آپ کا کردار ایسا ہونا چاہئے کہ لوگ آپ کی عزت کریں: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

EjazNews

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ڈیرہ غازی خان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کو اپنی عزت کا خیال سب سے زیادہ رکھنے کی ضرورت ہے آپ دوسروں کو بھی عزت دیں اور آپ کو اپنے کردار کو ایسا بنانے کی ضرورت ہے کہ لوگ آپ کی عزت آپ کے کردار کی وجہ سے کریں نہ کہ آپ کے عہدے کی وجہ سے عہدے آتے جاتے رہتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو ہر جگہ کورٹ بنانے اور سٹاف رکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ ویڈیو لنک کے ذریعے سے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔

گزشتہ روز ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا میرا تعلق بھی ملتان سے ہے اور یہاں کئی سال گزارے ہیں اور ملتان نے سپریم کورٹ کو گھیرا ہوا ہے کیونکہ چیف جسٹس اور جونیئر جج بھی یہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملتان بینچ سے میری یادیں وابستہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اور خالد لطیف نے چیس بھی بہت کھیلی اور شام کو تقریبات ہوتی تھیں اور ہماری ایک کرکٹ ٹیم ہوتی تھی، ملتان کرکٹ کلب گراؤنڈ میں لطیف امرتسری ہمارے پیٹرن تھے جنہوں نے انگلینڈ سے ہمارے نام کی کٹس لائی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ مقدمات کے باعث جج صاحبان وکلا کوزیادہ وقت نہیں دے پاتے جبکہ نئے وکلا زیادہ ہیں اور ان کی رہنمائی کے لیے سینئر وکلا بھی کم ہیں اس لیے جس کی دو سال کی بھی پریکٹس ہے اس کے ساتھ بھی 7 جونیئرز چل رہے ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ علم سیکھنے اورسکھانے کی روایت کوآگے لےکر چلنا ہوگا، تاریخ، حساب اور ادب انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور جج کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ فیصلے کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں ججوں کو لیکچر دیتا ہوں ایک مثال دیتا ہوں اس سے اہم مثال کوئی ہے ہی نہیں، میں ان کو بتاتا ہوں کہ کورٹ روم میں ایک جج صاحب بیٹھا ہے، ان کے آگے اسٹاف بیٹھا ہے، روسٹرم وکیل بحث کرتے ہیں ان کے آگے 10 وکیل اور 40 افراد اپنے مقدمات کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور اس کورٹ روم کے آخر میں دروازہ جہاں ایک قاصد کھڑا ہے جو آواز دیتا ہے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جب وکیل بحث کرتا ہے تو اس کو جج صاحب بھی سنتے ہیں، ان کے مخالف وکیل، پیچھے 10 وکلا اور دیگر افراد اور وہ قاصد بھی سنتا ہے، اگر جج صاحب فیصلہ نہیں فرماتے ہیں تو پھراس جج صاحب اور اس قاصد میں کوئی فرق نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے آخر میں کہا کہ میں آئندہ اس حیثیت میں ملتان، اپنے گھر نہیں آسکوں لیکن میں کسی بھی حیثیت سے اپنے گھر آتا رہوں گا۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ دسمبر میں ریٹائر ہوجائیں گے اور ان کی جگہ جسٹس گلزار احمد نئے چیف جسٹس ہوں گے جن کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک لبیک کیخلاف کارروائی انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کی:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں