warry

تشویش سے نجات حاصل کیجئے ،یہ آپ کی صحت میں بڑی رکاوٹ ہے

EjazNews

تشویش سے نجات حاصل کریں:
آپ نے اکثر ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جنہیں عموما کسی نہ کسی معاملے میں فکریں لاحق رہتی ہیں ۔ وہ زیادہ تر یہی سوچتے ہیں کہ معاملات بگڑنے والے ہیں ۔ گویا تشویش ایک ذہنی رویہ ہے۔ جوہمیں معاملات کے سلسلے میں ڈرائونی فکروں سے دوچار رکھتا ہے۔
اس دور میں عام ہوئی اس مرض کا خصوصیت سے شکار دکھائی دیتا ہے۔تشویش آدمی میں کئی ذہنی اور جسمانی علامتیں ابھارنے کا سبب بنتی ہے۔ ان باتوں کے علاوہ اس کے ذہن میں ’’خوف‘‘ جاگزیں ہوجاتا ہے اور یہ خوف بے حد پریشان کن ہوتا ہے۔ اس سے بری بات یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے خیالات کو خود ہی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوپر سے وہ پر سکون نظر آنا چاہتا ہے مگر اس کے اندر خوف (تشویش) بڑھتا جاتا ہے۔ تشویش سے نجات حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کریں۔
اپنے خوف ، خواہشات اور دبی ہوئی ضروریات کو تسلیم کر لیں۔ ان کی شناخت کرلیں۔
شناخت کر لی۔انہیں خود اپنے آپ سے نہ چھپائیں۔
خواہشات اور محسوسات کو دبانے سے توانائی ضائع ہوتی ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں ’’مجھے غصہ نہیں آتا‘‘۔
جائزہ لیں آپ کی تشویش کہیں فضول اور بے معنی تو نہیں یہ اکیلے پن کے احساس سے تو نہیں ابھری ہے۔
ان کاموں میں خود کو تھکانے کی ضرورت نہیں جو آپ کی تشویش دور کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں ۔ مصروفیات ذرا دیر کے لئے توتشویش روک سکتی ہے مگر مستقلاً نہیں۔
تشویش ختم کرنے کے لئے حقیقت پسندی بہت ضروری ہے۔ اسے مکمل طور سے ختم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ زندگی میں ہر وقت بے یقینی اور خطرے کا عنصر ضرور رہتا ہے۔ صرف ان خطرات کو پیش نظر رکھیں جو واقعی حقیقی ہیں تھوڑی سی تشویش ہمیں زندہ رکھنے میں معاون ہے۔
ورزش سے بھی تشویش کم ہوتی ہے۔ کم از کم آدھا گھنٹہ ورزش ضرور کیا کریں ۔ کوئی ایسا کام کریں جو جسم کو مسلسل ایک خاص انداز میں حرکت دینےوالا ہو۔
یادرکھیں تصور میں کوئی بات سوچنا اور چیز ہے اورعملاً کچھ کرنا اور چیز ہے۔ لہٰذا خوامخواہ کی سوچوں کو اپنے اوپر مسلط نہ کریں۔
بوریت سے نجات:
اشیاء، افراد یا کام میں دلچسپی نہ ہونے سے ہمارے اندر جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسے بوریت کہتے ہیں۔
اکثر اوقات ہم اسے متبادل مسئلے کا نام دے سکتے ہیں۔ زیادہ تر یہ موجودہ مسئلے کی بے کیفی کی بجائے کسی اور اہم معاملے سے کنی کترانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ بوریت کو کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ لیکن اگر اس پر قابونہ پایا جائے تو یہ بعد میں ڈپریشن کا باعث بن جاتی ہے۔
بوریت سے نجات کے لئے اپنی قوتوں کو حرکت میں لائیں۔ اپنے بارے میں اپنی رائے کو بہترین بنائیں کوئی ایسا کام کریں جو آپ کو اچھا اور با معنی لگتا ہو۔
حال پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں۔
اگر یہ بوریت اس لئے ہے کہ آپ کے اندر کوئی بات اظہار کا راستہ نہ پانے کی وجہ سے بنی ہوئی ہے تو اس کا کھلم کھلا اظہار کریں۔
يادداشت میں ماضی کی کا میابی یا کوئی اور اچھی بات ابھاریں اور اس سےلطف اندوز ہوں ۔
کسی ایسی جگہ جہاں انتظار کرنے کا امکان ہو تو اپنے ساتھ کوئی دلچسپ کتاب یا میگزیشن وغیرہ لے جائیں۔
اپنے کاموں کے بارے میں سنجیدگی سے منصوبہ بندی کریں۔ اپنی موجودہ اختیارات کا جائزہ لیں اور اپنے لئے مناسب مقاصد کا تعین کریں۔
بڑی الجھنوں سے نجات:
ہم سب کی زندگی میں چھوٹی بڑی الجھنیں آتی ہی رہتی ہیں۔ تاہم ایسی الجھنیں جو فوری اور خطرناک ہوں ۔ اگر رفع بھی ہو جائیں تو زخم کا نشان ضرور چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ الجھنیں ہمیں سبق بھی سکھاتی ہیں۔ اکثر دشواریاں شروع میں واقعی بے حد پریشان کن لگتی ہیں ۔ تاہم اس سے دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔
اپنے دل کی آواز سنیں:
کل کو فراموش کر کے اپنے حال کے حقائق پر نگاہ ڈالیں۔ اکثر اس عمل سے دشواری سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی دے جاتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کا کہنا تھا کہ کچھ کرنے سے قبل سوچو ۔مگر آج ہمارے لئے زیادہ موزوں یہ ہوگا کہ ہم پہلے محسوس کریں اور محسوس کرنے کے بعد سوچیں ۔ آدمی جذبات سے خالی ہو کر حرکت میں نہیں آسکتا۔ عقل اور جذباتیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
ناکامی کے چنداسباب:
یہ خیال کہ رقم کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا غلط ہے۔ اس طرح آدمی عمل ہی نہیںکرتا۔
ماضی اور حال کا ٹکراؤ ، اس میں ماضی حال کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتاہے۔
ذہنی طور پر تبادل راستہ نکالنے سے رک جانا۔
یہ سوچنا کہ اب حالات قابو میں نہیں آ سکتے۔
مشکل وقت سے گھبرا جانا، کوئی بھی مسئلہ ہو چوبیس گھنٹے سے زیادہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مت بیٹھیں ۔ اسے بدلنے کے لئے کوشش ضرور شروع کر دیں۔
غیر معمولی مسائل کے حل کی تجاویز:
مسئلہ جتنا دشوار ہوگا اسی قدر اس کا حل بھی غیر معمولی ہوگا۔
زندگی کے مسئلے بھی ، ریاضی کے سوالات کی مانند جوڑنے گھٹانے سے ہی حل ہوتے ہیں۔
کیا ضروری ہے؟ اور کون اس میں اہم ہے؟ دونوں کا پتہ کریں۔
یہ مت سوچیں کہ جس نے آپ کو دشواری میں ڈالا ہے جان بوجھ کر ڈالا ہے۔
کسی کے غلط کاموں کو برا ضرور کہیں اور حقائق کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کریں۔
یاد رکھیں ہم میں سے کوئی فرشتہ نہیں ، اکثر مشکلات غلط فہمیوں سے جنم لیتی ہیں، انہیں عمل سے قبل ہی دور کر دیں۔
پہلے اپنے مسئلے کےسبھی پہلوؤں کو اچھی طرح دیکھ لیں ۔ اس میں اچھی طرح ذہنی اور جسمانی طرز پر شامل ہو کر دیکھیں ۔ خود کو اپنی جگہ سے ہٹا کر دوسروں کی جگہ پر رکھیں ۔ اور سوچیں، دیکھیں دوسروں کا کردار کس طرح معاملے کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے بعد ماضی کے تجربات اور حالات کو بروئے کار لائیں ۔یہ بھی یاد رکھیں کہ آئندہ اب سب کچھ ٹھیک ہی نہیں رہے گا۔ یاتو آپ مشکلات کو تبدیل کر دیں ، یا پھر خود کو تبدیل کر کے اس کا سامنا کریں۔
سائرہ بتول

یہ بھی پڑھیں:  20کروڑ انسان کیسے مرے؟
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں