bajwa-extantion

عدالت عالیہ نے چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں6ماہ کی توسیع کر دی

EjazNews

پورا پاکستان اور شاید پاکستان سے باہر بھی بہت سے لوگ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ ان کی مدت ملازمت 29نومبر کو ختم ہو جائے گی۔اس کیس کی سماعت گزشتہ روز سے جاری ہے۔ گزشتہ روز اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم عدالت عالیہ کو مطمئن نہیں کر سکے جس کے بعد بعد سماعت آج ہوئی۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پردرخواست گزار وکیل ریاض حنیف راہی بھی موجود تھے
سماعت کے آغاز میں ہی سپریم کورٹ نے جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن طلب کیا، ساتھ ہی سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی دستاویز بھی طلب کرلیں۔ عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) کیانی کی توسیع کس قانونی شق کے تحت کی گئی، ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنرل (ر) پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کیا پینشن ملی تھیں۔
عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے آپ نے کہا ہے جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، اگر آرمی جنرل ریٹائر نہیں ہوتا تو جنرل راحیل شریف کس رول کے تحت ریٹائرڈ ہوئے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے اگر ریٹائر نہیں ہوتے تو پینشن بھی نہیں ہوتی، جائزہ لیں گے کہ جنرل (ر) کیانی کی توسیع کن بنیادوں پر ہوئی تھی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ یہ دستاویزات لے آئیں پھر آپ کو تسلی سے سن لیں گے۔
مختصر بریک کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں، تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے، آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کردی۔آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے، تعیناتی ہوئی ہی آئین کے مطابق ہے۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے۔
جسٹس منصور نے اس موقع پرنکتہ اٹھایا کہ 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سمری میں آرمی چیف کی تنخواہ کا ذکر ہے نہ مراعات کا تذکرہ ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پہلے توسیع ہوتی رہی اور کسی نے جائزہ نہیں لیا، کوئی دیکھتا نہیں کہ کنٹونمنٹ میں کیا ہو رہا ہے، کس قانون کے تحت کوئی کام ہو رہا ہے، اب آئینی ادارہ اس مسئلے کا جائزہ لے رہا ہے، آئینی عہدے پر تعیناتی کا طریقہ کار واضح لکھا ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے کے ایجنٹ کہا گیا، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، یہ ہمارا حق ہے کہ ہم سوال پوچھیں۔
جسٹس منصور نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھیں ہوں گے، آپ تجویز کریں آرمی قوانین کو کیسے درست کریں۔
سماعت کے دوران ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن میں مدت 3 سال لکھی گئی ہے، اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو، 3 سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو۔
اسی دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ واضح ہونا چاہیے جنرل کو پینشن ملتی ہے یا نہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہوجاتا ہے، جس پر جسٹس منصور نے کہا کہ کل تو آپ کہہ رہے تھے کہ جنرل ریٹائر نہیں ہوتا۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں جو سسٹم ٹھیک کر سکے، جس پر چیف جسٹس نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے،جس پر جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دئیے کہ یہ بھی طے کرلیا جائے کہ آئندہ توسیع ہوگی یا نئی تعیناتی۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حکومت پہلی بار آئین پر واپس آئی ہے، جب کوئی کام آئین کے مطابق ہو جائے تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں،تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کا کندھا استعمال نہ کیا جائے ورنہ آئندہ کے لیے بھی سپریم کورٹ کا نام استعمال ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں، 3 سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانون نہیں،عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جہاں مدت کا ذکر نہ ہو وہاں حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے تعیناتی کے وقت حکومت نے آرٹیکل 243 میں پڑھتے ہوئے اس میں اضافہ کر دیا، آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں، گزشتہ 3 آرمی چیف میں سے ایک کو توسیع ملی دوسرے کو نہیں، اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے۔
عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 243 کے مطابق تعیناتی کرنی ہے تو مدت نکال دیں، ساتھ ہی جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کم از کم آرٹیکل 243 پر تو مکمل عمل کریں، نہ تنخواہ کا تعین کیا گیا نہ ہی مراعات کا ذکر ہے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ غیر معینہ مدت کے لیے بھی تعیناتی نہیں ہو سکتی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے بھی جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کے لیے تعینات کیا گیا۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی چیف سے متعلق الگ قانون بنایا جائے گا، نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا، کوشش کریں گے جلد از جلد 3 ماہ میں قانون سازی کرلیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے بنائیں گے۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ فروغ نسیم کا بھی مسئلہ حل ہو گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کی مداخلت سے مسئلے حل ہو جائیں گے، ہمارے پاس ریاض راہی آئے ہم نے جانے نہیں دیا، لوگ کہتے ہیں عدالت خود نوٹس لے، ہمیں جانا نہ پڑے، عدالت کے دروازے کھلے ہیں کوئی آئے تو سہی۔
سماعت کے دوران جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی توسیع کی دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیں۔اس کو چیف جسٹس نے دیکھا اور کہا کہ کہیں نہیں لکھا جنرل (ر) پرویز کیانی کو توسیع کس نے دی تھی،جس قانون کے تحت توسیع دی گئی اس کا بھی حوالہ دیں، اتنے اہم عہدے کے لیے تو ابہام ہونا ہی نہیں چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جنرل راحیل کو تو پنشن مل رہی ہے، رولز میں تو جنرل کی پنشن کا ذکر ہی نہیں، ملک پر حکومت کرنے والے ہمیں عزیز ہیں لیکن آئین اور قانون ہمیں سب سے بالاتر ہے۔
سماعت کے دوران فروغ نسیم نے کہا کہ ہم تحریری طورپر لکھ کر دیتے ہیں کہ عدالت جو کہہ رہی ہے اس پر عمل کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا ذکر سمری میں سے حذف کریں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سمری سے عدالت کا نام اور 3 سال کی مدت نکال دیں گے جبکہ تنخواہ اور مراعات سے متعلق چیزیں سمری میں شامل کردیں۔ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ایک بیان حلفی جمع کروائیں کہ 6 ماہ میں آئین کے آرٹیکل 243 میں قانون سازی کریں گے اور آرمی چیف کی مدت، تعیناتی، توسیع، الاو¿نس و دیگر چیزیں واضح کی جائیں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام چیزیں ریکارڈ کا حصہ ہو، قانون درست ہونا چاہیے، یہ وقت کا ضیاع ہے یہ کام حکومت کا تھا۔بعد ازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آج مختصر فیصلہ جاری کریں گے، 6 ماہ کے اندر پارلیمنٹ قانون سازی کرلے۔

یہ بھی پڑھیں:  پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہوگیا

دوبارہ سماعت کے بعد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ 6ماہ میں قانون سازی کر لے گی۔ حکومت کی اس یقین دہانی پر عدالت عالیہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6ماہ کی توسیع کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے کیے گئے فیصلے کے مطابق صدر پاکستان کے پاس اختیار ہوتا ہے تعیناتی کا۔ لیکن آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا کہیں پر ذکر نہیں ہے۔ فیصلے کے مطابق اب یہ معاملہ حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ قانون سازی کر کے یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ٹھیک کر لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں