imran-khan-speech-afriqa

پاکستان مشکل وقت سے نکل کر آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت اس کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نےسفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بادشاہت اور سیاست میں فرق میرٹ کا ہوتا ہے۔ مغل حکمرانوں میں کوئی ایسا نہ تھا جو اورنگ زیب کے بعد اس سے بہتر طور پر حکمرانی کر سکتا ۔ ہندوستان سے مغلوں کی حکومت مرہٹوں یا پھر سکھوں کی وجہ سے ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے پیچھے میرٹ نہ ہونا تھا۔ اس لیے ہم میرٹ پر کام کر رہے ہیں اور جتنی بھی سلیکشنز ہوئی ہیں سب میرٹ پر ہوئی ہیں۔ چین کے ایک سفیر جس نے پوری دنیا میں سفارت کاری کی تھی وہ ہمارے بیوروکریٹ منیر اکرم کی تعریفیں کر رہا تھا جنہیں ہم نے امریکہ میں سفیر لگایا ہے۔
ان کا کہنا تھا انسان بڑا اس وقت ہوتا ہے جب اس کی سوچ بڑی ہوتی ہے۔ 1960ء کی ہماری بیوروکریسی دنیا میں کسی بھی بیوروکریسی کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ 1960ء میں ہم نے ایشیاء میں سب سے تیزی سے ترقی کی اس کے پیچھے ہماری بیوروکریسی تھی، ہمارے ادارے کام کرتے تھے ۔جب میں نیلسن منڈیلا کو ملا تو اس نے پاکستان کی بڑی تعریف کی ۔ نیلسن منڈیلا قائداعظم سے متاثر تھے ۔چین اور ترکی افریقہ میں کام کر رہے ہیں۔ہمارے ڈپلومیٹک کام کریں ، پاکستان کے مشنری بن کر کا م کریں اور جو بھی کانفرسیں ہوںگی اگر میں صدر علوی شرکت کریں گے اگر میں ملک میں مصروف نہ ہوا تھا میں ضرور جائوں گا۔
اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا جب آپ کا کرنٹ اکائونٹ خسارے میں ہوتا ہے تو آپ کا ملک خطرے میں رہتا ہے۔ انویسٹر انویسٹ نہیں کرتے کیونکہ آپ کا روپیہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے اور اس سے ہرچیز مہنگی ہو جاتی ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا میں ہمیشہ کہتا ہو ں کہ جو افغانستان میں ہم نے امریکہ کے ساتھ حصہ لیا اس کا میں ہمیشہ سے مخالف تھا اس کا جو جانی نقصان ہوا وہ تو ایک طرف تھا لیکن جو پاکستان کو اس میں ذلت ملی کہ ڈبل گیم پاکستان کھیل رہا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے ذریعے وہ افغانستان کی جنگ جیت لیں جو کہ ہم جیت ہی نہیں سکتے تھے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے ڈومور کا پریشر ڈال اورپاکستانیوں کی سیلف ریسپیکٹ پر بڑا اثر پڑا اس جنگ کی وجہ سے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فارن پالیسی یہ ہے کہ ہم جو کرسکتے ہیں اس کا وعدہ کرتے ہیں ۔
ملک کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا پچھلے دنوں ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی، دھرنے کے ذریعے اور جس طرح ہندوستان میں دھرنے کی خوشیاں منائی گئیں اور عدالت میں جو کیس تھا اسے جس طرح سے اچھالا گیا ان کی پوری کوشش تھی کہ پاکستان کسی طرح سے غیر مستحکم ہو جائے ۔ہندوستان کا ذکر میں خاص طور پر اس لیے کرتا ہوں کہ کبھی بھی کشمیر کا ایشیو ایسا نہیں اٹھایا جیسا اب اٹھا ہوا ہے۔ دھرنے کی وجہ سے کشمیر کا ایشیو پیچھے چلا گیا جس کو پاکستان نے اٹھایا ہوا تھا اس سے سب سے زیادہ خوش بی جے پی کو ہوئی۔ پہلے ان کی امید تھی کہ دھرنے سے کچھ حاصل ہوگا اب وہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ادارے آپس میں لڑ پڑیں گے۔ لیکن پاکستان کی ڈیموکریسی میچور ہو رہی ہے۔ ہمارے ملک میں ڈیموکریٹک کلچر اور سوچ آچکی ہے۔ ادارے کبھی بھی ایک دوسرے کیخلاف نہیں لڑیں گے ۔سارے اداروں نے اپنی حدود کے رہنا شروع کر دیا ہے اور سب ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی میں ہم نے پوری شرکت کی اور میں جیل گیا عدلیہ کی آزادی کیلئے۔ ہم ہمیشہ اپنی عدلیہ کو مضبوط کریں گے ۔ ایک تو ہندوستان کی بی جے پی کو خوف ہے اور دوسرا جو مافیا اندر بیٹھا ہوا ہے جس کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے۔جو چاہتا ہے ملک غیر مستحکم اور اس کا پیسہ بچ جائے ۔ ان سب کو شکست ملی اور آگے بھی شکست ملی ہے۔ پاکستان مشکل وقت سے نکل کر آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت اس کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا پیغام ہے کہ اب افریقہ پر توجہ دینی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں