imran-khan

بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز میدان کارزار کا روپ دھار گئیں اور جامعات میں دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیا:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے ہم دنیا کی صف اول کی دانشگاہوں میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق مرتب کریں گے تاکہ ہم طلبہ یونینز کی بحالی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے انہیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں۔
جامعات مستقبل کی قیادت تیار کرتی ہیں اور طلبہ یونینز اس سارے عمل کا لازمی جزو ہیں ۔بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز میدان کارزار کا روپ دھار گئیں اور جامعات میں دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیا۔
ماضی میں طلبہ یونینز میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہو گئے تھے جنہو ں نے ان سرگرمیوں کو ایسے استعمال کیا کہ لوگ طلبہ یونین سے گھبرانے لگ پڑے ۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے ان ہی طلبہ یونین میں سے پاکستان کے بڑے لیڈر بھی پیدا ہوئے ۔ تحریک انصاف کے ساتھ ایک عرصہ رہنے والے جاوید ہاشمی بھی سٹوڈنٹ یونین سے آگے ہیں اور ایسی اور بہت سی مثالیں بھی موجود ہیں۔
مسلم لیگ ن کی ترجمان م ریم اورنگ زیب نے وزیراعظم کے اس ٹویٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران صاحب کی مافیا حکومت پارلیمان، میڈیا، سیاسی مخالفین سمیت ہر اختلافی آواز بند کررہی ہے ۔کنٹینر پر نوجوانوں کو میٹھی باتیں سنانے والے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر جھوٹے مقدمے بنارہے ہیں ۔پرامن طلباءاور اساتذہ پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے۔
طلباءاور اساتذہ کو پرامن اظہار رائے کی آزادی سلب کرنا قابل مذمت اور آمرانہ رویہ ہے۔آج ”پرتشدد“ کا لیکچر دینے والے گزشتہ کل پارلیمنٹ پر حملے، منتخب وزیراعظم کو گلے سےگھسیٹ رہے تھے ۔ایف آئی آر تو پارلیمنٹ پر حملے اور منتخب وزیراعظم کو گلے سےگھسیٹنے کا بیان دینےوالوں پر ہونی چاہئے۔
ایک طرف عمران صاحب طالب علموں کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہیں دوسری طرف ان کی انتظامیہ پرچے کاٹ رہی ہے ۔عمران صاحب طلباءواساتذہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس فوراً واپس لیں۔تمام گرفتار افراد کو فوری رہا کیاجائے، طلباء اور اساتذہ کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کی ورلڈ بینک کے وفد سے ملاقات

اپنا تبصرہ بھیجیں