کو اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ چیزیں باقی اشیا پر فوقیت حاصل کر لیتی ہیں اسی طرح اگر ڈرائنگ روم کی کسی ایک دیوار کو وال پیپر کی مدد سے سجایا جائے تو وہ اس کمرے میںContex of intrest کی شکل اختیار کرے گی۔ ان تمام باتوں کے علاوہ خوبصورت تصویروں سے بھی گھر کی رونق بڑھتی ہے۔ ایک اچھی تصویر خریدنے والے کے ذوق کو ظاہر کرتی ہے۔گھر کی سجاوٹ میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن کون سی تصویرکس رنگ کے ساتھ لگائی جائے یہ سمجھنا بھی ایک فن ہے۔
سب سے پہلے یہ دیکھیں کی تصویر کہاں لگانی ہے یعنی ڈرائنگ روم، بیڈروم یالیونگ روم میں ۔ایک اہم بات یہ کہ کمرے کی دیواریں کس رنگ کی ہیں؟ کیونکہ تصویر جب رنگ سے ہم آہنگ ہوگی تب ہی اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا اس کے ساتھ ہی ایک اچھی تصویر کے ساتھ اچھی فریمنگ بھی ضروری ہے کیونکہ فریم وہی اچھا لگتا ہے جو تصویر کے ساتھ مناسب لگے ۔تصویروں کا انتخاب اور انداز بے جان دیواروں میں جان ڈال سکتاہے۔ آرٹ کی دلکشی گھریلو آرائش میں ہماری معاونت کرتی ہے۔ بات صرف تخلیقی سوچ کو پروان چڑھانے کی ہے جن کی بدولت آپ گھر کے کسی بھی حصے کو خوبصورت گوشے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنی بالکنی، گیلری اور ٹیرس کو پھولوں اور پودوں سے سجائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں