Hazrat-umma-amara

ام عمارہ ؓ کا ذکر خیر

EjazNews

ان کانام نسیبہ ہے۔ ام عمارہ کنیت ہے ان کا پہلانکاح زید بن عاصم سے ہوا۔ پھر عروبہ بن عمرکے نکاح میں آئیں۔ اور ان ہی کےساتھ بیعت عقبہ میں شرکت کی۔ سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ بیعت عقبہ میں 73مرد اور دوعورتیں شامل تھیں۔حضرت ام عمارہؓ کا بھی ان ہی میں شمار ہے۔ ہجرت کے بعد جب لڑائیوں کا سلسلہ ہوا تو یہ اکثر لڑائیوں میں شریک ہوئیں۔ بالخصوص، احد، حدیبیہ، خیبر، عمرة القضاءحنین اور یمامہ کی لڑائیوں میں شریک ہوئیں۔ احد کی لڑائی کا قصہ خود ہی سناتی ہیں کہ میں نے احد کی لڑائی دیکھنے کے لیے جلدی سے ایک پانی کا مشکیزہ لیا کہ دیکھوں مسلمانوں پر کیا گزری اور کوئی پیاسا زخمی ملا تو پانی پلادوں گی۔ اس وقت ان کی عمر پینتالیس برس کی تھی ان کے خاوند اور دو بیٹے بھی لڑائی میں شریک تھے۔ مسلمانوں کو فتح اور غلبہ ہو رہا تھا مگر تھوڑی دیر میں جب کافروں کا غلبہ ظاہر ہونے لگاتو میں حضور کے قریب پہنچ گئی اور جو کافر ادھر کا رخ کرتا اس کو ہٹاتی تھی۔ ابتداءمیں ان کے پاس ڈھال بھی نہ تھی ۔ بعد میں ملی جس پر کافروں کا حملہ روکتی تھیں۔ کمر پر کپڑا باندھ رکھا تھاجس کے اندر مختلف قسم کے چیتھڑے بھرے ہوئے تھے جب کوئی زخمی ہوجاتا تو ایک چیتھڑا جلاتیں اوراس کے زخم میں بھر دیتیں_ خود بھی کئی جگہ سے زخمی ہوئیں۔ بارہ تیرہ جگہ زخم آئے جن میں ایک بہت سخت تھا۔ ام سعیدؓ کہتی ہیں کہ میں نے ان کے مونڈھے پر ایک بہت زخم دیکھا میں نے پوچھا یہ کس طرح پڑا تھا۔ کہنے لگیں کہ احد کی لڑائی میں۔ جب لوگ ادھر ادھر پریشان پھر رہے تھے تو ابن قمیہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں۔ مجھے کوئی بتا دو کہ کدھر ہیں۔ اگر وہ آج بچ گئے تو میری نجات نہیں۔ مصعب بن عمیرؓ اور چند آدمی اس کے سامنے آگئے۔ جن میں میں بھی تھی۔ اس نے میرے مونڈھے پروار کیا میں نے بھی اس پر کئی وار کئے مگر اس پر دوہری زرہ تھی۔ اس لیے زرہ پر حملہ رک جاتا تھا۔ یہ زخم ایسا سخت تھا کہ سال بھر تک علاج کیا مگر اچھا نہ ہوا اسی دوران میں حضور نے حمر الاسد کی لڑائی کااعلان فرما دیا۔ ام عمارہؓ بھی کمر باندھ تیار ہو گئیں مگر چونکہ زخم بالکل ہرا تھا اس لیے شریک نہ ہو سکیں۔ جب حضور حمر الاسد تشریف لائے تو سب سے پہلے ام عمارہؓ کی خیریت معلوم کی اور جب معلوم ہوا کہ افاقہ ہے تو بہت خوش ہوئیں۔
اس زخم کے علاوہ احد کی لڑائی میں اور بھی بہت سے زخم آئے تھے ام عمارہؓ کہتی ہیں کہ اصل میں وہ لوگ گھوڑے پر سوار تھے اور ہم پیدل تھے اگر وہ بھی ہماری طرح پیدل ہوتے جب بات تھی۔ اس وقت اصل مقابلہ کا پتہ چلتا جب گھوڑے پر کوئی آتا اور مجھے مارتا تو میں اس کے حملوں کو ڈھال پر روکتی رہتی اور جب وہ مجھ سے منہ موڑ کر دوسری طرف چلتا تو میں اس کے گھوڑے کی ٹانگ پر حملہ کرتی اور جب وہ کٹ جاتی جس سے وہ بھی گرتا اور سوار بھی گرتا اور جب وہ گرتا تو حضور میرے لڑکے کو آواز دے کر میری مدد کے لیے بھیجتے۔ میں اور وہ دونوں مل کر نمٹا دیتے۔
ان کے بیٹے عبد اللہ بن زیدؓ کہتے ہیں میرے بائیں بازو میں زخم آیا۔ اور خون تھمتا نہ تھا حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس پر پٹی باند لو۔ میری والدہ آئیں اور اپنی کمرے سے کچھ کپڑا نکالا، پٹی باندھی اور باندھ کر کہنے لگیں کہ جا کافروں سے مقابلہ کر۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دوران میں ان کو اور ان کے گھرانے کو کتنی ہی دعائیں دیں اور تعریف بھی فرمائی۔ ام عمارہؓ کہتی ہیں کہ اس وقت ایک کافر سامنے آیا تو حضور نے مجھ سے فرمایا کہ یہی ہے جس نے تیرے بیٹے کو زخمی کیا ہے۔ میں بڑھی اور اس کی پنڈلی پر وار کیا جس سے وہ زخمی ہوا اور ایک دم بیٹھ گیا۔ حضور مسکرائے اور فرمایا بیٹے کا بدلہ لے لیا اس کے بعد ہم لوگ آگے بڑھے اور اس کو نمٹا دیا۔
حضور نے جب ہم لوگوں کو دعائیں دیں تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمائیے کہ حق تعالیٰ شانہ جنت میں آپ کی رفاقت نصیب فرمائے ۔ جب حضور نے اس کی دعا فرما دی تو کہنے لگیں کہ اب مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ دنیا میں مجھ پر کیا مصیبت گزرے۔
احد کے علاوہ اور کتنی لڑائیوں میں ان کی شرکت اور کارنامے ظاہر ہوتے ہیں۔ آنحضرت کے وصال کے بعد ارتداد کا زور شروع ہوا اور یمامہ میں زبردست لڑائی شروع ہوئی تو اس میں بھی ام عمارہؓ شریک تھیں ان کا ایک ہاتھ بھی اس میں کٹ گیا تھا۔ اور اس کے علاوہ گیارہ زخم بدن پر آئے تھے۔ انہیں زخموں کی حالت میں مدینہ طیبہ پہنچیں۔ (طبقات)
حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں یمامہ کی جنگ پیش آئی۔ مسیلمہ کذاب سے جو نبوت کا دعویٰ کرتا تھا اس سے مقابلہ تھا۔ حضرت ام عمارہ اپنے لڑکے (حبیب) کو لے کر حضرت خالد ؓ کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ اور جب مسیلمہ نے ان کے لڑکے کو قتل کر دیا تو انہوں نے منت مانی کہ یا تو مسیلمہ قتل ہوگا یا وہ خود جان دے دیں گی۔ یہ کہہ کر تلوار کھینچ لی اور میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئیں اوراس پامردی سے مقابلہ کیا کہ بارہ زخم کھائے اور ایک ہاتھ کٹ گیا۔ اس جنگ میں مسیلمہ بھی مارا گیا اور ان کی نذر پوری ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ان کو محبت تھی اس کا اصل منظر تو غزوہ احد میں نظرآتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپؐ ان کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے کھانا پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا تم بھی کھاﺅ۔ وہ بولیں میں روزے سے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نوش فرمایا اور کہا روزے دار کے پاس اگر کچھ کھایا جائے تو اس پر فرشتے درود بھیجتے ہیں۔ (مسند احمد)
حضرت ام عمارہؓ کی اس بہادری سے سبق سیکھو

یہ بھی پڑھیں:  ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

اپنا تبصرہ بھیجیں