imran-khan-kashmir

ان کیلئے مایوسی کا دن ہے جو چاہتے تھے ملک عدم استحکام ہو اور اداروں کے درمیان لڑائی ہو:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹ کے بعد سے الگ الگ ذہن رکھنے والے اپنے اپنے خیالات کے ایسے اظہار کر رہے ہیں جیسے وزیراعظم کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں ہے اور وہ دنیا کے سب سے بڑے ارسطو ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ میں سپریم کور ٹ کے چیف جسٹس کھوسہ کی بہت عزت کرتا ہوں اور پی ٹی آئی وہ واحد جماعت ہے جس نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے۔ وزیراعظم نے لکھا ہے کہ 2007ء میں پی ٹی آئی وہ جماعت تھی جس نے قانون کی حکمرانی کیلئے پہلی صفوں میں کھڑے ہو کر مقابلہ کیا تھا۔ اور میں نے اس وجہ سے جیل بھی کاٹی ہے۔ اور جو مافیا اندرونی اور بیرونی ہیں ان کی سازشیں ناکام ہوئی ہیں جو چاہتے تھے کہ اداروں کے درمیان لڑائی ہو اور ملک عدم استحکام کی طرف جائے۔

وزیراعظم نے ایسی کون سی بات لکھ دی ہے جس پر ملک کے ارسطوں کو تکلیف ہو رہی ہے کہ وزیراعظم کے ٹویٹ نے معاملات کو اور خراب کر دیا ہے۔
اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ ملک میں قوانین سازی کی بہت زیادہ ضرور ت ہے ۔ ملک میں قوانین کا بڑا گیپ ہے لیکن کیا ڈیڑھ سال پہلے آئی حکومت پر یہ سارا بوجھ ڈال دینا کہ وہ قوانین سازی کیوں نہیں کر رہے کہاں کا انصاف ہے۔
قوانین سازی کے لیے استحکام کی ضرورت ہے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اپوزیشن حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اور حکومت کو اپوزیشن ایک آنکھ نہیں بھاتی ایسے میں قوانین سازی کیسے ہوگی۔ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کچھ قوانین پاس کروانے کی کوشش کی گئی تھی جسے واپس لے لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی ٹیم کی شاندار جیت۔ پاکستان میں ہمیں کوئی سکیورٹی پرابلم نہیں ہوئی سری لنکن کپتان

ملک میں قوانین سازی ہونی چاہیے اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے ۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ قوانین نہیں بننے چاہیے ، لیکن اگر نہیں ہوئی اور وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں بتا دیا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کیلئے جیل تک کاٹ چکے ہیں اور ان کی زندگی عام اور خاص تمام پاکستانیوں سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ ان کی تگ و دو اور کوششیں سب کے سامنے ہیں۔ اس لیےارسطوئوں سے گزارش ہے کہ وہ حکومت کو کام کرنے دے ۔سمریوں میں اگر غلطیاں ہوئی ہیں تو سمری وزیراعظم نہیں بناتا ، اس بات پر حکومت کو ضرور غور کرنا چاہیے کہ کہاں کہاں قوانین سازی کی ضرورت ہے وہاں قوانین سازی کی جائے ۔

یہ بھی پڑھیں:  علیم خان کو ضمانت مل گئی

(الف سلیم)

اپنا تبصرہ بھیجیں