pregnant

حاملہ خواتین کے لیے بہترین غذائیں

EjazNews

صحت مندی اور توانائی کے لئے حاملہ عورت کو ایسی غذا لینا چاہیے جس میں اضافی مقدار میں پروٹین کیلشیم، آئرن اور وٹامن کی تمام اقسام موجود ہوں۔ بالخصوص وٹامن بی کے تمام گروپ ہوں ۔ اس کی غذا ظاہر ہے عام روٹین کی غذا سے مختلف ہوگی ،اس لئے ایسی غذا میں شامل ہونا چاہیے، اناج، دالیں،گوشت، پتوں والی سبنریاں، دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء ،موسم کے پھل۔ ان سب کو متوازن غذا کے روپ میں حاملہ عورت کور وز کھانا چاہیے، تب ہی وہ صحت مند رہ کر ایک صحت مند اور خوبصورت بچے کو جنم دے سکتی ہے۔ حاملہ خاتون کو یہ بات یقینی بنانا چاہیے کہ وہ جو غذا لے رہی ہےاور وہ اس کے جسم کا حصہ بن کر اسے توانائی بخش رہی ہے کہ نہیں اور ایسا تو نہیں کہ وہ تھکن اور کمزوری محسوس کرتی ہوں۔ ایسی صورت میں اسے اپنی غذا پر مزید توجہ دینا ہوگی ورنہ اس کا خراب اثر بچے پر پڑے گا۔ حاملہ خواتین کو زیادہ مصالحے دار کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ پانی زیادہ سے زیادہ پینا چاہیے اور سب سے زیادہ ایسی غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے جن میں قدرتی وٹامنز اور معدنیات وافر مقدار میں ہوں ۔ جیسے گاجر، مولی، ایرا، پکےہوئے ٹماٹر، وغیرہ وغیرہ۔ ایک بات اور اہم ہے کہ حاملہ خوانین کو روٹین کے لحاظ سے دو تین دفعہ کھانا کھانے کے بجائے تھوڑا تھوڑا کھانا متوازن غذا کے روپ میں دن میں چار پانچ بار لینا چاہیے۔ اس سے وہ زیادہ بہتری محسوس کریں گی ۔ حاملہ خاتون کو اپنے وزن پربھی کنٹرول رکھنا چاہیےکہ وہ ایک حد سے زیادہ نہ بڑھے ورنہ بچے کی پیدائش میں مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں ۔ اس لئے ہر مہینے اپنے وزن کا چیک اپ ضرور کروائیں اور اپنی ڈاکٹر سے مشورہ بھی کرتی رہیں۔

ہمارے ہاں حاملہ خواتین میں سب سے بڑی پرابلم خون دینے کی بدولت وہ خود بھی کمزور ہوجاتی ہیں اور بچے بھی صحت مند نہیں رہتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ ابتداء سے آپ اپنی غذا پرتوجہ دیں اور اس کی غذا استعمال کریں جس میں یہ اجزاء پائے جائیں : پروٹین ، کاربوہائیڈریٹ ، وٹامنز ، آئرن،کیلشیم، وٹامنز وغیرہ کیلوریز بھی حاملہ خواتین کو زیادہ چاہیے ہوتی ہیں۔اگر حاملہ عورت کو زیادہ کیلوریز نہیں ملیں گی تو اس میں توانائی کی کمی ہوگی کیونکہ جسم کیلوریز کو جلا کر توانائی میں تبدیل کرتا ہے اور جب کیلوریز کی مناسب مقدار میں نہیں ہوگی تو پھر جسم پروٹین کو استعمال میں لانا شروع کر دیتا ہے جسکی بدولت پروٹین کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ جبکہ پروٹین کا اصل کام جسم کے ریشوں کو صحت مند رکھنا اور انہیں نشو ونما دینا ہے۔ اس طرح کیلوریز کی کمی حاملہ عورت کی اپنی صحت کے ساتھ ساتھ بچے کو بنیادی طور پر خراب صحت میں مبتلا کرسکتی ہے جو بڑھتی عمر کے ساتھ مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ حاملہ عورت پرمختلف غذائی اجزاء کس انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں اس سلسلے میں ایک تحقیق کے نتائج پیش خدمت ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بریسٹ کینسر:آپ نے خود اپنی حفاظت کرنی ہے

1۔پروٹین (لحمیات) :پروٹین بچے کی نشوونما کیلئے بے حد اہم ہے اور ساتھ ہی حاملہ عورت کے جسمانی اعضاء کیلئے بھی ضروری ہیں جوحمل کے دوران بڑھ جاتے ہیں ۔حمل کے آخری چھ ماہ میں پروٹین کی اضافی ضرورت 1 کلو کے قریب ہو جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے 60-50 گرام پروٹین روزانہ حاملہ عورت کو کھلانا چاہیے۔ پروٹین کے بہترین ذرائع ہیں ،دودھ کی بنی اشیاء، مٹر، دالیں، پنیر ،مچھلی، گوشت، انڈے، خشک چھل۔

2۔وٹامنز: روزانہ وٹامنز کی مقدار میں بھی حاملہ خواتین میں بڑھ جاتی ہیں جو گولیوں کی صورت میں کھانے سے بہتر ہے کہ غذائی اجزاء سے پوری کی جائے کیونکہ اس طرح جسم انہیں براہ راست زیادہ بہتر انداز میں جذب کرتا ہے۔ ان کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں: تازہ پھل، گوشت، مچھلی، انڈے، دود ھ ۔ ان کے متوازن استعمال سے پروٹین سے کیلوریز بھی حاصل ہوتی ہیں۔

3۔آئرن ایسا غذائی جزو ہے جو حاملہ عورت کو سب سے زیادہ درکار ہوتا ہے۔ کیونکہ حمل کے دوران عورت کے جسم میں خون کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔اس لئے آئرن یعنی فولاد کی ضرورت بھی بڑھتی ہے جو کہ ماں اور بچہ دونوں ہی کی صحت مند جسمانی اور دماغی نشوونما کیلئے بے حد اہم ہے۔ عام طور پر حاملہ عورت کو آئرن 10 ملی گرام سے زیادہ ملنا چاہیے لیکن اگر اسے خون کی کمی یعنی anaemia کا عارضہ ہو تو اسے روزانہ 200 ملی گرام آئرن دینا چاہیے۔ یہ ضرورت آئرن کی کیپسول یا انتہائی کیس میں انجکشن سے بھی پوری کی جاسکتی ہے اور غذا کے ذریعے بھی۔ اس سلسلے میں اہم غذائی اجزاء یہ ہیں: سبز پتوں والی سبزیاں، میتھی، پودینہ ، مونگ پھلی ، تل، باجرہ، چنے، مونگ، ارہر، مسور کی دال، خشک لوبیا ،سویا بین ، کھجور، آم، کلیجی، انڈے وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:  ہونے والی ماﺅں کیلئے چند مشورے

4۔فولک ایسڈ: اس جز وکی کمی حاملہ عورت کے بلڈ پریشر میں اضافہ اور رقم کی دیواروں میں جلن پیدا کردیتی ہے۔ فولک ایسڈ کا استعمال متلی، قے اور خون کی کمی کو روکتاہے۔ یہ قدرتی غذا میں عام طور پر زیادہ نہیں ہوتا، اس لئے ڈاکٹرز اسے گولیوں کی صورت میں کھانے کو دیتے ہیں۔ جس کی پابندی ضروری ہے۔

5۔کیلشیم: یہ انتہائی اہم غذائی جزو ہے کیونکہ بچے کی ہڈیوں کی تشکیل کیلئے کیلشیم بنیادی ضرورت ہے۔ اس کی کمی سے بچہ جسمانی معذوری میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ بچے کو کیلشیم ماں کے ذریعے ملتی ہے اس لئے حاملہ خاتون کو اپنی غذا میں کیلشیم کی وافر مقدار کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ کیلشیم کا آسان حصول ان غذاؤں سے ممکن ہے۔ دودھ، دودھ کی بنی مصنوعات ،مکھن، پنیر، دالیں،گوشت کا شور بہ، میتھی، چقندر، انجیر، انگور، تربوز ، مونگ پھلی ، کالے چنے، ارہر کی دال، با جر ہ وغیرہ۔ ان غذائی اجزاء کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خواتین بہتر علاج کیسے حاصل کر سکتی ہیں

6۔پوٹاشیم: حاملہ عورت کے سر چکرانے کی وجہ پوٹاشیم کی کمی ہوتی ہے۔ زیا دہ الٹیاں ہونے سے اور پیشاب آور دواؤں کے استعمال سے بھی پو ٹا شیم کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس لئے عمومی صحت مندی کے لئے حاملہ خاتون کو اپنی غذا میں اس جز کو شامل کرنا چاہیے تا کہ اس کی کمی پوری ہو سکے ۔ یہ دستیاب ہوتی ہے ان اشیاء میں تاز ہ پھل، لہسن ، دودھ، مولی ، آلو، گوشت۔

7۔سوڈیم: اس کو نمک کی صورت مختلف غذائی اجزاء میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کی اہمیت اس لئے ہے کہ بچے کو ماں کے جسم میں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ یہی معدنی جزو آگے چل کر بچوں کے مضبوط دانت بناتا ہے۔ اگر سوڈیم فلورائیڈ کی بچے میں کمی ہو تو تمام عمر وہ مسوڑھوں اور کمزور دانتوں کی بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔

حاملہ عورت کیلئے مثالی غذائی :
ناشتہ:پھل، پھلوں کا جوس، دالیں، قیمہ، ابلے ہوئے تازہ انڈے، پنیر، چپاتی یا ڈبل روٹی ،مکھن ، دودھ، چائے ۔ ( یہ متوازن انداز میں روز کھانا چاہے)۔

دوپہر کا کھانا: چاول، دال ( دال کا شور بہ)، پکی ہوئی یا کچی سبزیاں، چپاتی، سلائس، دودھ، پھل، دہی، انڈے، مچھلی، گوشت (مرغی، بکری، گائے) اور پنیر۔( ان میں سے چار یا پانچ چیز یں بیک وقت منتخب کی جاسکتی ہیں ۔

رات کا کھانا :کھچڑی، سبزیوں کا شوربہ ، چپاتی یا ڈبل روٹی، دودھ، پھل ، مٹر، پنیر، انڈے، مچھلی ، مرغی کا گوشت۔

ان غذائی اشیاء کو اتنی مقدار میں لینا چاہیے کہ اطمینان حاصل ہو اور معدہ بھاری پن محسوس نہ کرے۔ کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد بھوک لگے تو خشک پھل ، دودھ ، دہی ، تازہ پھل کا استعمال بہتر ہے۔ بس یہ ذہن میں رکھیں کہ صحت مند ماں ہی صحت مند بچے کو پیدا کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں