Disability

ذہنی اور جسمانی معذوریوں کو مجبوری نہ بننے دیں

EjazNews

ہر سال 3دسمبر کو معذوری سے بچاؤ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کا اس بات کا شعور بیدارکرنا ہے کہ ذہنی و جسمانی معذوروں سے مشفقانہ برتائو نہ صرف ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ ، بلکہ سماجی و معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 1992ء میں ایک قرارداد پیش کی، جس میں اقوامِ عالم سے اپیل کی گئی کہ دنیا بھر کے معذور افراد اس بات کا بھرپور حق رکھتے ہیں کہ انہیں ایک بہتر زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔جس کے بعد سے ہرسال یہ دن منایا جانے لگا۔
ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ معذوری کا مطلب کسی بھی فرد کا اپنے ہاتھوں، پیروں یا چند ذہنی صلاحیتوں کا مکمل طور پر استعمال نہ کرناہے،لیکن طبّی سائنس معذوری کی تشریح کچھ اور ہی کرتی ہے۔جس کے مطابق معذوری کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں، جبکہ معذوری کا سبب بننے والے عوامل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بعض بیماریاں اور موروثی عوامل ساری عمرمعذوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں معذوری کی بڑی وجہ کمر کے نچلے حصے میں درد رہنا ہے کہ دنیا کی کُل آبادی میں سے9.4فیصد افراد کمر کی تکلیف کا شکار ہیں۔ کمردرد کی سب سے کم شرح کیریبین جزائر اور لاطینی امریکہ میں پائی جاتی ہے۔چند دہائیاںقبل تک بچّوں میں وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈیوں اور خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی کے ٹیڑھے ہونے کا نقص عام تھا۔ایسا بچّہ نہ صرف ناقابلِ علاج تھا،بلکہ عُمر بھر کے لیے معذور بھی ہوجاتا تھا۔اسی طرح ہڈیوں کا بُھربُھرا پن یعنی آسٹیوپوروسس بھی ایک ایسا عارضہ ہے،جو معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔اس عارضے میں ہڈیوں کا حجم کم ہوکر ساخت میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔نیز، متاثرہ افراد کی ہڈیاں بغیر کسی فریکچر کے گلنا سڑنا شروع ہو جاتی ہیں ۔چوں کہ یہ عارضہ خاموشی سے ہڈیوں کو کم زور اور خستہ کرتا ہے، اس لیے عموماً تشخیص تاخیر سے ہوتی ہےاور اگرآسٹیوپوروسس یا آسٹیومائی لائٹس (Osteomyelitis)کے عوارض بروقت تشخیص نہ ہوں، علاج بھی نہ کیا جائے، تو ہڈیوں کے سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔انتہائی پیچیدہ اور خطرناک عارضہ ہے، جو متاثرہ فرد کو معذور کردیتا ہے،کیونکہ اگر ایک بار ہڈی میں خون کی فراہمی منقطع ہوجائے، تو پھر اسے دوبارہ رواں کرنا ممکن نہیں۔ یہ مرض عموماً گھٹنے کے جوڑ کی ہڈیوں کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ تھا کیا؟
معذور ہونے کے باوجود آپ زندگی کو بھرپور جی سکتے ہیں بس طریقہ کار بدلنے ہوں گے

پولیو،جسےبچّوں کا فالج بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک شدید سرایت کرنے والا مرض ہے،جو اپنی خطرناک حالت میں عصبی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔اس کا وائرس منہ کے ذریعے اور بعض حالتوں میں ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر دماغ، اعصاب اور حرام مغز کو متاثر کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں پٹھے یا عضلات کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اس بیماری سے بچاؤ ویکسی نیشن کے ذریعے ممکن ہے۔ تاہم،وہ بچّے، جنھیں پولیو کے قطرے نہ پلائے جائیں، اُن میں مرض سے متاثرہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔بدقسمتی سے ملک عزیز میں پولیو ابھی تک ختم نہیں ہوسکا حالانکہ دنیا میں تقریباً پولیو ختم ہو تا جارہا ہے۔ماہرین کے مطابق پولیو کے حملے کا خطرہ بچّےکی پیدائش کے پہلے برس میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسی لیے پیدائش کے فوراً بعد اس بیماری کے خلاف ویکسی نیشن کروانا ضروری ہے۔ حالانکہ ہمارے ہاں یہ حکومتی سطح پر مفت میں پلائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود کچھ عناصر ان پولیو کے قطروں کو مختلف رنگ دے کر دوسروں کو پلانے سے روکتے ہیں۔
قدیم دور میں جب کوئی فرد فالج کا شکار ہوتا ، تو لوگ مختلف قسم کے توہمات کا شکار ہوجاتے، نتیجتاً مرض بگڑ جاتا اور شفایابی کے امکانات بھی معدوم ہو جاتے۔ بدقسمتی سے اس جدید دور میں بھی اس مرض کے علاج معالجے کے حوالے سے عزیز و اقارب مختلف طرح کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں۔مثلاً کبھی مریض کو جنگلی کبوتر کا خون لگانے کا مشورہ دیا جاتا ہے،تو کوئی مالش کروانے کو کہتا ہے اور ان فرسودہ باتوں کاسارا خمیازہ مریض ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔
تاحیات معذوری کا سبب بننے والا ایک عارضہ فالج بھی ہے۔فالج کا مرض عموماً 50سال کے بعد ہی حملہ آور ہوتا ہے۔کبھی یہ تصور کیا جاتا تھا کہ فالج بوڑھے افراد کا مرض ہے، مگر اب ہر عمر کے افراد اس کا شکار نظر آتے ہیں۔اس مرض کا حملہ مریض کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت تک کی معذوری میںمبتلا کردیتا ہے۔یہ دماغ کا ایک عارضہ ہے، جس میں دماغ کا ایک حصّہ اچانک ہی کام چھوڑ دیتا ہے۔عموماً فالج کا حملہ اچانک ہوتا ہے۔ مریض گھر پر یا کہیں باہر ہو، تو ابتدا میں سر میں شدید درد محسوس ہوتا ہے، چکر آتے ہیں اور وہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ ان میں سے بیش تر مریض سکتے یا کومےمیں چلے جاتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے مریض، جن پر مرض کا شدید حملہ ہوا ہو۔ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ فالج کے اثرات جسم کے کس کس حصے پر مرتّب ہوئے ہیں۔ یعنی دماغ کے کون کون سے حصّے متاثر ہوئے ہیں۔ عام طور پر دماغ کا دایاں حصّہ متاثر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کا بایاں حصّہ مفلوج ہوتا ہے، لیکن بعض کیسز میں اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ مریض کو ہوش میں آنے کے بعد یہ یاد نہیں رہتا کہ اُسے کیا ہوا تھا اور وہ کتنا عرصہ بے ہوش رہا ۔ فالج عارضی یا مستقل نوعیت کا ہوسکتا ہے اور یہ بیماری یا خلیات کے متاثر ہونے پر منحصر ہے۔
مختلف قسم کی معذوریوں سے بچاؤ کے لیے ہمیں ایسے تمام عوامل کا خاتمہ کرنا ہوگا، جو کسی بھی طرح کی معذوری کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ ذہن نشین کرلیں کہ کسی بھی آفت یا حادثے کے وقت سب سے ضروری کام، متاثرہ افراد کو فرسٹ ایڈ فراہم کرناہے۔ دنیا بھر میں لوگ معذور ہوتے ہیں لیکن ہمت نہیں ہارتے ۔ ہمارے ہاں بھی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن لوگوں نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ وہ پڑھے بھی اور معاشرے میں اپنا مقام بھی بنایا لیکن سب لوگ ایسا نہیں کر سکتا۔ تھوڑی سی ہمت عوام کو کرنی ہوگی اور حکومتی فرائض کے بارے میں ہم کیا کہیں اگر وہ نبھا دے اس کی مہربانی ورنہ ہمارے جیسے ملکوں میں حکومتیں جوابدہ نہیں ہوتی اس لیے عوام کو اپنی مدد آ پ کے تحت اپنی زندگیوں کو آسان بنانا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ جب ملبے کا ڈھیر بنا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں