hazrat-esma

حضرت اسماءؓ بنت عمیسؓ کا ذکرخیر

EjazNews

ان کا نکاح حضرت علیؓ کے بھائی حضرت جعفر ؓ سے ہواتھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خانہ ارقم میں مقیم ہونے سے قبل مسلمان ہوئیں ۔حضرت جعفرؓ نے بھی اسی زمانے میں اسلام قبول کیا تھا۔ (ابن ہشام)
حضرت اسماءؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور کئی سال تک مقیم رہیں ۔ سات ہجری میں جب خیبر فتح ہوا تو مدینہ آئیں حضرت حفصہ ؓ کے گھر گئیں تو حضرت عمرؓ بھی آگئے، پوچھا یہ کون ہیں۔ جواب ملا اسماءؓ بولے ہاں وہ حبش والی ،وہ سمندر والی، حضرت اسماءؓ نے کہا ہاں وہی۔ حضرت عمرؓ نے کہا ہم کو تم پرفضیلت ہے اس لئے کہ ہم مہاجر ہیں۔ حضرت اسماءؓ کو یہ سن کر غصہ آیا۔ بولیں کبھی نہیں۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے آپ بھوکوں کو کھلاتے اور جاہلوں کوپڑھاتے تھے۔ لیکن ہماری حالت بالکل جداگانہ تھی۔ دور دراز مقام میں صرف خدا اور رسول کی خوشنودی کے لیے پڑے رہے اور بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکان پرتشریف لائے تو انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ ارشاد ہوا انہوں نے ایک ہجرت کی اور تم نے دو ہجرتیں کیں۔ اس لیے تم کو زیادہ فضیلت ہے۔
حضرت اسماءؓ اور دوسرے مہاجرین کو اس سے اس درجہ مسرت ہوئی کہ دنیا کی تمام فضیلتیں ، ہیج معلوم ہوتی تھیں۔ مہاجرین حبشہ جوق در جوق حضرت اسماءؓ کے پاس آتے اور یہ واقعہ دریافت کرتے ۔ (بخاری)
آٹھ ہجری غزوہ موتہ میں حضرت جعفرؓ نے شہادت پائی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی۔ حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آب دیدہ تھے۔ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ آبدیدہ کیوں ہیں۔ کیا جعفرؓ کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ لوگ شہید ہو گئے ہیں۔ میں بچوں کو نہلا دھلا کر ساتھ لے گئی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو اپنے پاس بلایا اور میں چیخ اٹھی۔ آنحصرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچوں کے لیے کھانا پکاﺅ کیونکہ وہ رنج و غم میں مصروف ہیں۔ (مسند احمد)
اس کے بعد مسجد میں جا کر غمزدہ بیٹھے اور اس خبر کا اعلان کیا۔ اسی حالت میں ایک شخص نے آکر کہا جعفر ؓ کی مستورات ماتم کر رہی ہیں اور رو رہی ہیں۔ آپؐ نے ان کو منع کرنے کے لیے بھیجا۔ وہ گئے اور واپس آکر کہا کہ میں نے منع کیا لیکن وہ باز نہیں آتیں۔ آپؐ نے دوبارہ بھیجا۔ وہ پھر گئے اور واپس آکر عرض کیا کہ ہم لوگوں کی نہیں چلتی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم ان کے منہ میں خاک بھردو۔ (بخاری)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر ؓ سے ان کا نکاح پڑھا دیا جس کے دو برس کے بعد ذی قعدہ دس ہجری میں محمد بن ابی بکر ؓ پیدا ہوئے ۔اس وقت حضرت اسماءؓ حج کی غرض سے مکہ آئی تھیں چونکہ محمد ذوالحلیفہ میں پیدا ہوئے تھے۔ حضرت اسماءؓ نے دریافت کرایا کہ میں کیا کروں ارشاد ہوا کہ نہا کر احرام باندھیں۔ (بخاری)
تیرہ ہجری میں حضرت ابوبکر ؓ نے وفات پائی تو وصیت کی کہ اسماءؓ غسل دیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے انتقال کے بعد اسماءؓ حضرت علی ؓ کے نکاح میں آئیں۔ محمد بن ابی بکرؓ بھی ساتھ آئے اور حضرت علی ؓ کے آغوش تربیت میں پرورش پائی۔
38ہجری میں محمد بن ابی بکرؓ مصر میں شہید ہوئے اور گدھے کی کھال میں ان کی لاش جلائی گئی۔ حضرت اسماءؓ کے لیے اس سے زیادہ واقعہ اور کیا ہو سکتا تھا۔ ان کوسخت صدمہ ہوا۔ لیکن نہایت صبر سے کام لیا اور مصلیٰ پر کھڑی ہو گئیں ۔
تم بھی اس واقعہ سے عبرت پکڑو۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں