cleaver-boy

دروازے کی گھنٹی

EjazNews

جاوید جلدی سے آئو اور بازار سے مجھےسودا لادو ،جاوید:جی امی ۔
میں نے امی سے پیسے لیے اور بازار سے سودا سلف خریدنے کیلئے نکل پڑا۔ بازار سے گھی خریدنے کے بعد میں واپس آرہا تھا کہ ایک گھر کی گھنٹی دیکھ کر ناجانے مجھے کیوں شرارت سوجھ گئی۔ ادھر ادھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا،میں نے بغیر سوچے سمجھے دوپہر کا وقت تھا ایک گھر کی گھنٹی بجادی ۔ میرا خیال تھا کہ میں گھنٹی بجا کر بھاگ جائوں گا،ابھی میں بھاگنا ہی چاہتا تھا کہ گھر کے اندر سے چوکیدار نکل کر میرے پیچھے لپکا۔ میں نے جو چوکیدار کو دیکھا تو بھاگنا شروع کر دیا۔
اب صورت حال یہ تھی کہ میں آگے آگے بھاگ رہا تھا اور موٹا تازہ چوکیدار میرے پیچھے یہ کہتے ہوئے بھاگ رہا تھا کہ آج نہیں چھوڑوں گا۔ تم روز گھنٹی بجا کر بھاگ جاتے ہو۔ شاید اس سے پہلے بھی میری ذہنیت کا کوئی بھائی گھنٹی بجا کر بھاگ جاتا ہوگا۔
میں سڑک پر بھاگ رہا تھا، میں نے سوچا کہ چوکیدار سڑک پر شور مچا کر مجھے آسانی سے پکڑ سکتا ہے، یہ سوچ کر میں ایک گلی میں مڑ گیا، ایک گلی سے دوسری اور تیسری گلی میں۔ بھاگتے ہوئے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو چوکیدار کا کہیں دور تک پتا نہیں تھا۔ میں دل میں بہت خوش ہوا کہ چلو مصیبت سے نجات ملی۔
تھوڑی دیر بعد مجھے کسی کے بھاگنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے مڑ کر جو دیکھا تو ہماری جان نکل گئی۔ کم بخت چوکیدار یہاں پر بھی آگیا تھا۔ میں نے پھر بھاگنا شروع کر دیا۔
پیاس کے مارے میرا برا حال ہوگیا۔ ابھی میں ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ نہ جانے کم بخت چوکیدار کتنا ستایا ہوا تھا جو میری جا ن چھوڑ ہی نہیں رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر ایک جگہ رک کر ہانپنا شروع ہو گیا ۔اس سے بولا نہیں جارہا تھا۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور پہلے سے زیادہ تیزی سے بھاگنا شروع کر دیا۔
اور اتنی تیزی سے بھاگنا شروع کیا کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور گھر پہنچ کر ہی سانس لی۔ اور وہ دن اورآج کا دن میں نے پھر کسی کے گھر کی گھنٹی نہیں بجائی۔ کیوں کہ اس دن میں نے بہت مشکل سے اپنی جان بچائی۔
اور آج میں سوچتا ہوں یہ تھی بھی ناانصافی کہ اگر کوئی سویا ہو یا بیمار ہو اور اس کے گھر کی گھنٹی بجا کر آپ بھاگیں تو یہ کس قدر زیادتی ہے۔
(عاصم شہزاد)

یہ بھی پڑھیں:  قصہ کبڑے بھائی کا
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں