teeth

مسوڑوں کی سوزش دانتوں کی بیماری کی شروعات ہے

EjazNews

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بتیس دانت عطا کیے ہیں، وہ اس قدر مہارت اور ترتیب سے منہ میں نصب ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے،بلکہ اش اش کر اُٹھتی ہے۔معاً منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے،’’اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘۔یہ32دانت جبڑے کی دو ذیلی ہڈیوں کے اندر پیوست ہوتے ہیں۔طبّی اصطلاح میں اوپری جبڑا”maxilla” اور زیریں جبڑا “Mandible” کہلاتا ہے۔ ان دونوں کے اندر ہڈیاں بالترتیب “Maxillary bone”اور “Mandible bonکہلاتی ہیں۔ اور یہ سب جس فریم میں جڑے ہیں، وہ “Alveolus”کہلاتا ہے۔ ان تمام ہڈیوں کو ایک پنک رنگ کے سافٹ ٹشو یعنی مسوڑھے نے جکڑا رکھاہے، جسے”Gingiva” کہتے ہیں۔ اکثر اوقات ڈینٹل ہائیجین برقرار نہ رکھنے سے مسوڑھوں پر مختلف عوامل اثر انداز ہونے لگتے ہیں۔مثلاً فاسد رطوبت خارج ہونا اور خون رِسنا وغیرہ وغیرہ۔ حتیٰ کہ ٹوتھ برش کرنے سے بھی کوئی افاقہ نہیں ہوتا۔یہ مرض مسوڑھوں کی سوزش یا مسوڑھوں سے خون رِسنا کہلاتاہے۔اصل میں بعض اوقات باقاعدہ برش نہ کرنے سے کھانے کے ذرّات دانتوں کی اندرونی اور بیرونی سطح پر جمنا شروع ہوجاتے ہیںاورکئی روز متواتر برش نہ کرنے سے یہ ذرّات ایک سخت یا کھردری تہہ کی صورت اختیار کرلیتےہیں، نتیجتاً دانتوں کی periodontal membrane متاثر ہوجاتی اوردانت اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔ منہ سے ناگوار بُو آنے لگتی ہے اور ہلکی ہلکی سوزش بھی ہوجاتی ہے، جس کا فوری علاج ضروری ہے۔
علاوہ ازیں ،ہم روزمرّہ مختلف اقسام کی اشیاء کھاتے ہیں، جن سے سب سے زیادہ دانت ہی متاثر ہوتے ہیں۔پھر آج کل فاسٹ فوڈز، پیزا اور اسنیکس کا استعمال بھی خاصا بڑھ چُکا ہے۔ان اشیاء میں چوں کے کیمیکلز شامل ہوتے ہیں،جو دانتوں کی سطح پر جم جاتے ہیں اور بار بار کھانے سے ان کی تہیں جمتی چلی جاتی ہیں۔مزید براں، چائے اور کافی سے کیفین، تمباکو نوشی سے نیکوٹین اور پان سے کتّھے کی بھی مختلف تہیں دانتوں پر جمنے سے داغ پڑجاتے ہیں اور دانتوں کے بیرونی حصّے کا قدرتی رنگ متاثر ہوجاتا ہے۔ان کیمیکلز کی متواتر تہیں بھی انتہائی موٹی اور سخت تہہ کی صورت اختیار کرلیتی ہیں،جسے”Plaque formation” اور عرفِ عام میں”Calculus”بھی کہا جاتاہے۔اس سےمسوڑھے کم زور اور متوّرم ہوکر ہلنے لگتے ہیں۔یہ مرض ماس خورا”Gingivitis”کہلاتا ہے، اس کا مؤثر علاج اسکیلنگ ہے۔جس طرح گاڑیاں، موٹر سائیکلز، انجنز اور مشینریز کی کچھ عرصے بعد ٹیوننگ اور اوور ہالنگ کی جاتی ہے، تاکہ روانی، پائیداری اور مضبوطی برقرار ہے، بالکل اسی طرح دانتوں کی اسکیلنگ بھی چند ماہ بعد کروا لینی چاہیے۔آج کل تو الٹراسونک اسکیلر(Ultrasonic Scalers)کے ذریعے بھی اسکیلنگ کی جاتی ہے۔ عرض کہ ہر فرد کو اپنے دانتوں سے متعلق محتاط رہنا چاہیے، تاکہ کسی خرابی کی صورت میں بروقت علاج کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  کم خوراک میں کمزوری نہیں صحت ہے
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں