women-in-kitchan

کھانا پکانا ہی نہیں کھانا کھلانا بھی ایک آرٹ ہے

EjazNews

کھانا پکانا اور کھانا دونوں فن ہیں۔ بعض صرف کھانا کھانے کے فن میں طاق ہوتے ہیں اور بعض کھانا پکانے میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اچھے سے اچھا کھانا کھانے کے باوجودکھانے میں یا دعوت میں عیب نکالتے ہیں ۔ بہر کیف دنیا میں سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جو لوگ خوش اخلاقی ،خوش سلیقگی سے کام کرتے ہیں ، کھانا پکاتے اور مہمانوں اور گھر کے افراد کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ زندگی میں کامیاب ہوتے اور خوشیاں سمیٹتے ہیں۔ مشرق میں ہمیشہ سے ایسی خواتین کو اچھی نظروں سے دیکھا گیا ہے جو کھانا پکانے میں اور گھر کے دیگر کام کاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ جو خواتین ماہر امور طعام ہوتی ہیں گھر میں زمانے میں ان کی تعریف ہوتی ہیں۔
مشر ق میں گو لڑکیاں ہمیشہ ہی سے وفا شعار ، سلیقہ مند اور سگھڑ پن لئے رہتی ہیں ماں بڑی خواتین بچیوں کو سات آٹھ سال کی عمر سے ہی اپنے ساتھ گھر کے کام کاج میں ساتھ رکھتی ہیں یہاں تک کہ بچیاں نویں دسویں جماعت تک پہنچنے تک ماشاء اللہ گھر کا سارا نظام سنبھال لیتی ہیں اور جب شادی ہوتی ہے تو انہیں سسرال میں کسی قسم کی دشواری نہیں ہوتی۔ وہ اپنے حسن انتظام سے گھر داری کرتی ہیں۔
کھانا پکانا ایک ارٹ ہے۔ ایک سائنس ہے’’آج کیا پکایا جائے ؟‘‘ ایک ایسا سوال ہے جو عموماً ہر خاتون خانہ کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے ایک اچھی خاتون خانہ جنہیں بہت سی ترکیبیں یاد ہوں اور جو خود عموماً کھانا پکاتی ہوں۔ انہیں یہ مشکل درپیش نہیں ہوتی۔ اس کے حل کا ایک طریقہ اور بھی ہے کھانا کیا پکایا جائے، کیسا پکایا جائے، کھانے کی افادیت کے حوالے سے بھی ہم مختصراً بات کریں گے۔
کھانا کھانا ایک ضرورت اور مجبوری ہے ہم زندہ رہنے کے لئے کھانا کھاتے ہیں۔ کھانا کھانے کے لئے زندہ نہیں رہتے۔ زندگی میں روز مرہ کے کام کاج میں جو توانائی خرچ ہوتی ہے اسے پورا کرنے کیلئے موسم کی سختی برداشت کرنے کے لئے آنے والی بیماریوں ، حالات سے مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ سے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو کم اشیاء اور محدود اشیاء کھاتا ہے مثلاً شیر خوار بچہ صرف ماں کا دودھ پیتا ہے اس سے بڑا بچہ دودھ، دہی، آلو اور کیلا وغیرہ کھاتا ہے سکول کے بچے بھی ہر قسم کے کھانے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔
لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ پکی عمروں تک پہنچنے کے باوجود لوگ مخصوص ڈشوں یا سبزیوں پر انحصار کرتے ہیں جو کہ ایک غلط رجحان ہے ساری نعمتیں خدا کی عطا کردہ ہیں۔ ہر سبزی، میوہ ، پھل کے خواص، مزاج اور افادیت الگ ہیں۔ ہر موسم کے پھل، سبزیاں ہیں اور انہیں اسی موسم میں ضرور استعمال کرنا چاہئے۔ ان سے موسم کے لحاظ سے جسم انسانی کو وٹامن، پروٹین وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس لئے ہر سبزی اور دال کو عموماً استعمال کرتے رہنا چاہئے۔ اس طرح آپ کے مینو اور انتخاب میں وسعت ہوگی۔ بعض گھرانوں میں آلو، ٹماٹر، پالک اور مٹر کے علاوہ کوئی سبزی نہیں پکتی۔ ہر سبزی، ہر پھل کے فوائد ہیں۔ اس لئے وقتاً فوقتاً ہر سبزی کو اپنے کچن میں پکانے اور کھانے کی نیت سے لا نے کی اجازت دیں خود کھائیں دوسروں کو کھلائیں۔ آپ اپنی شخصیت میں واضح تبدیلی محسوس کریں گی۔
کوشش کریں کہ گھر کے ہر فرد کی پسند کا بھی خیال رکھا جائے۔ باری باری ہر فرد کی پسند کہ ڈش بھی بنا لی جائے۔ اس سے بھی تعلقات میں اضافہ ، خلوص ، اپنایت کا احساس پروان چڑھتا ہے۔ کچی سلاد کو بھی کھانے کی میز کا حصہ بنایا جائے تاکہ وٹامن حاصل ہوں۔
کھانا پکانا اور پیش کرنا دونوں آرٹ ہیں۔ کھانا نکالنے سے پہلے اسے مناسب گرم کریں جتنا نکالنا ہے۔ اسے مناسب برتن میں نکالیں ۔ ایسا نہ لگے کہ برتن چھوٹا اور سالن زیادہ ہو یا سالن بڑے برتن میں کم لگے۔۔۔۔! میز اس طرح سجائیں کہ چاول یا روٹی کے دونوں طرف ایک ایک سالن کی ڈش ہو یا سلاد ہوتاکہ سب کے سامنے ڈش ہو۔
کھانا سکون سے کھائیں۔ اطمینان میانہ روی سے کھائیں، کھانا کہیں بھاگ نہیں جائے گا جس کو جتنا رزق ملنا ہے ضرور ملے گا۔ زیادہ تیزی سے ، بد حواسی سے کھانا جسم کو نہیں لگتا۔ غصے سے ، باتیں کرتے ہوئے کھانا نہ کھائیں جسم کو نقصان پہنچتا ہے۔ کھانا آپ ہی کے لئے پکایا گیا ہے یہ سوچ کر اطمینان سے کھائیں۔ اتنا کھائیں کہ سوئیٹ ڈش کے بعد پانی پینے کی گنجائش ہو۔ جلدی جلدی سے جہاں کھانا ضائع ہو جاتا ہے وہاں آپ کی شخصیت بھی کمزور دکھائی دیتی ہے۔ اگر کہیں گھریلو تقریب میں مدعو ہوں تو میز سجانے میں خاتون خانہ کی مدد کیجئے۔ محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کا سلیقہ سامنے آئے گا۔ کام آسان بھی ہوگا اور سہولت بھی رہے گی۔ کھانا کھا کر عیب جوئی نہ کریں کس مشکل، محنت سے میزبان نے اہتمام کیا۔ اس کے خلوص و محبت سب کو ایک جملہ کی نذر مت کریں۔کیونکہ کل کوئی دوسرا اس طرح کے ریمارکس آپ کے لئے بھی استعمال کر سکتا ہے۔ اسلامی مذہبی کتابوں میں کھانے کے آداب، خاتون خانہ کی ذمہ داریاں وغیرہ بھی لکھی ہوتی ہیں۔ ان کا مطالعہ بھی کریں تاکہ شخصیت میں توازن پیدا ہو آپ اپنے کچن، دستر خوان کو جتنا اچھا رکھیں گی۔ اتنا خوشگوار اثر کھانا پکانے اور کھانا کھانے میں پڑے گا۔ بکھرا ہوا دستر خوان اور بکھرا کچن ذہنی تنائو پیدا کرتا ہے اس لئے دونوں کو صاف ستھرا رکھیں۔ مختصراً ان باتوں کا خیال رکھیں۔
ہر روز مختلف ڈشیں پکائیں۔
سبزی دال کا استعمال روزانہ کریں
کھانا وقت پر گرم نکالیں
میزبان کی مدد کریں۔ میزبان کو کھانے کی تعریف کی جائے۔
کھانے کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھے جائیں۔ خدا کا شکر ادا کیا جائے کہ ساری نعمتیں وہی عطا کرتا ہے
امید ہے کہ ان باتوں کا خیال کرتے ہوئے آپ کچن کی ذمہ داریاں سنبھالیں گی اور ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  سیلز مین آسان نہیں ہے یہ جاب

اپنا تبصرہ بھیجیں