hazrat-zanib

حضرت زینبؓ بنت ابی معاویہؓ

EjazNews

ان کا نکاح حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے ہوا تھا۔ ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا اوریہ نیک بخت خاتون حضرت زینبؓ اپنے ہاتھ کی دستکار تھیں۔ اس لیے اپنی اور اولاد کی خود کفیل ہوئیں۔ ایک دن کہنے لگیں کہ تم نے اور تمہاری اولاد نے مجھے صدقہ و خیرات سے روک رکھا ہے جو کچھ کماتی ہوں تم کو کھلا دیتی ہوں۔ بھلا اس میں مجھے کیا فائدہ! حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: تم اپنے فائدے کی صورت نکال لو۔ مجھ کو تمہارا نقصان منظور نہیں ہے۔
حضرت زینبؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اورعرض کیا کہ میں دستکار ہوں اور جو کچھ اس سے پیدا کرتی ہوں شوہر اور بچوں میں صرف ہو جاتا ہے کیونکہ میرے شوہر کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے اس وجہ سے میں محتاجوں کو صدقہ نہیں دے سکتی ہوں اس حالت میں مجھے کیا ثواب ملتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کو دوہرا ثواب ملتا ہے تم کو ان کی خبر گیری کرنی چاہیے۔ (مسلم )۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے اور زینبؓ آپ کے سر مبارک کی جوں دیکھا کرتی تھیں۔ (مسند احمد)
(حضرت مولانا عبدالسلام بستوی دہلوی)

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اُم سلیم ؓ کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں