school-child

میں نہیں کر سکتا

EjazNews

پیارے بچو! استاد کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ بچو یہ قصہ بھی ایک استاد کے گرد ہی گھومتا ہے جو اپنے سکول کے بچوں کی تربیت ایسی کرتی تھی جیسے اپنے گھر کے بچوں کی کی جاتی ہے۔
تو پیارے بچو!ہرسال مس آمنہ کی جماعت میں جب نئے بچے آتے تو پہلے بچوںسے ایک ”کام“کرواتیں۔ آج بھی نئی جماعت میں ا ن کا پہلا دن تھا، بچوں سے تعارف کا مرحلہ ختم ہوا تو مس آمنہ نے انہیں یہ حکم دیا”اپنی کاپی کے ایک صفحہ پر پہلی سے آخری سطر تک یہ جملہ لکھئے ”میں نہیں کرسکتا“ جب سب طلبہ یہ فقرہ لکھ چکے تو استانی نے کہا کہ اپنا اپنا صفحہ دو دفعہ تہہ کر کے کونے میں پڑے کچرے کے ڈبے میں ڈا ل دیں، سب بچوں نے حکم کی تعمیل کی آخر میں مس آمنہ نے بھی اپنا تہہ کیا ہوا صفحہ ڈبے میں ڈال دیا۔ اب انہوں نے ڈبے چاروں طرف گوندے ،سفید کاغذ چپکا دیا اور اسے بند کر دیا۔ پھر ایک طالب علم سے کہا کہ وہ جائے اور مالی سے کدال لے آئے ،جب کدال آگئی تو استانی نے وہ ڈبے اٹھایا جس میں ”میں نہیں کرسکتا“ والے ورق ڈالے گئے تھے اور جلوس کی شکل میں سب بچوں کو اپنے پیچھے آنے کو کہا، استانی طلبہ کو صحن میں لے گئی وہاں ایک کونے کا انتخاب کر کے تین بچوں سے کہا کہ وہ اس ڈبے کی جسامت کے مطابق گڑھاکھودیں۔
جب گڑھا تیار ہوگیا تو استانی نے چار بچوں سے کہا کہ وہ بڑی احتیاط سے کچرے کا ڈبہ گڑھے میں رکھ دیں۔ باقی بچوںسے کہا کہ وہ ایک ایک مٹھی مٹی گڑھے میں ڈالیں۔ آخر میں کدال کے ذریعے باقی مٹی گڑھے میں ڈبہ دفن کر دیا، اب مس آمنہ نے اس قبر کے اوپر ایک تختی لگائی جس پر لکھا تھا ” جس پر لکھا تھا: یہ قبر جس شے کی ہے اس کا نام تھا” میں نہیں کر سکتا“ ۔ استانی نے اپنے شاگردوں کو ایک لیکچر دیا جس کا لب لباب یہ تھا ہم نے آج ” میںنہیں کرسکتا“ کو اس قبر میں دفن کر دیا ہے۔
آج کے بعد ہم میں سے کوئی کسی سلسلے میں نہیں کہے گا کہ ” میں نہیں کر سکتا“ میں نہیں کر سکتا کی تجہیز و تکفین کے بعد یہ معمولی ہو گیا کہ جب بھی کوئی طالب علم کہتا کہ وہ گھر کا کام نہیں کرسکا تو مس آمنہ اسے یاددلاتیں ارے بھئی ”میںنہیں کرسکتا“ کو تو ہم دفن کر چکے ہیں، لہٰذا اب تو الزام نہ دو۔ اس طرح آہستہ آہستہ پوری جماعت کے بچوں میں خوداعتمادی اور سیدھےرکھنے کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگیا۔
بچو!آپ دیکھیں کہ کس طرح استانی کی ایک نئی سوچ نے عملی سرگرمی کے ذریعے طلبہ کے رویے اور سوچ کو تبدیل کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کسی کی ترقی دیکھ کر حسد نہیں کرتے

اپنا تبصرہ بھیجیں