positve-thought

میٹھا ہپ ہپ کڑوا تھو تھو

EjazNews

آج کے نفسا نفسی کے دور میں جدھر دیکھو ہر شخص دوسرے کی ذرا سی بات پر بھڑک اٹھتا ہے اورلڑنے مرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ صبر و استقلال ، برداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو تو جیسے الیکٹرونک ایج کا ’’وائرس‘‘ نگل گیا ہے اور ہر انسان جیسے موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ گھر ہو یا دفتر، دوست ہوں کہ اجنبی ذرا سی غلطی وہ سرزد کریں اور ان کو بے نقط سنا دی جائیں۔ ایسا کرنے سے سنانے والے یعنی غصہ کرنے والے شخص کا دل تر پر سکون ہو جاتا ہے مگر کبھی یہ سوچنے کی آپ نے کوشش کی کہ اس کا اثر دوسرے شخص پر کیا ہوتا ہے؟ آپ کا تلخ لہجہ اور الفاظ کیا اس کے دل میں آپ کیلئے احترام کے جذبات پیدا کریں گے؟ کیا آپ کے نارمل ہونے پر بھی وہ دل سے آپ کو اچھا سمجھے گا؟ آپ کا سکھ دکھ محسوس کرے گا؟ ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر سوال کا جواب نہیں ہی ہے۔
ولسن کا مشہور قول ہے ’’اگر کوئی مجھ پر مکاتا نے تو جواب میں میرامکا اس سے سخت ہوگا اور جوکوئی میرے ساتھ اختلاف رکھنے کے باوجود میرے پاس آکر کہے کہ کیوں نہ ہم اپنے اختلاف کی وجہ ڈھونڈیں اور اسے سمجھنے اور دور کرنے کی کی کوشش کریں تو وہ شخص مجھے سلجھا ہوا اور قریب محسوس ہوگا۔ مجھے یہ بھی لگے گا کہ ہمارے درمیان اختلاف کی باتیں کافی کم ہیں اور ایسی باتیں کہیں زیادہ ہیں جن پر ہم ایک جیسے نظریات رکھتے ہیں اور متفق ہو سکتے ہیں۔اور جب ہم میں ایک دوسرے کو سمجھنے کی اہلیت اور برداشت ہوگی تو ہم جلد ہی ، ہم خیال اور دوست بن جائیں گے۔ ‘‘
ایک بات یاد رکھیں کہ اگر کسی شخص کادل آپ کی طرف سے عداوت اور نفرت سے بھرپور ہو تو آپ دنیا بھر کی منطق سے بھی اسے اپنا ہم خیال نہیں بنا سکتے کیونکہ لوگ اپنے نظریات اور تاثرات ہرگز بدلنا نہیں چاہتے۔ آپ یا کوئی بھی انہیں اس بات پر اتفاق کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ وہ نہیں ماننا چاہتے لیکن مشاہدے نے ثابت کیا ہے کہ یہ انسانی نفسیات ہے کہ اگر پیارسے لوگوں کے ساتھ ہم نرمی اور دوستانہ طریقے سے پیش آئیں۔ ان کو قائل کرنے کی بجائے ان سے نرم اور مخلص روئیے کے ساتھ دوسری عام باتیں کریں اور اپنا یہ رویہ برقرار رکھیں تو ایسے لوگ بہت جلد ہمارے ہم خیال بن جاتے ہیں۔
اسی بات کو امریکہ صدر ابراہم لنکن نے نہایت خوبصورت اور پر اثرانداز میں کہا تھا ’’میٹھا ہپ ہپ کڑوا تھو تھو‘‘۔ آپ کسی کو اپنا طرفدار بنانا چاہیں تو پہلے اسے یقین دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ مخلص ہیں۔ یہی وہ میٹھا شیرا ہے جو اس انسان کے دل سے چپک جاتا ہےا ور میرے نزدیک کسی کی ذہن تک رسائی کا یہ بہترین راستہ ہے۔‘‘
تاجر حضرات پر بھی اب یہ بات واضح ہو گئی کہ ہڑتال کرنے والوں کے ساتھ جارہانہ اور تنقیدی بحث مباحثے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ بات اگر بنتی ہے تو ان لوگوں کی دلجوئی کرنے اور ان کے ساتھ ہمدردانہ اور دوستانہ رویہ اختیار کر کے۔ اسی پالیسی کی بدولت فی زمانہ ملوں وغیرہ میں ہڑتالیں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔
یہاں پر میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔یہ مثال وائٹ موٹر کمپنی کی ہے جس کے ڈھائی ہزار ملازمین نے اپنی اجرتوں میں اضافے کیلئے ہڑتال کی اور کام بالکل بند کر دیا ۔ کمپنی کے صدر رابرٹ بلیک نے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے ذرا بھی غصے کا اظہار نہیں کیا۔ کسی بھی مزدور کو برا بھلا نہیں کہا اور نہ ہی کوئی دھمکی دی اور نہ ہی کسی پر غداری کا الزام لگایا۔ اس کے برعکس انہوں نے ہڑتالی مزدوروں کی تعریف کی اور اخبارات میں اعلان کر دیا کہ ’’جس پر امن طریقے سے ان کی کمپنی کے مزدوروں نے ہڑتال کی ہے اس کی میں تعریف کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہڑتالی مزدوروں کو بیس بال اور بیٹ اور دستانے خرید دئیے اور ایک کھلا میدان کرائے پر لے دیا تاکہ بیکاری کے وقت میں وہ لوگ وہاں بیس بال کھیلیں اور اپنے دماغ کو سکون دیں۔بلیک کے اس دوستانہ روئیے پر مزدوروں کے دلوں میں دوستی کے جذبے نے سر اٹھایااور انہوں نے ہڑتال کے دوران فیکٹری پر پھینکے گئے کوڑے کرکٹ کو سیمٹنا شروع کر دیا اور کام پر واپس آگئے۔ جس کے بعد باہمی بات چیت سے مزدوروں کے مسئلہ کا حل بھی ہوگیا اور مالکان بھی خوش رہے۔ دونوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی رنجش نہیں رہی۔
اسی طرح بڑے بڑے لوگوں نے ایسے کارنامے انجام دئیے ہیں ۔ محض اپنی سوچ کے ذریعے دوسروں کو اپنا گرویدہ بناتے ہیں جس سے عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ سے ایک دلچسپ اورمشہور مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ یہ مثال امریکہ کی ایک مشہور خاتون مسز ڈور تھی ڈے کی ہے۔ اس نے ایک زبردست پارٹی دی اور ہمیشہ کی طرح ایک مشہور ہوٹل کے منیجر مسٹر ایمل سے مدد لی ۔وہ اس کی ہر پارٹی کو بہت عمدہ طریقے سے آرگنائز کرتا تھا مگر اس بار اس نے دھوکہ دیا اور پارٹی ناکام ثابت ہوئی بلکہ منیجر نے پلٹ کر ڈور تھی ڈے کو اپنی شکل بھی نہیں دکھائی۔ اس نے پارٹی میں کھانا کھلانے کے لئے صرف ایک بیرا بھیج دیا جو تجربہ کار بھی نہ تھا۔ خاص معزز مہمانوں کو سب سے آخر میں کھانا سرو کرتا۔ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں پکا ہوا تھا۔ گوشت کچا پکا اور آلو بہت چکنے تھے۔ مہمان تو حیران تھے ہی مگر ڈور تھی بھی شرمندگی اور شاک کی کنڈیشن میں تھی کیونکہ اس کی اعلیٰ درجے کی پارٹیوں کی مثالیں دی جاتی تھیں جبکہ یہ پارٹی نہایت ہی تھرڈ کلاس اور ایکدم فلاپ تھی۔ ڈور تھی نے سوچ لیا تھا کہ وہ ایمل کو اس حرکت کیلئے خوب ڈانٹے گی اور اچھی طرح اس کا دماغ درست کرے گی۔ اتفاق سے ڈور تھی نے ٹیلی ویژن پر انسانی منفی روئیوں کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں ایک دلچسپ تقریر سنی اور فیصلہ کیا کہ و ہ ایمل پر آزمائے گی۔ پھر وہ اگلے روز ایمل سے ملی۔ وہ بہت غصے میں بھرا ہوا تھا اور ڈور تھی کی طرف سے پہل کا منتظر تھا۔ ڈور تھی نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا ’’ایمل! میں دعوت کے موقعوں پر آپ کو اپنے پاس دیکھنا چاہتی ہوں ۔ آپ نیو یارک کے معروف ہوٹل کے منیجر ہیں۔مجھے اس بات کا احسا ہےکہ نہ تو آپ خود خوراک خریدتے ہیں اور نہ ہی خود کھانا پکاتے ہیں۔ اس لئے میری دعوت میں جو ہوا اس میں آپ کا قصور نہیں‘‘۔ ایمل ایکدم ریلیکس ہوتے ہوئے مسکرایا ’’مادام!آپ نے بالکل درست فرمایا۔ ساری خرابی باورچی خانے میں ہوئی۔ میری کوئی خطا نہیں ‘‘۔ ڈور تھی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’میں ایک دو دعوتیں اور کرنا چاہتی ہوں جس کے لئے مجھے آپ سے مشورہ کرنا ہے اور کیا خیال ہے کہ آپ کے کچن کے ملازموں کو ایک موقع اور دینا چاہیے۔‘‘ یقینا مادام! وہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کریں گے۔‘‘ ایمل نے اعتماد سے کہا اور ڈور تی کے ساتھ مل کر کھانے کا مینو سیٹ کرنے لگا۔ ا س دعوت میں ایمل نے بہترین انتظام کیا ہوا تھا۔ کھانے کی میز ا مریکہ کے بہترین گلابوں سے سجی ہوئی مہک رہی تھی۔ ایمل کھانے کے وقت مستقل خود موجود رہا ۔ کھانا بہترین اور خوب گرم تھا۔نہایت نفساست سے چنا گیا۔ کھانا سرو کرنے کیلئے کئی بیرےتھے ،تب بھی ایمل مہمانوں کی خود خاطر مدارات کررہا تھا ۔ یہاں تک کہ سویٹ ڈش اس نے مہمانوں کو سرو کی اور معزز مہمان حیرا ن تھے کہ ایمل پر ڈورتھی نے کیا جادور کر دیا تھا اور وہ ڈورتھی کے مخلص، مثبت روئیے کا سحر ہی تھا جس نے اس کے مخالف ہوٹل منیجر کو اس کے آگے سرنگوں کر دیا تھا۔
ا س مثال سے بھی ظاہر ہوا کہ ’’میٹھا ہپ ہپ کڑوا تھو تھو‘‘۔ اگر آپ کسی کو اپنا ہم خیال بنانا چاہتے ہیں تو گفتگو ہمیشہ دوستانہ انداز میں شروع کیجئے اور یاد رکھیے کہ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص بے حد کینہ پرور ہو اور آپ سے بہت زیادہ حسد رکھتا ہو تو اس کے سلسلے میں آپ کو بس ایک بات کہنی ہے ، ہمارے نظریات جدا ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک دورسے کا احترام نہ کریں۔ یقین کریں وہ شخص آپ کے ساتھ کبھی بھی غلط انداز یا بدتمیزی سے پیش نہیں آئے گا بلکہ کوشش کرے گا کہ آپ سے سامنا ہی نہ ہو۔ ایک بات گفتگو کے دوران اور یاد رکھئے کہ ماحول خوشگوار رہے اور کسی مسئلے پر بحث شروع ہونے کی بجائے دوسرا آپ کی بات کو توجہ اور دلچسپی سے سن کر ٹھیک ہے کہے۔ کبھی ’’نہیں‘‘نہ کہے اور اگر آپ سے اختلاف کرے تو اس انداز میں بات کہے کہ وہ بات آپ کو درست لگے اور آپ کے درمیان دوستانہ فضا قائم رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بحث کرنے سے کبھی کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ دوسرے کے نقطہ نظر سے بات کو دلچسپ پیرائے میں لاکر اپنی بات کی اہمیت ثابت کر دینا اور اسے دوسرے سے منوا لینا ہی گفتگو کا فن ہے۔ وہ لوگ بے حد کامیاب رہتے ہیں جو کسی کے دوست نہ ہو کر بھی ہر کسی کو اپنا ہم خیال بنا لیتے ہیں۔ جو گفتگو کے فن میں انا کو بیچ میں نہیں لاتے بلکہ اپنی ذہانت اور دوستانہ انداز سے غیر کو بھی اپنا بنا لیتے ہیں اور زندگی کا ہر پل اپنے لئے خوشگوار کر لیتے ہیں۔
(مترجم:شاہد)

یہ بھی پڑھیں:  گھر میں سبزیاں اگائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں