imran-khan-green-pakistan

مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ جمہوریت کا نہ ہونا اور بادشاہت کا قائم ہونا تھا جس میں احتساب نہیں ہوتا:وزیراعظم

EjazNews

نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پاکستان کے پہلے ٹیکنالوجی پارک کے افتتاح کے بعد وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کا معیار اور شرح انتہائی کم ہوچکی ہے ،تاہم سب سے اچھا معیار اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہے لہٰذا اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسان جو بھی خواب دیکھتا ہے وہ ممکن ہے، لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کا علم ہی نہیں ہوتا جس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے سوچ کے دائرے کو بڑا کریں جو اپنی ذات سے بالاتر ہو۔دنیا میں جو بھی بڑاآدمی بنا اس نے اپنی ذات سے باہر نکل کر کام کیا، دنیا امیر لوگوں کو یاد نہیں رکھتی بلکہ ان کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے انسانیت کے لیے کام کیا۔
وزیراعظم نے کہا ہمیشہ دل کی بات سنیں کیوں کہ جذبہ صلاحیت پر غالب آجاتا ہے اور جذبہ ہو تو انسان اپنی ہمت سے بھی زیادہ کام کرسکتا ہے۔یہ جذبہ اس صورت میں نکلتا ہے جب آپ اپنے آپ کو چیلنج کریں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے کا عزم کریں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات سے سیکھنے کا موقع ہوتا ہے اور انسان کا اصل امتحان برے وقت سے نکلنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  احتجاج پنجاب حکومت کے خلاف ہے،وزیراعظم کے علم میں لانا چاہتے ہیں:اساتذہ سراپا احتجاج


انہوں نے کہا کہ زندگی میں آنے والی مشکلات مزید آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں لیکن جب آپ اپنے آپ کو چیلنج کرنا بند کردیتے ہیں ۔آپ کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو رول ماڈل کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا رول ماڈل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خود رول ماڈل قرار دیا ہے۔دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی انسان نے وہ کچھ حاصل نہیں کیا جو نبی ﷺنے حاصل کیا لہٰذا ان کی زندگی کی باتوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے اصولوں پر عمل کر کے مدینہ کی ریاست 700 سال تک قائم رہی اور مسلمان عروج پر پہنچے آج ان اصولوں پر مغرب زیادہ عمل پیرا ہے اور خوشحال ہے۔ مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ جمہوریت کا نہ ہونا اور بادشاہت کا قائم ہونا تھا جس میں احتساب نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں خاندانی سیاست جمہوریت کی نفی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  قومی رہنما انڈیا کی دراندازی کے بارے میں کیا کہتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں