حضرت۔اُم۔سلیمؓ

حضرت اُم سلیم ؓ کا ذکر خیر

EjazNews

یہ ایک رشتہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ مشہور ہیں۔پہلے ان کا نکاح مالک بن نضر سے ہوا تھا۔ یہ مدینہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں۔ مالک چونکہ آبائی مذہب پر قائم رہنا چاہتے تھے اور ام سلیم ؓ تبدیل مذہب پر اصرار کرتی تھیں اس لیے دونوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور مالک ناراض ہو کر شام چلےگئے اور وہیں انتقال کیا۔ ابو طلحہؓ نے جو اس قبیلہ سے تھے نکاح کا پیغام دیا۔ لیکن اُ م سلیم ؓ کو اب بھی وہی عذر تھا یعنی ابوطلحہ ؓ مشرک تھے اس لیے وہ ان سے نکاح نہیں کر سکتی تھیں۔ غرض ابو طلحہؓ نے کچھ دن تک غور کر کے اسلام کا اعلان کیا اور ام سلیمؓ کے سامنے آکر کلمہ پڑھا۔حضرت اُم سلیم ؓ نے حضرت انسؓ سے کہا کہ اب تم ان کے ساتھ میرا نکاح کردو۔ ساتھ ہی مہر معاف کر دیا اور کہا میرا مہر اسلام ہے۔ حضرت انسؓ کہا کرتے تھے یہ عجیب و غریب مہر ہے۔ نکاح کے بعد حضرت ابوطلحہؓ نے بیعت عقبہ میں شرکت کی اور چند ماہ کے بعد جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے ۔حضرت اُم سلیمؓ اپنے صاحبزادے حضرت انس ؓ کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا انسؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے پیش کرتی ہوں یہ میرا بیٹا ہے آپ اس کے لیے دعا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۔ اسی زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار میں مواخاۃ قائم کی اور یہ مجمع ان ہی کے مکان میں ہوا۔ غزوات میں حضرت ام سلیمؓ نے نہایت جوش سے حصہ لیا ۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُم سلیمؓ اور انصار کی چند عورتوں کو غزوات میں ساتھ رکھتے تھے جو لوگوں کو پانی پلاتی تھیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
غزوہ احد میں جب مسلمانوں کے جمعے ہوئے قدم اکھڑ گئے تو وہ نہایت مستعدی سے کام کر رہی تھیں ۔ صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ اور حضرت اُم سلیم ؓ کو دیکھا کہ مشک بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں۔ مشک خالی ہو جاتی تو پھر جا کر بھر لاتی تھیں۔ پانچ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب ؓ سے نکاح کیا۔ اس موقع پر حضرت اُم سلیم ؓ نے ایک لگن میں مالیدہ بنا کر حضرت انسؓ کے ہاتھ بھیجا اور کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ اس حقیر ہدیہ کوقبول فرمائیں۔ سات ہجری میں خیبر کا واقعہ ہوا حضرت اُم سلیمؓ اس میں شریک تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہؓ سے نکاح کیا تو حضرت ام سلیم ؓ ہی نے حضرت صفیہؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنوارا تھا ۔ غزوہ احد ، حنین میں وہ ایک خنجر ہاتھ میں لیے ہوئے تھیں۔ ابوطلحہؓ نے دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اُم سلیم ؓ ہاتھ میں خنجر لیے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا کرو گی؟ بولیں اگر کوئی مشرک قریب آئے گا تو اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرا دئیے۔ حضرت اُم سلیم ؓ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے جو لوگ فرار ہو گئے ہیں ان کے قتل کا حکم دیجئے۔ ارشاد ہوا خدا نے خود ان کا انتظام کر دیا ہے۔
حضرت اُم سلیمؓ سے چند حدیثیں مروی ہیں جن کو حضرت انسؓ ابن عباسؓ ، زید بن ثابتؓ، ابو سلمہؓ اور عمر وبن عاصمؓ نے ان سے روایت کیا ہے۔ لوگ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور زید بن ثابتؓ میں ایک مسئلہ میں اختلاف ہوا تو ان بزرگوں نے ان ہی کا حکم مانا۔
ان کو مسائل کے پوچھنے میں کوئی عار نہ تھا۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا حق بات سے شرم نہیں کرتا۔ کیا عورت پر خواب غسل واجب ہے۔ اُم المومنین ، حضرت ام سلمہؓ یہ سوال سن رہی تھیں ، بے ساختہ ہنس پڑیں کہ تم نے عورتوں کی بڑی فضیحت کی ہے۔ بھلا کہیں عورتوں کو بھی ایساہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں، نہیں، ورنہ بچے ماں کے ہم شکل کیوں ہوتے ہیں۔ (مسند)
حضرت اُم سلیمؓ میں بڑے بڑے فضائل اخلاق جمع تھے۔ جوش ایمان کا یہ عالم تھا کہ اپنے پہلے شوہر سے صرف اس بناء پر علیحدگی اختیار کی کہ وہ اسلام قبول کرنے پر رضا مند نہ تھے۔ حضرت ابوطلحہ ؓ نے نکاح کا پیغام دیا تو محض اس وجہ سے رد کر دیا کہ وہ مشرک ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ابوطلحہؓ کو جس خوبی سے اسلام کی دعوت دی وہ سننے کے قابل ہے۔
ترجمہ: ’’ام سلیمؓ نے کہا ابو طلحہؓ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا معبود زمین سے اُگا ہے، انہوں نے جواب دیا ، ہاں تو حضرت اُم سلیم ؓ بولیں تو پھر تم کو درخت کی پوجا کرتے شرم نہیں آتی۔‘‘
حضرت ابوطلحہؓ پر اس تقریر کا اتنا اثر ہوا کہ فوراً مسلمان ہو گئے۔ اُم سلیمؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حد درجہ محبت کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کے مکان پر تشریف لے جاتے اور دوپہر کو آرام فرمایا کرتے تھے۔ جب بستر سے اُٹھتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے اور ٹوٹے بالوں کو ایک شیشی میں جمع کرتی تھیں۔ (بخاری)
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشک سے منہ لگاکر پانی پیا۔ تو وہ اٹھیں اور مشک کا منہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن مبارک مس ہوا ہے۔ (مسند احمد)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سے خاص محبت تھی۔ صحیح مسلم میں ہے:
ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے علاوہ اور کسی کے یہاں نہیں جاتے تھے لیکن ام سلیمؓ مستثنیٰ تھیں۔ لوگو ں نے دریافت کیا تو فرمایا مجھے ان پر رحم آتا ہے۔ ان کے بھائی حِرامؓ نے میرے ساتھ رہ کر شہادت پائی ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اکثر اوقات حضرت ام سلیمؓ کے مکان پر تشریف لے جاتے تھے ۔ حضرت ام سلیمؓ نہایت صابرہ اور مستقل مزاج تھیں۔ ابو عمیر ان کا بہت پیارا اور لاڈلا بیٹا تھا۔ لیکن جب اس نے انتقال کیا تو نہایت صبر سے کام لیا جیسا کہ اس کا بیان پہلے آچکا ہے ۔ یہ بڑی سچی اور صاحب کرامت بی بی تھیں جیسا کہ اس ذیل کے واقعہ سے تم کو معلوم ہو جائے گا۔
ایک مرتبہ ابوطلحہؓ آئے اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں کچھ بھیج دو۔ حضرت اُم سلیم ؓ نے چند روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضرت انسؓ کو دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں۔آپؐ مسجد میں تھے اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے حضرت انسؓ کو دیکھ کر فرمایا کہ ابو طلحہؓ نے تم کو بھیجا ہے۔ بولے جی ہاں ۔ فرمایا کھانے کے لیے کہا۔ ہاں، آپؐ تمام صحابہ کو لے کر ابو طلحہؓ کے مکان پرتشریف لائے۔ ابوطلحہؓ گھبرا گئے اور اُم سلیمؓ سے کہا اب کیا کیا جائے۔ کھانا قلیل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمع کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔ حضرت اُم سلیمؓ نے نہایت استقلال سے جواب دیا کہ ان باتوں کو خدا اور رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے تو حضرت اُم سلیمؓ نے وہی روٹیاں اور سالن سامنے رکھ دیا۔ خدا کی شان اس میں بڑی برکت ہوئی اور سب لوگ کھا کر سیر ہو گئے۔ (بخاری)
یہ نیک بخت خاتون خواتین جنت میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں گیا تو مجھ کو آہٹ معلوم ہوئی میں نے کہا یہ کون ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ انسؓ کی والدہ عمیصا بنت طحان ہیں۔ (مسلم)
تم بھی اُم سلیمؓ کی سیرت سے عبرت حاصل کرو۔

یہ بھی پڑھیں:  کفل کی رہنما خاتون کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں