imran-khan-green-pakistan

اوپر والی کرپشن کرنے والے تو باہر چلے گئے ہیں اب نیچے والی کرپشن ہے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

ڈیجیٹل پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا جن کو سمجھ آجاتی ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں جو لوگ مشکل فیصلے کرتے ہیں وہی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں دیکھا کہ جن لوگوں نے رسک لے کر بڑے فیصلے کیے وہی کامیاب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹا فیصلہ اپنی ذات کیلئے ہوتا ہے بڑے فیصلے میں آپ انسانیت کا سوچتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پاکستان پر پہلے توجہ دینی چاہئے تھی۔ اصولاً تو شروع میں اس پر توجہ دینا چاہیے تھی۔ آپ سب جانتے ہیں کہ بڑا مشکل وقت مجھے ملااور پانچ سال تک آپ مجھ سے سنیں گےکہ کتنی مشکل حکومت ہمیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ ہونے سے روپے پر دبائو آتا ہے۔ ہمیں سب سے بڑا خطرہ تھا کہ کہیں ڈالر دو ڈھائی سو روپے کا نہ ہو جائے ۔ اور بطور وزیراعظم میری ساری توجہ روپے کو استحکام میں لانا تھا۔ اسد عمر نے بھی پورا زور لگایا موجودہ ٹیم نے بھی پورا زور لگایا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بارے میں تولوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمیشہ کہتا ہے حالات بہتر ہو ں گے لیکن یہ عمران خان نے اب دنیا کے ادارے بھی کہہ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پاکستان سے ہم پورا فائدہ اٹھائیں گے۔ ای گورننس اس لیے بھی اہم ہے کہ کرپشن نیچے تک پہنچ گئی ہے۔ اوپر والی کرپشن کرنے والے تو باہر چلے گئے ہیں اب نیچے والی کرپشن ہے۔ڈیجیٹل پاکستان میں سب کچھ آپ کے موبائل کے ذریعے ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ شوکت خانم میں ہم ای گورننس 19سال پہلے لے کر آئے۔ سائبر سکیورٹی کے معاملات بہتر کر کے آگے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے جب پہلا خطاب کیا تو میں نے کہا تھا کہ گھبرانا نہیں، بہت سے گھبرا گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے ہمیں پتہ چل رہا ہے ہماری ٹیمیں بن رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کہاں پاکستان پیسے لے کر کسی کی جنگ لڑ رہا تھا ۔اب ہم ٹریڈ کرنا چاہتے ہیں ہم کسی سے پیسے نہیں مانگتے۔ان کا کہنا تھا کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ہم نوجوانوں کی آبادی کو ترقی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرانفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ وقت بڑی تیزی سے بدل رہا ہے ۔جب ہم سکول میں تھے تو سائنس پڑھائی جاتی تھی۔ جب میٹرک تک پہنچے تو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آگئی۔ کالج میں پہنچے تو کمپیوٹر سائنس کا دور تھا اور اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں بہترین کام کریں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ معیشت کی صورتحال آج پہلے سے بہت بہتر ہے اگر پچھلی حکومت سے موازنہ کیا جائے تو معیشت اس سے بہتری کی جانب چل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پروگرام کی درخواستیں 30اکتوبر تک جمع کروائی جاسکتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں