imran-khan-1

کامیاب معاشرے میں میرٹ ہوتا ہے وہ کاروبار کرنے والوں کو ہر طرح کی سہولیات مہیا کرتا ہے:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں میں چیک تقسیم کیے۔ اس کے بعد انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروگرام میں ٹرانسپیرنسی ضرور ہونی چاہیے۔ تاکہ لوگوں کا اعتماد بڑھے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس میں خواتین نے بھی قرض حاصل کرنے کیلئے اپلائی کیا۔ اس پروگرام کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ حکومت بزنس کو پروموٹ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ کا کام ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی رکاوٹ روکے جو بزنس کے راستے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا میں جب انگلینڈ پہلی دفعہ گیا تو اس وقت مانچسٹر کا بزنس پوری طرح یہودیوں کے ہاتھ میں تھا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے دس سالوں کے اندر مانچسٹر کا ٹیکسٹائل کا کاروبار پاکستانیوں کے ہاتھ میں آگیا۔میں سوچتا تھا وہ پاکستانی اپنے ملک میں کیوں کاروبار نہیں کر سکے ،کیونکہ میرٹ نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا جو کامیاب معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں میرٹ ہوتا ہے وہ کاروبار کرنے والوں کو ہر طرح کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ جس نوجوان میں کاروبار کرنے کا جذبہ ہوتا ہے اور جس میں محنت کرنے کی قابلیت ہوتی ہے وہ اوپر آجاتا ہے۔ انہوں نے سپورٹس کی مثال دیتے ہوئے کہا وہ ملک جن کی پچاس ساٹھ لاکھ آبادی ہے ۔وہ زیادہ تمغے لے جاتے ہیں ان کی نسبت جن کی کروڑوں میں آبادی ہے وہ رہ جاتے ہیں۔ کامیاب وہ ملک ہوتے ہیںجو میرٹ بنا لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اوورسیز پاکستانیوں کو دیکھ کر فخر ہوگا۔ انہوں نے پاکستانی نژا د ساجد خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ محنت کرکے اوپر آئے ہیں ۔وہاں محنت کا پھل ملتا ہے۔ ہم جب نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں ہم نئی سوچ کی بات کرتے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ آن لائن سسٹم سے کوئی سفارش نہیں چلتی جو میرٹ پر آئے گا اس کو لون مل جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بزنس کیلئے آسانی پیدا کریں۔ چھوٹے اور میڈیم سائز کی انڈسٹری کو سب سے زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔ بڑے بزنس مین اپنی رکاوٹوں کو کم کر لیتے ہیں۔ چھوٹے بزنس مین کی جب ایک معاشرہ مدد کرتا ہے تو وہ آگے نکل جاتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ فائدہ سمال اور میڈیم انڈسٹری والے اٹھائیں گے ۔انہوں نے ایک کاروبار شروع کیا نہیں چلا، انسان گرتا ہے اور پھر اٹھتا ہے ۔ یہ چھوٹے کاروبار کرنے والے ملک کو آگے بڑھاتے ہیں اور بد قسمتی سے ہمارے ملک میں ان کیلئے سب سے زیادہ مشکلات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 28پوائنٹس اوپر جانا بہت بڑی اچیومنٹ ہے یہ کافی نہیں ہے اور جدوجہد کریں گے اور اس پروگرام کی طرف میری پوری توجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ اس پروگرام میں خواتین نے لون کیلئے اپلائی کیا اور وہ کاروبار کرنا چاہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا ٹورازم ایسی انڈسٹری ہے کسی کو پتہ ہی نہیں اس میں کتنی گنجائش ہے اور سب سے زیادہ نوکریاں ٹور ازم سے ملیں گی اور پہلی دفعہ لوگوں کو پتا چلا ہے کہ پاکستان کتنا خوبصورت ہے۔ ہمارے پاس ٹورسٹوں کو ٹھہرانے کیلئے جگہ نہیں ہے۔ان چھوٹے قرضوں سے لوگ اپنے گھروں کے ساتھ ایک کمرہ بنائیں گے ، گیسٹ ہائوس بنائیں گے ، جس سے ان کا روزگار بھی بڑھے گا اور ملک بھی ترقی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا اب ٹرین حادثے بھی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی طرح ہوں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں