ahmad-shah-abdali

میر منو، احمد شاہ ابدالی اور چینیانوالی مسجد کے امام مولانا شہریار

EjazNews

نواب معین الملک عرف میر منو مغل حکمران محمد شاہ کے وزیراعظم نواب قمر الدین خاں کا خلف الرشید تھا۔ اس نے سرہند کے میدان میں احمد شاہ ابدالی کے خلاف لڑتے ہوئے غیر معمولی شجاعت اور بے مثال استقلال کا مظاہرہ کیا تھا۔ جب اس کا باپ توپ کے گولے سے زخمی ہو کر دارو گیر جہاں سے آزاد ہو گیا تو محمد شاہ نے اسے لاہور کا ناظم مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس قدر جلد ہو سکے حالات پر قابو پایا جائے اورپنجاب سے ان عناصر کو ختم کرد یا جائے جو فتنہ و فساد پھیلانے کا باعث ہیں۔ مرکز اس سلسلے میں اس کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کرے گا۔
میر منوان ہدایات کے مطابق لاہور پہنچا، ارد گرد کے حالات کا جائزہ لیا اور مقابلہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی۔ ابھی وہ اپنے اس فرض سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ اطلاع ملی کہ احمد شاہ ابدالی سر ہند کی جنگ کا انتقام لینے کےلیے بھاری لاؤ لشکر کے ساتھ لاہور کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔ میر منو نے اپنی فوج کو جمع کیا اور مقابلے کے لیے تیار ہو گیا۔ دونوںجانب کی فوجیں عرصے تک ایک دوسرے کے سامنے پڑی رہیں۔ کبھی کبھار کوئی چھوٹی موٹی جھڑپ ہو جاتی لیکن اس کے ساتھ ہی صلح کے لیے گفت و شنید بھی جاری رہی۔ آخر دونوں فریق (میر منو اور احمد شاہ ابدالی) اس بات پر متفق ہو گئے کہ لاہور کے چار محال یعنی سیالکوٹ، پسرور ، گجرات اور اورنگ آباد کا مالیہ خراج کے طور پر سالانہ احمد شاہ کی خدمت میں پیش ہوتا رہے گا۔ بہم معاہدہ طے ہونے کے بعد ابدالی واپس چلا گیا۔
اس طرح ابدالی کے بیرونی خطرے کو دور کر کے میر منو داخلی فتنوں کی طرف متوجہ ہوا۔ اوران کو ختم کرنے کے لیے اسے وقت مل گیا۔ اس نے اپنے علاقے میں نہایت موثر اقدامات کیے اورتھوڑے ہی عرصے میں پورے علاقے کو پہلے تو مرہٹوں سے نجات دلائی، پھر کامل حزم و احتیاط سے سکھوںکی طاقت کوختم کیا اور ان کی دہشت گردی کی وجہ سے شہری دیہاتی زندگی میں جو تعطل پیدا ہو گیا تھا اس کو رفع کیا۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملتان اور لاہور کے صوبے امن و سلامتی کا گہوارہ بن گئے۔
ان معاملات سےفارغ ہو کرمیر منونے ابدالی کے متوقع حملوں کی روک تھام کے لیے عملی تدابیر اختیار کیں۔ سرحدوں پر مورچے بنائے اور وہاں تازہ دم فوج متعین کی۔ وسائل رسد و رسائل اورآمدو رفت کا پورا انتظام کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام علاقے خطرات کی زد سے محفوظ ہو گئے اور ہرشخص امن و اطمینان کا سانس لینے لگا۔۱۶۱۱ھ (۸۴۷۱ء) کے آخر میں محمد شاہ نے وفات پائی۔ احمد شاہ ابدالی کو اس کی وفات کا پتہ چلا تو اسے میر منو سے صلح کرنے پر بہت افسوس ہوا۔ کیونکہ وہ اس حقیقت سے خوب واقف تھا کہ ایک بادشاہ کی موت اور دوسرے کی تخت نشینی سے کس قدر جھمیلے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر چند وہ میر منو کے مقابلے میں اترناچاہتا تھا مگر معاہدے کی پابندیوں سے جکڑا ہوا تھا، تاہم و ہ ہندوستان پر حملہ کرنے کے بہانے تلاش کرتا رہا، لیکن اس وقت اسے کوئی بہانہ نہ مل سکا۔ ادھر میر منو بھی اس کے عزائم سے غافل نہ تھا اس نے چار محال کے خراج کا چکمہ دے کر اور ایک سال کی رقم ادا کرکے اگرچہ اسے وقتی طور پر شمالی ہند پر حملہ آور ہونے سے روک دیا تھا، لیکن خراج کی پوری رقم چونکہ ادا نہیں کی گئی تھی، اس لیے اس کو بہانہ بنا کر کسی وقت بھی وہ شمالی ہند کو پامال کرنے کے لیے خراج کی بقایا رقم کو وجہ نزاع قرار دے سکتا تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، ابدالی نے بقایا رقم کا مطالبہ کیا اور میر منو نے حسب معمول اسے الفاظ کی شیرینی سے ٹالنا چاہا۔ ابدالی نے یہ سوچ کر کہ فوج کشی کے بغیر یہ رقم وصول نہ ہوگی، فوج کوتیاری کا حکم دیا۔ ایک لشکر جرار کے ساتھ دریائے سندھ عبور کیا اور پوری تیزی سے چناب کے کنارے پہنچ کر دم لیا۔ وہاں سے اپنے دیوان راجہ سکھ جیون لال کو میر منو کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس جھگڑے کو مصالحت کے ساتھ طے کرلے اور جنگ کی نوبت نہ آئے۔ راجہ سکھ جیون لال لاہور پہنچا تو میر منو نے بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا اورپوری خاطر مدارات کی، لیکن اسے خراج کی رقم وصول نہ ہو سکی اور وہ مایوس ہوکر واپس چلا گیا، جس سے احمد شاہ ابدالی کو سخت صدمہ پہنچا۔
دیوان راجہ سکھ جیون لال کو خالی ہاتھ واپس بھیجنے کے فوراً بعد میر منو نے اپنی فوج کو تیاری کا حکم دیا اور ایک زبردست فوج کے ساتھ چناب کی جانب روانہ ہوا۔ اس سے اس کا مقصد شاہ ابدالی پر یہ ظاہر کرنا تھا کہ اس کی دھمکیوں کی اسے پروا نہیں اور وہ لڑنے کو تیار ہے۔ لاہور سے روانہ ہونے سے پہلے اس نے والئی ملتان دیوان کو ڑا مل اور والئی دوآب (جالندھر) آدینہ بیگ کو لکھا کہ وہ اپنی اپنی فوج کو حرکت دیں اور دریائے چناب کے کنارے آکر اس سے ملیں۔ ساتھ ہی احتیاط کے پیش نظر اپنی والدہ اور اہل و عیال کو (جموں)کشمیر بھیج دیا تاکہ وہ حملہ آور کی دست برد سے محفوظ رہیں۔
احمد شاہ ابدالی نے میر منو کے عزم و ثبات کو دیکھ کر اپنے مورچے وزیر آباد اور سوہدرہ کے درمیان قائم کیے۔ مگر یہ مقام بھی اسے پسند نہ آیا تو وہاں سے آہستہ آہستہ سرکتا ہوا شاہدرہ کے قریب پہنچ گیا۔ میر منو بھی سائے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہا۔ اس نے دریائے راوی عبور کیا اور خندقیں کھود کر جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ ابدالی کا لشکر اس کے سامنے اور لاہور شہر اس کی پشت پر تھا۔ اب خندقوں کی اوٹ میں اکا دکا جھڑپیں ہونے لگیں۔ کئی روزیہ سلسلہ جاری رہا مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ البتہ فریقین کی فوجوں کی کثرت سے راوی اور چناب کا درمیانی علاقہ بالکل برباد ہوگیا اور قحط کے آثار نمودار ہونے لگے۔ ایک رات ابدالی نے نہایت خفیہ طریقے سے راوی کو عبور کیا اور محمود بوٹی اور شالا مار باغ کے گردونواح میں اپنا کیمپ قائم کر لیا اور فیصلہ کن جنگ کی تیاری شروع کر دی۔
ادھر میر منو کو اس کا علم ہوا تو اس نے بھی شمشیر بند ہو کر غنیم سے معرکہ آرا ہونے کا عزم کر لیا۔ شہر پنا ،قلعہ اور دوسرے اہم ناکوں کو درست کیا اور خندقوں کا دوبارہ جائزہ لیا۔ اسے یہ دیکھ کا مایوسی ہوئی کہ اس کے مورچے روز بروز کمزور ہو رہے ہیں۔ سامان رسد میں کمی واقع ہوگی ہے اور جانوروں کے لیے چارہ کمیاب ہوگیا ہے۔ ابدالی کے فوجی دستے ہر چیز کی درآمد کو سختی کے ساتھ روک رہے ہیں۔جھڑپیں بدستور جاری ہیں اور شکستہ دیواروں اور فصیلوں کی مرمت ہو رہی ہے۔ اس طرح چار مہینے گزر گئے۔ قحط نے باشندگان شہر کو اپنے آہنی پنجوں میں دبوچ لیا ہے، مگر فوج کے لوگ پوری دلیری سے ابدالی کی تدبیر کو ناکامی سے بدل دینے میں مصروف ہیں اور اس کے ہر حملے کا دندان شکن جواب دے رہے ہیں۔ اس کے آدمی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو میر منو کے فوجی پوری طاقت کے ساتھ ان کو پیچھے مورچوں میں دھکیل دیتے ہیں۔
احمد شاہ ابدالی کو یقین ہوگیا تھا کہ میر منو آخر دم تک لڑے گا، وہ لاہور شہر کاد فاع کرتا ہو ا مر جائے گامگر شہر اس کے حوالے نہیں کرے گا۔ یہ سوچ کر اس نے محاصرے کو اور زیادہ سخت کر دیا اور جن جن راستوں سے شہر میں کھانے پینے کا سامان آتا تھا، ان پر قبضہ کر لیا۔ اس سے شہر کے لوگ بہت زیادہ پریشانی میں مبتلا ہوگئے اور حالات اس درجے ابتر ہو گئے کہ لوگوں نے چھپر کاٹ کاٹ کر چارے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دئیے۔ اس صورت حال کو دیکھ میر منو نے مجلس مشاورت منعقد کی، جس میں دیوان کوڑا م، آدینہ بیگ اور متعدد چھوٹے بڑے امیر شریک ہوئے، انہوں نے تمام حالات کا جائزہ لیا اور افغانوں کے جبر و تشدد اور ظلم و ستم پر سخت نفرت کا اظہار کیا۔ معاملے کے تمام پہلوئوں پر غور کر نے کے بعد متفقہ طور سے فیصلہ کیاگیا کہ یا تو شہرسے باہر نکل کر دشمن پر حملہ کیا جائے اور پوری قوت سے کام لے کر اسے ختم کر دیا جائے یا پھر مصالحت کی کوشش کی جائے ، مگر دیوان کو ڑا مل نے اس کے خلاف رائے دی، اس نے کہا کہ جنگ کو طول دیا جائے کیونکہ دو ہفتے تک گرمی شروع ہو جائے گی، افغان اسے برداشت کرنے کے عادی نہیں ہیں، وہ اس سے گھبرا جائیں گے اور محاصرہ ختم کر کے و اپس جانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ لیکن دیوان مذکور کے اس دور اندیشانہ مشورے پر کسی نے کان نہ دھرے اور سب لوگ پہلی تجویز پر عمل کرنے اور حملے کی تیاریوں میں مشغول ہو گئے۔ چنانچہ۱۲اپریل ۱۷۵۲ء کو زر دار حملہ کیا گیا اور نتیجتاً پہلے ہی حملے میں محمود بوٹی کے کئی مورچوں پر قبضہ کر لیا گیا ۔ احمد شاہ ابدالی نے اپنی فوجوں کی کمزوری دیکھی تو سواروں کو حکم دیا کہ وہ بھی توپ خانے کے ساتھ مل کر حملہ کریں۔
دوپہر تک کوئی فیصلہ نہ ہو سکا، تو پیں آگ برسا رہی تھیں اور لڑائی پوری شدت سے جاری تھی۔ اتنے میں دیوان راجہ کوڑا مل کا ہاتھی ایک قبر میں دھنس گیا اور ایک افغان سپاہی نے پوری تیزی سے آگے بڑھ کر اس کا سرکاٹ لیا اور بطور نذر ابدالی کی خدمت میں پیش کیا۔ میر منو کے لیے یہ بہت بڑا حادثہ تھا اور اس کی فوج میں اس سے بددلی اور انتشار پھیل گیا۔ آدینہ بیگ میدان جنگ سے بھاگ گیا اور فوج تتر بتر ہو گئی۔ میر منو نے حالات پر قابو پانے کی بے حد کوشش کی مگر ناکام رہا۔ مجبوراً باقی ماندہ فوج کو ساتھ لے کر شہر پناہ کے اندر داخل ہوا ۔ لیکن اس کی حالت بالکل قابل اعتماد نہ رہی تھی۔
میر منو کے لیے یہ سخت آزمائش اور شدید ابتلا کا وقت تھا، اس نے ہر طرف سے مایوس ہو کر صلح کے لیے سلسلہ جنبانی شروع کیا اور ابدالی کے پاس اپنے ایلچی بھیجے اور اس کے صدر اعظم شاہ ولی خاں کی وساطت سے گفتگوئے مصالحت کا آغاز ہوا۔ ابدالی بھی تنگ آچکا تھا اور یہ سب اس کی منشا کے عین مطابق تھا۔ چنانچہ معمولی سی ابتدائی گفت و شنید کے بعد اس نے محاصرہ اٹھا لیا اور اپنے ایک معتمد امیر جان خان کو میر منو کے پاس بھیجا کہ اس کو کامل اعزاز و اکرام کے ساتھ اس کے پاس لائے۔ ابدالی اس وقت شالامار باغ میں مقیم تھا۔ امیر جان خاں ،میر منو کو اپنے ساتھ لے کر دربار میں داخل ہوا تو بادشا ہ نے نہایت اعزاز و احترام کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا، مزاج پرسی کی اور بہترین الفاظ میں خیر خیریت پوچھی۔ ادھر ادھر کی بات چیت کے بعد احمد شاہ ابدالی نے میر منو سے کہا۔
’’تم نے ابھی تک اپنے آقا (یعنی میرے)حضور اپنی نیاز مندی کا اظہار کیوں نہیں کیا اور خاص مقصد کیلئے ہمارے دربار میں حاضری نہیں دی؟‘‘۔
میر منو نے کہا: ’’میرا تعلق دوسرے آقا سے ہے۔‘‘
احمد شاہ ابدالی نے طنز کرتے ہوئے کہا: ’’اس آڑے وقت میں تمہارا آقا تمہاری مدد کے لیے کیوں نہیں آیا؟‘‘
میر منو نے جرأت مندانہ لہجے میں جواب دیا: ’’اس لیے کہ وہ جانتا تھا کہ اس کے خادم اپنی مدد آپ کر سکتے ہیں، کسی کے محتاج نہیں ہیں۔‘‘
اس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے میر منو سے پوچھا: ’’فرض کرو ، میں اس جنگ میں تمہارے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا تو تم میرے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے؟‘‘۔
میر منو نے نہایت متانت سے جواب دیا:’’میں اسی وقت اعلیٰ حضرت کا سر اقدس، جناب کے جسم مبارک سے علیحدہ کرتا اور اسے بطور نذر شہنشاہ دہلی کے حضور پیش کرتا۔‘‘
احمد شاہ نے سوال کیا:’’اب تم مجھ سے اپنے ساتھ کس سلوک کی توقع رکھتے ہو؟‘‘۔
میر منو نے پہلے سے زیادہ سنجیدہ شکل بنا کر جواب دیا: ’’میں آپ کے رحم و کرم پر ہوں ،اگر آپ قصاب ہیں تو میرا سر قلم کر دیں، اگر بردہ فروش ہیں تو میرا جسم فروخت کرد یں اور اگر بادشاہ ہیں تو مجھے شاہانہ سلوک کا مستحق قرار دیں۔‘‘
میر منو کے اس جواب سے احمد شاہ ابدالی نہایت متاثر ہوا، اس کا چہرہ چمک اٹھا اور اپنی نشست سے اٹھ کر میر منو سے بغل گیر ہوا، اسے فرزند خاں بہادر رستم ہند کا خطاب دیااور بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت کیا۔
ابھی احمد شاہ ابدالی کا قیام لاہور میں ہی تھا کہ عید کا دن آگیا۔ احمد شاہ کے حکم سے عید کی نما ز کا انتظام مسجد وزیر خاں میں کیا گیا۔ اس کا باقاعدہ اعلان ہوا ، اور امرا و وزرا کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں لوگ مسجد میں جمع ہوئے۔ ان دنوں مسجد وزیر خاں کے خطیب مولانا محمد صدیق لاہوری تھے، وہ عالم دین اور ایک علمی خاندان کے فاضل جلیل تھے۔ ان کے والد بھی مسجد وزیر خاں کے منصب خطابت پر فائز رہ چکے تھے اور سب کے نزدیک قابل ا حترام تھے۔ نماز ختم ہوئی تو مولانا محمد صدیق خطبے کے لیے منبرپر تشریف لائے ، خطبہ شروع ہوا، خطبے کے دوران انہوں نے احمد شاہ ابدالی کی طرف اشارہ کر کے اسے ’’سلطان العادل‘‘ کے لقب سے پکارا۔
اس وقت مولانا شہریار بھی مسجد میں موجود اور نماز میں شریک تھے ۔ وہ عالم گیر علمی شہرت کے مالک تھے، خطیب سے کچھ دور بیٹھے ہوئے تھے ۔ ا ہل لاہور کے نزدیک وہ انتہائی قدر و منزلت کے حامل تھے۔مسجد چینیاں والی میں گزشتہ بیس پچیس برس سے ان کا سلسلہ درس جاری تھا۔ ان کے شاگروں کا حلقہ بہت وسیع تھا، جو ہندوستان کے علاوہ ، ایران ، توران ، افغانستان ، بلخ ، بدخشاں اور ترکستان تک پھیلا ہواتھا اوران تمام ممالک کے طلبائے علم باقاعدہ ان کی خدمت میں آتے اور شریک درس ہوتے تھے۔ خود مسند وزیر خاں کے خطیب مولانا محمد صدیق لاہور ی بھی ان کے شاگر د تھے۔
جب خطبہ ختم ہوا اور مولانا شہریار اپنی جگہ سے اٹھ کر آگے بڑھے تو کسی نے انھیں بتایا کہ آپ کے شاگرد رشید نے محض خوشامد کی غرض سے احمد شاہ ابدالی کو ’’سلطان العادل‘‘ کہا ہے، حالانکہ افغانوں کے بے پناہ مظالم سے تمام ملک چیخ اٹھا ہے۔ مولانا شہریار امام کے قریب پہنچے۔ احمد شاہ بھی وہاں کھڑا تھا۔ مولانا محمد صدیق نے احتراماً استاد کے ہاتھ چومے اور انتہائی تکریم بجا لائے۔ احمد شاہ نے پوچھا ، یہ کون بزرگ ہیں؟‘‘ مولانا محمد صدیق نے کہا، ’’میرے استا د مولانا شہریار‘‘۔ وہ ان کی شہرت و قابلیت سے واقف تھا۔ چنانچہ وہ بھی آداب بجا لایا اور سلام کیا۔ قدم بوسی کرنا چاہی تو مولانا نے منع کر دیا اور فرمایا ’’یہ شریعت کے خلاف ہے۔ اس قسم کی حرکت بالکل نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
پھر اپنے شاگرد سے مخاطب ہو کر کہا۔’’بیٹا! تم خوب جانتے ہو کہ افغانوں نے دہلی شہرکو انتہائی پریشان کیا اور ہرقسم کے ظلم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کےظلم و تشدد کی فریاد کتنی مرتبہ بادشاہ کے حضور کی گئی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ کیا بادشاہ نے اس کا کوئی ازالہ کیا؟ اپنے ظالم سپاہیوں اور ستم گر سرداروں کو سزا دی؟۔ انہیں مظلوم شہریوں پر ظلم ڈھانے سے روکا؟ ۔یاد رکھو، اسلام ایسے بادشاہ کو عادل کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
تمام حاضرین مولانا شہریار کی اس پر تاثیر تقریر سے کانپ اٹھے۔ احمد شاہ ابدالی نے مولانا کو چپ کرانا چاہا مگر انہو ں نے پروا نہ کی اور اپنی بات مکمل کر کے رہے۔
آخر بادشاہ نے کہا۔’’حضرت مولانا! آپ کس کے بارے میں اور کس کے سامنے یہ باتیں کر رہے ہیں؟‘‘
مولانا شہریار نے جواب دیا: ’’میں خوب جانتا ہوں کہ میرا مخاطب کون ہے اور میں کس کے سامنے کھڑا یہ باتیں کر رہا ہوں۔‘‘
احمد شاہ نے کہا: ’’اس گفتگو کا انجام بھی آپ کو معلوم ہے ؟‘‘
مولانا شہریار نے کہا:’’ہاں!شہادت یا جلاوطنی، میں دونوں کے لیے تیار ہوں۔‘‘
احمد شاہ ابدالی نے غصے میں آکر مولانا کی جلا وطنی کا حکم دیا، اور پھر مولانا شہر یار موضع ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور میں جا کر آباد ہو گئے اور وہیں وفات پائی۔
مولانا شہر یار بہت بڑے عالم و بزرگ تھے اور لاہور کی مسجد چینیانوالی میں امامت و خطابت اور تدریس و افتاد کے منصب پر فائز تھے۔ ان کے بارے میں تاریخ کے اوراق خاموش ہیں البتہ روزنامہ امروز 29مارچ 1960ء کے عید نمبر میں ایک مضمون میں ا ن کا تذکرہ ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملوک معزیہ پاکستان و بھارت میں

اپنا تبصرہ بھیجیں