health-cancer

پھیپھڑے کا کینسر۔۔۔۔اپنا بچائو خود کیجئے

EjazNews

آج کل کے آلودہ ماحول، دھوئیں، گندگی کے ڈھیرو ں کی بدولت ہر قسم کی بیماریاں تیزی سے ترقی پذیر ممالک میں پھیل رہی ہیں۔ مگر پھیپھڑوں کے کینسر کو اس لئے زیادہ اہمیت اور توجہ دی جاتی ہے کہ اسے انسان (عام طور پر) خود دعوت دے کر اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے ۔ اس کی وجہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی ، سگریٹ، شراب وغیرہ کا بے پناہ استعمال ہے اور اسی لئے یہ کینسر دنیا کے ترقی یافت ممالک میں بھی عام ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری میٹھی سپار یوں کا استعمال بھی ہے ،جس سے پہلے کھانسی وغیرہ کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو پرانی ہو تے ہوئے پھر پھیپھڑوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر کینسر کے جراثیم کی راہ ہموار کرتی ہے اور یوں اچھا بھلا انسان دیکھتے ہی دیکھتے کینسر کا شکار ہو جا تا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں پھیپھڑوں اور اس کے کینسر کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوں تاکہ ہم خود کو اپنی حد تک اس بیماری سے محفوظ رکھ سکیں۔
پھیپھڑ ے ، انسانی جسم کا نہایت نازک اور حساس حصہ ہوتے ہیں۔ ان کی شکل تکونی ہوتی ہے اور اندر سے یہ اسفنج کی طرح پھولے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ جوڑے کی صورت میں پائے جاتے ہیں اور نظام تنفس کا سب سے اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔ بایاں پھیپھڑا تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ دایاں پھیپھڑا دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے اوربائیں پھیپھڑے سے تھوڑا سا چھوٹا ہوتا ہے۔ پھیپھڑے کے حصوں کو ’’Lobes‘‘ کہتے ہیں۔ سانس لینے کی صورت میں پھیپھڑے آکسیجن کو جسم کے اندر کھینچ کرتمام اعضا تک پہنچاتے ہیں اور سانس باہر پھینک کر جسم کے اندر کی آلودہ ہوا یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو یہ جسم سے خارج کرتے ہیں۔ اس طرح نظام زندگی قائم رہتا ہے، لہٰذا صحتمند زندگی کا انحصار صحتمند پھیپھڑوں پر ہے۔
پھیپھڑو ں کے کینسر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1- Non-small cell lungs cance
2-small cell lungs cancer
پہلی قسم کا کینسر زیادہ عام ہے۔ اس مہلک کینسر کے خلیات جسامت میں لمبے اور بڑے ہوتے ہیں لیکن یہ دوسرے قسم کے کینسر کے مقابلے میں بہت آہستگی سے پھیلتے ہیں۔ یہ ٹیومر تین صورتوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ نہایت مہلک ہوتا ہے اور پھیپھڑے کی نالی کی جھلی کے اندر پیدا ہو کر اپنی شاخیں پھیلاتا ہے ۔اس کینسر کی شرح 33فیصد ہے یہ کیونکہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اس لئے جلد علاج کے دائرے سے باہر ہو جاتا ہے۔ یہ اتنی خاموشی سے پھیلتا ہے کہ پھیپھڑو ں میں موجود ہونے کے باوجود ایکسر ے میں اس کی نشاندہی نہیں ہو پاتی اور جب ہوتی ہے تو یہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے علاج سے پہلے ڈاکٹر کو یہ جاننا ضروری ہوتا ہے مریض ابھی تک کن امراض کا شکار رہا ہے ؟ ۔اُس کے کوئی آپریشن ہوئے ہیں یا نہیں ؟ ۔مریض کا شوگر لیول کیا ہے ؟۔بلڈ پریشر کی کیا کیفیت ہے ؟اور کینسر کی اسٹیج کیا ہے ؟پھر مختلف معائنے اور ٹیسٹ ہوتے ہیں جب تک یہ کینسر مزید بڑھ چکا ہوتا ہے ۔ ریسرچ دانوں کی کوشش ہے کہ حفظ ماتقدم کے طور پر اس کینسر کے بننے کے عوامل پر مکمل قابو پایا جاسکے۔
کینسر کے اسباب:
پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک وجہ تمباکو نوشی ہے جس میں سگریٹ نوشی سر فہرست ہے۔ ماہرین نے سگریٹ کے دھوئیں میں تقریباً پانچ سو مختلف کیمیائی اجزاء دریافت کئے ہیں جو سگریٹ پینے والے کے پھیپھڑوں کے خلیات میں تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ سگریٹ کے دھوئیں کے ذریعے فضا میں پھیل کر آس پاس کے دوسرے افراد کے پھیپھڑوں میں داخل ہو کر انہیں بھی اس تکلیف دہ مرض میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ ان نقصان دہ عناصر کو Carcinogensکہا جاتا ہے۔ یہ خون میں جذب ہو کر سانس کی نالی کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہو کر اس کے خلیات کو اپنا شکار بنا لیتے ہیں ۔ان میں نکوٹین ، بینزوئن یا پائیرین وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ بینزو پائرین کا تمباکو سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ سگریٹ کے کاغذ میں استعمال ہونے والے تارکول کا ایک حصہ ہے اور جب تارکول کو جلایا جاتا ہے تو دھوئیں میں بینزو پائرین کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو پھیپھڑوں میں داخل ہو کر خلیات کو سرطان زدہ کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فیکٹریز جہاں بڑی تعداد میں تارکول کا استعمال مختلف اشیاء بنانے کیلئے ہوتا ہے وہاں حفاظتی تدابیر نہ ہونے کی بدولت اکثر ورکرز کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈیزل ، پیٹرول اور ایسے یہ دوسرے خام معدنی تیل کی By-productsنے بھی پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ مشینوں اور بسوں، گاڑیوں وغیرہ کا دھواں بھی اس مہلک مرض کا باعث ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ کینسر کی وجوہات کو پہلے سے جمع کر کے عام کر دیا جائے تاکہ لوگ حفاظتی تدابیر کر سکیں۔ اسی سلسلے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ تپ دق، بلغمی کھانسی، نمونیا جب حد سے بڑھ جائے تو وہ بھی پھیپھڑوں کے نازک خلیات میں زخم ڈال کر ان کو کینسر کاشکار بننے میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔
بائیو سکوپی:
ایک بہترین طریقہ ہے۔ کینسر کی پھیپھڑوں میں موجودگی کا پتہ لگانے کا۔ اس سلسلے میں منہ کے ذریعے پھیپھڑوں میں ہوائی نالی کے ذریعے ایک آلہ ڈالا جاتا ہے جو ربڑ ٹیوب کی مشابہت رکھتا ہے اور Bronchosopکہلاتا ہے ۔ یہ پھیپھڑوں سے کینسر زدہ خلیات بھی حاصل کرلیتا ہے جو ٹیسٹ کر کے کینسر کی تفصیل معلوم ہوتی ہے۔
سرطانی کیفیت:
کینسر کے مریضوں میں ایک خفیہ قسم کی کھانسی پائی جاتی ہے۔ جس میں سیٹیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس میں بلغم کی موجودگی ضروری نہیں ہے۔ اس کھانسی کے ساتھ درد کی ٹیسیں بھی اٹھتی ہیں اور مریض کا پورا پھیپھڑا لرزتا محسوس ہوتا ہے۔ اس کھانسی میں رات میں شدت پیدا ہو جاتی ہے اور تھوک کا نگلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سانس میں کمی اورسینے میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات خون تھوڑی تھوڑی مقدار میں تھوک کے ساتھ نکلتا ہے۔ ایسے مریضوں میں مختلف ہارمونز کی بھی بہت بے قاعدگی پائی جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہارمونز بہت کم پیدا ہوتے ہیں اور مریض کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ پٹھے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ مریض کی گرد ن اور منہ پر سوجن ہو جاتی ہے۔ یہ سوجن اندرونی عضلات پر بھی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے افعال جیسے بات کرنا، سانس لینا وغیرہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مریض دل میں درد، دم گھٹنا اورا ختلاج قلب کی کیفیات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے ۔ مریض کی بغلوں کی جلد کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے اور ان پر ورم آجاتا ہے۔ چھونے پر ان کی جلد سخت محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز کینسر کے سلسلے میں بغلوں کا چیک اپ ضروری کرتے ہیں۔ مرض اگر پیچیدگی اختیار کر لے تو پھیپھڑوں کی جھلی میں پیپ جمع ہو جاتی ہے۔ جس سے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ خون میں بھی نمکیات کی مقدار اپنی سطح سے گر جاتی ہے اور مریض ذیا بطیس کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ ایک خاص علامت یہ سامنے آئی ہے کہ ناخنوں کے قریب کی انگلیوں کے حصے چوڑے ہوجاتے ہیں جو تشویش کن مرحلہ ہو جاتا ہے۔
مرض کا تدارک یا علاج:
مرض کی ابتدائی سٹیج میں کیمو تھراپی کی جاتی ہے۔ اگر مرض بڑھ گیا ہو تو سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اسی طرح نرخرہ یعنی Larynxجو Wind pipe سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کی علامات اور کیفیات بھی پھیپھڑوں کے کینسر جیسی ہی ہوتی ہیں۔
غرض کہ کینسر کا تعلق پھیپھڑوں کے نظام تنفس کے کسی بھی حصے سے ہو، یہ انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ا س لئے تمام دنیا میں بار بار عوام الناس سے اپیل کی جاتی ہے کہ اپنی زندگی کی حفاظت کیجئے۔ یہ صرف ایک بار ملتی ہے۔ اسے فضول اشیاء کی خاطر خطرے کی نظر مت کیجئے۔ تمباکو، سپاری، سگریٹ، دھوئیں، ماحولیاتی آلودگی سے خود کو اور اپنے ارد گرد کے افراد کو بچانے کی کوشش کیجئے کہ ایک بار بھی اگر آپ کے پھیپھڑے اس موذی مرض کے شکنجے میں آگئے تو پھر زندگی آ پ کے لئے بے معنی ہو کر رہ جائے گی اور دوبار ہ یہ زندگی کی نعمت آپ کبھی نہیں حاصل کر پائیں گے۔ کیا اپنی صحت و زندگی کو دائوں پر لگا کر کوئی فضول شوق پورا کرنا درست بات ہے ؟۔ آپ خود فیصلہ کیجئے؟ اور زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو صحتمند رہیے، کینسر سے بچئے باقی آپ کی مرضی!!!!

یہ بھی پڑھیں:  یادداشت کی طاقت
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں