urin-pain

پیشاب کے امراض

EjazNews

پیشاب کے قطرے گرنا:
کچھ نوجوان پیشاب کرنے کے بعد قطرے گرنے کی شکایت کرتے ہیں۔ دراصل پیشاب کی نالی نہ صرف لمبی ہوتی ہے بلکہ سیدھی نہیں ہوتی بلکہ اس کی شکل انگلش کے حرف sجیسی ہوتی ہے جس نوجوان کی بینائی ذرا زیادہ ٹیڑھی ہو تو اس کے نچلے حصے میں پیشاب کے چند قطرے رہ جاتے ہیں۔ یہ بھی کوئی بیماری نہیں اور نہ ہی اس کے علاج کی ضرورت ہے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد چند لمحے انتظار کریں تا کہ سارا پیشاب اچھی طرح خارج ہو جائے۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے خصیوں (Testicles) کو تھوڑا سا اوپر اٹھائیں اور پھر پیشاب کی نالی کو بالکل نیچے (Root) سے دبایا جائے دباتے دباتے آخرTip تک پہنچ جائیں۔ اس عمل کو دو تین بار دہرائیں پھر عضوکو پانی سے دھولیں۔ قطرے آنے بند ہو جائیں گے۔ پیشاب سے کپڑے پلید ہو جاتے ہیں ۔
قطروں کی صورت میں پاکی کے لیے وضو کے بعد مخصوص جگہ کپڑوں پر پانی چھڑک لیا جائے۔ (صحیح مسلم)
قطروں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیگل (Kegel Exercise) کی مشق کی جائے۔ اس مسئلہ کے حل کا یہ ایک بہت موثر طریقہ ہے۔ اس مشن میں پیشاب اور پاخانے کو۔ روکنے والے مسلز کی مشق کی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف سرعت انزال کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے بلکہ بعض افراد کا ذکر موٹا ہو جاتا ہے۔ مشق کے لیے ایک بار باتھ روم جائیں۔ پیشاب کریں درمیان میں 3 سیکنڈ کے لیے پیشاب کو روک لیں پھر چھوڑ دیں۔ پھر تین سیکنڈ کے لیے روئیں اور چھوڑ دیں۔ اس طرح10 منٹ پیش کریں اور نوٹ کریں کہ وہ کون سے مسلز ہیں۔جن کو (Contract) کر آپ پیشاب کو روکتے ہیں۔ بعد ازاں باتھ روم جائے بغیران مسلز کوسیکڑ نے کی دن میں تین بار دوپہر اور شام مشق کریں۔ پہلے ہفتے پانچ پانچ بار تین تین سیکنڈ کے لیے مسلز کو بھینچنا ہے۔ وقت کا اندازہ کرنے کے لیے گھڑی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ تین بار ایک ہزار ایک ایک ہزار دو ایک ہزار تین گنیں تین سیکنڈ ہو جائیں گے۔ دوسرے ہفتے یہی مشق 10-10 بار پانچ پانچ سیکنڈ کے لیے کر ہیں۔ تیسرے ہفتے 15’15- بار اور 10-10 سیکنڈ کے لیے مشق کی جائے۔ چوتھے ہفتے 10-20 بار اور 15-15 سیکنڈ کےلئے پانچویں ہفتے 20-20 بار اور 20-20 سیکنڈ کے لیے پیش کی جائے۔ چھٹے ہفتے بھییہیمشق کریں۔ عموما6ہفتوں کے بعد نہ صرف قطرے آنا بند ہو جاتے ہیں بلکہ فرد کو انزال پربھی کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے اور پھر حسب ضرورت جونہی ان مسلز کو بھینچا جائے گا انزال رک جائے گا۔ دو ہفتوں کی مشق کے بعد انزال بہت پرلطف ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مشق نظام ہضم کو بھی بہتر کرتی ہے۔
بعض اوقات قطرے نکلتے ہی نہیں کیونکہ چیک کرنے پر کپڑے خشک ہوتے ہیں ۔ اس صورت میں فردکوقطرے نکلنے کا صرف احساس اور وہم ہوتا ہے جبکہ قطرے نکلتے ہیں۔ اگر یہ وہم زیادہ ہو تو پھر کسی ماہرنفسیات سے علاج کرائیں کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جس کوOCD کہا جاتا |ہے۔
پیشاب کا دودھیا پن جنسی کمزوری کی علامت ہے ؟ |:
نوجوان الف کا پیشاب دودھیا ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ وہ اس وجہ سے جنسی طور پر کمزور ہو گیا کیونکہ نیم حکیم اسے شدید جنسی بھاری اور کمزوری بتا کرنوجوانوں کو خوف زدہ کرتے ہیں۔ الف نے ایک معروف ہومیو ڈاکٹر سے علاج کرایامگر کچھ فرق نہ پڑا۔ اس دوران اس کی بیوی اسے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلی گئی ۔ حالانکہ اس دودھیا پن کا جنس(Sex )اور مردانہ قوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ نیم حکیموں کا خیال ہے کہ منی ہے جو پیشاب میں شامل ہو کر بہہ رہی ہے اور چونکہ منی خون سے بھی زیادہ قیمتی ہے لہٰذا اس دودھیا پن سے فردجسمانی اور جنسی طور پر کمزور ہوجاتا ہے۔ یہ ایک نہایت غلط بات اور جہالت ہے کیونکہ منی اور پیشاب کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ عام حالات میں پیشاب کی نالی کا منہ بند ہوتا ہے اور یہ صرف اس وقت کھلتا ہے جب فرد نے پیشاب کرنا ہو۔ پیشاب کا یہ دودھیاپن پیشاب میں فاسفیٹ کی زیادتی کی وجہ سے ہوتاہے جو عموماً زیادہ سبزی کھانے والے لوگوں میں پایا جاتا ہے لیکن ہر سبزی کھانے والے کے پیشاب میں فاسفیٹ کی زیادتی نہیں ہوتی ۔ تاہم یہ زیادتی کوئی بیماری نہیں اور نہ ہی اس کا جنسی کمزوری کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ لہٰذا اس کے علاج کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اسی طرح بعض اوقات دوا کھانے سے بھی پیشاب کا رنگ بدل جاتا ہے۔
دودھیا پن کی دوسری وجہ پیشاب میں ایک مادہ(Albumh )کا شامل ہونا ہے۔ اگرچہ اس کا بھی جنسی کمزوری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تاہم یہ گردوں کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے ۔مگرایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس کا علاج کرایا جائے ۔ آپ اپنے طور پر بھی پیشاب کو چیک کر سکتے ہیں کہ آیایہ( Albumin )ہے یا فاسفیٹ ۔ اس کے لیے شیشے کے گلاس میں تھوڑا سا پیشاب لیں ۔ اس میں نمک کے تیزاب کے 2/3قطرے ڈالیں۔ اگر پیشاب سفید ہو جائے تو فاسفیٹ کی زیادتی ہوگی اور اگر سفید نہ ہو تو(Albumin )کی علامت ہوگی اس صورت میں کسی اچھے ڈاکٹر( Urologist )سے رابطہ کریں۔
بعض مردوں کی منی مباشرت کے دوران مثانے میں چلی جاتی ہے جس سے پیشاب دودھیا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ عموماً پیشاب کی نالی کا آپریشن ہوتا ہے۔ یہ نقصان دہ نہیں معنی خود بخود بعد ازاں پیشاب کے ساتھ خارج ہو جاتی ہے لیکن بہتر ہے کہ کی ڈاکٹر کو چیک کرالیا جائے ۔
دودھاری پیشاب خرابی ؟:
دوسری پریشانیوں کی طرح دو دھاری پیشاب بھی ایک عام الجھن ہے۔ پیشاب کی نالی نرم اور لچکدار ہونے کی وجہ سے پچکی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ اس وقت حسب ضرورت کھل جاتی ہے جب پیشاب پانی اس میں سے خارج ہوتی ہے۔ جب پیشاب کی نالی میں سے پیشاب خارج نہ ہورہا ہو تو بینائی اس میں موجود رطوبت کی وجہ سے چپک جاتی ہے۔ ایسی حالت میں جب کبھی پیشاب کیا جائے تو اس کا امکان ہوتا ہے کہ نالی اپنے قطر کے بیچ کے حصے میں چپکی رہے گی اور چکے ہوئے حصہ کے دونوں طرف کھل جائے۔ اس طرح خارج ہونے والا پیشاب دو دھاروں میں خارج ہوتا ہے۔ جب پیشاب کی دھار زیادہ تیز ہو جائے تو یہ دودھار میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یعنی پیشاب کا بھی کبھار دودھاروں میں خارج ہونا کوئی بیماری اور خرابی نہیں۔
سفید اور زردرنگ کا پیشاب ۔بیماری ؟:
پیشاب کا زرد یا پانی کی طرح ہونا بڑی حد تک موسمی حالات پرمنحصر ہے۔ سخت گرمی کے دوران میں جب پسینہ زیادہ خارج ہوتا ہے تو پیشاب کی مقدارکم اوررنگ زرد ہو جاتا ہے۔ موسم سرما میں پسینہ خارج ہونے کی وجہ سے پیشاب ہلکے زردرنگ یا پانی جیسا ہوتا ہے۔ پیشاب کے رنگ میں بھی تبد یلی اس پرمنحصر ہے کہ پانی کس قدر پیا۔ پانی کے کم یا زیادہ پینے کی وجہ سے بھی پیشاب کا رنگ زرد یا بے رنگ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض ادویات کے استعمال کی وجہ سے بھی پیشاب کا رنگ بدل جاتا ہے۔ یہ سب کچھ نارملہے نہ کوئی بیماری۔
پیشاب میں جلن اور خون:
بعض اوقات فرد پیشاب خارج کرتے ہوئے جلن محسوس کرتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ پیشاب میں تیزابیت کا بڑھ جاتا ہے۔ وہ لوگ جو گوشت وغیرہ زیادہ کھاتے ہیں مگر پانی کم پیتے ہیں ان کے پیشاب میں تیزابیت بڑھ جانے کی وجہ سے جلن ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پراسٹیٹ یا مثانے میں انفیکشن کی وجہ سے بھی جلن ہوتی ہے۔ کبھی کبھار پیشاب کے ساتھ خون بھی خارج ہوتا ہے۔یہ خون کبھی پیشاب کے شروع میں، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں آتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مگر عام وجوہات میں مثانے میں پتھری کا ہونا، پیشاب کی نالی، پراسٹیٹ یا مثانے کی انفکشن شامل ہے۔ تاہم اس کا فرد کی مردانہ قوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ ان صورتوں میں کسی اچھے ڈاکٹر(Urologist) سے مددیں۔
پروفیسر ارشد جاوید

یہ بھی پڑھیں:  ایک ارب لوگوں کو سماعت سے محرومی کا خطرہ
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں