hazrat-Efra

حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراءؓ

EjazNews

یہ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوئیں ۔ایاس بن بکیر لیثی سے شادی ہوئی ۔صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور بستر پر بیٹھ گئے۔ لڑکیاں دف بجا بجا کر شہدائے بدر کے مناقب میں اشعار پڑھ رہی تھی۔ اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی کچھ اشعارپڑھے جن میں ایک مصرعہ یہ تھا۔
ترجمہ: اور ہم میں وہ نبی ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو اور اس کے علاوہ جو کہتی تھی وہ کہو۔ (بخاری)
حضرت ربیعؓ غزوات میں شریک ہوتی تھیں۔ زخمیوں کاعلاج کرتی تھیں لوگوں کو پانی پلاتی تھیں اور مقتولوں کو مدینہ پہنچاتی اورفوج کی خدمت کرتیں تھیں۔ (مسند احمد)
غزوہ حدیبیہ میں موجودتھیں جب بیعت رضوان کا وقت آیا تو انہوں نے بھی آکر بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بے انتہا محبت تھی۔ آپ ان کے گھر اکثر تشریف لے جاتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپؐ تشریف لائے اور ان سے وضو کے لیے پانی مانگا ۔ ایک مرتبہ دو طباقوں میں چھوارے اور انگور لے کر گئیںآپ نے زیور یا سونا مرحمت فرمایا ۔ (مسند احمد۔ سیر الصحابیات)
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی نے حلیہ دریافت کیا تو بولیں کہ یہ سمجھ لو کہ آفتاب طلوع ہو رہا ہے۔ (اسد الغابہ)

یہ بھی پڑھیں:  حکایات:حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ظالم بادشاہ

اپنا تبصرہ بھیجیں