کیا عورتیں پاکستان میں غیر محفوظ ہو رہی ہیں

EjazNews

پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2019 میں سندھ میں غیرت کے نام پر اب تک 90 سے زائد قتل ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر خواتین تھیں، جبکہ 2018 میں ایسے واقعات کی تعداد 113 رہی تھی۔
سندھ کے ضلع دادو کے نواحی گاؤں میں کم سن لڑکی کو مبینہ طور پر سنگسار کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے، پولیس نے واقع کا مقدمہ درج کرتے ہوئے لڑکی کے والدین سمیت چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔غیرت کے نام پر ہوئے مبینہ قتل کے واقع کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں 30 نومبر کو واہی پندھی تھانے میں درج کیا گیا جس میں قتل، اقدام قتل، جرم کو چھپانے اور شواہد مٹانے کی دفعات شامل ہیں۔
ایف آئی آر میں بچی کی عمر 9 سے 10 سال درج کی گئی ہے تاہم عمر کا حتمی تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
مقامی افراد کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے بیچ کی پہاڑی سرحد کے قریب واقع گاؤں میں جرگے کے مبینہ فیصلے پر سنگسار ہونے والی گل سماں کے قتل اور قبر کی نشاندہی اس کا جنازہ پڑھانے والے مولوی ممتاز لغاری نے کی جس کے بعد پولیس نے واقع کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور نامزد افراد کو گرفتار کیا۔
دادو ایس ایس پی فرخ رضا کا کہنا ہے کہ واقع کی تفتیش جاری ہے ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ لڑکی کی موت کیسے ہوئی، بہت جلد حقائق سامنے لے آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل : آج پشاور زلمی ، ملتان سلطانز جبکہ کراچی کنگز ،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے آمنے سامنے ہوں گے

کراچی کے ڈیفنس میں ایک لڑکی دعا کو اغوا کر لیا گیا جس کی بازیابی معمہ بنی ہوئی ہے۔ جس طرح پاکستان میں عورتیں غیر محفوظ ہو رہی ہیں ڈر لگتا ہے یہاں بھی عورتوں کیلئے حالات انڈیا جیسے نہ ہو جائیں۔ بیٹیاں تو بیٹیاں ہوتی ہیں چاہے وہ انڈیا میں ہو یا پاکستان میں۔

پنجاب میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے لیکن اسکے بعد کسی کو نہیں پتہ کیا ہوا۔ لاہور کے ایک دارلامان کی خاتون کی جب کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو انہوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور دل دہلا دینے والے انکشافات کیے۔

گزشتہ دنوں سندھ کے ضلع قمبر میں مقامی جرگے نے غیر قانونی طور پر قتل کے الزام کا فیصلہ کرتے ہوئے ملزم کی دو کم سن بیٹیوں کا رشتہ کروانے کا حکم دیا تھا مگر پولیس نے بروقت کاروائی کر کے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

سندھ کی صورتحال بھی اچھی نہیں۔ 2013ءمیں سندھ میں خواتین کیخلاف 779کیسز رپورٹ ہوئے۔ جن میں 920افراد نامزد ہوئے اور 432 کا چالان ہوا۔ 2014ءمیں سندھ میں خواتین کیخلاف جرائم میں اچانک 3فیصد اضافہ ہوگیا اور رپورٹ شدہ افراد کی 2619ہوگئی اور نامزد ملزموں کی تعداد بھی تقریباً ڈھائی ہزار ہو گئی جبکہ 1367 افراد کا چالان کیا گیا۔ یہ صورتحال 2016ءمیں مزید خراب ہو گئی جب رپورٹ شدہ کیسز 28سو سے تجاوز کر گئے۔ مگر 2017ءمیں صورتحال میں کچھ بہتری آئی اور رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد کم ہو کر 17سو رہ گئی۔ ان میں 1316 ملزمان میں سے 692 کا چالان ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ نے ہمیں عدالت عظمیٰ میں سرخرو کیا اور پوری قوم نے دیکھا :میاں شہباز شریف

اپنا تبصرہ بھیجیں