masjid-wazer-khan

ہندواور مغلیہ ادوار کا لاہور

EjazNews

ہندو عہد کا لاہور
لاہور میں ہندو طرزتعمیر کے کوئی آثار موجود ہیں، نہ ہی یہاں ہندووں کی عمارتوں میں استعمال ہونے والے پتھر اور دوسرا عمارتی سامان پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً بیرونی حملے ہیں جن میں یہ عمارتیں نیست و نابود ہو گئیں۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ شمالی ہندوستان کے ہندووں میں مندر کا تاریخی عمارتیں تعمیر کرنے کا ذوق نہیں تھا۔ دہلی میں بھی، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور سے ایک ہزار سال پہلے اور ظہور سے ایک ہزار سال بعد تک ہندووں کا پایہ تخت رہا ہے اور جہاں پر بکثرت پائے جاتے ہیں، دسویں یا گیارہویں صدی عیسوی تک ہندووں نے تاریخی اہمیت کی کوئی عمارت نہیں بنائی۔ اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ ہندو عہد کا لاہور اس جگہ پر آیا نہیں تھا جہاں آج یہ شہر موجود ہے۔ قدیم روایات سے پتا چلتا ہے کہ ہندووں کا لاہور اچھرہ گاوں کے نواح میں واقع تھا جو موجودہ شہر کے مغرب میں تین میل دور ہے۔ اس گائوں کا قدیم نام اچھرہ لا ہور تھا۔ یہ نام اب بھی موجود ہے۔ پرانی دستاویزات ہنڈیوں اور لاہور کے خزانے کی شرح تبادلہ میں یہی نام درج ہے۔ اس کے علاوہ ہندووں کے قدیم ترین اور مقدس مقامات بھی اچھرے میں ہی واقع ہیں جیسے بھیرو کا ستھان۔ جس طرح کشمیری دروازہ کشمیر کی جانب اور دہلی دروازہ دہلی کے رخ پر واقع ہے ٹھیک اسی طرح لوہاری گیٹ بھی لوہار کے نام سے منسوب ہے جو قدیم لاہور کا نام تھا۔
پٹھانوں کے عہد کا لاہور:
لاہور میں نہ صرف ہندووں کی تعمیر کردہ کوئی تاریخی عمارت موجود نہیں بلکہ شہر کے وسط میں واقع دو چھوٹی مسجدوں نمی والی مسجد اور شیرانوالی مسجد اور ایک یا دو مقبروں کے سوا ہمایوں کے دور تک کوئی قابل ذکر عمارت تعمیرنہیں کی گئی۔ اس حقیقت اور قدیم مورخوں کی اس بارے میں خاموشی سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ پٹھانوں کے دور میں اگر چہ لا ہورکو خصوصی اہمیت حاصل تھی لیکن یہاں دیدہ زیب عمارتوں کا مکمل فقدان تھا۔ امیرخسرونے، جو تیرہویں صدی عیسوی میں یہاں وارد ہوا لاہور اور اس کے نواحی شہر قصور کا سرسری تذکرہ کیا ہے۔ ابن بطوطہ نے چودھویں صدی عیسوی کے وسط میں ملتان سے دہلی کا سفر کیا لیکن لاہور آنے کی زحمت گوارانہ کی۔ امیر تیمور نے خود یہاں آنے کی بجائے اپنے ایک نائب کو لاہور میں لوٹ مار کا فریضہ سونپ دیا۔ شہنشاہ بابرکو قابل دید مقامات دیکھنے کا شوق تھا۔ اس نے اپنی یادداشتوں میں کابل سمرقند اور دہلی کے نوادر کا تذکرہ کیا ہے لیکن لاہور کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ہفت اقلیم کے مصنف امین احمد رازی نے 1624ء میں لکھا ہے کہ اکبر کے عہد تک لاہورصرف چند جھونپڑوں اور شکستہ حال مکانوں پرمشتمل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور تاریخی کتب سے
بادشاہی مسجد کا اندرونی مسجد

فن تعمیر کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو لاہور بنیادی طور پر مغلوں اور ان کے بعد آنے والے مسلمان حکمرانوں کا شہر ہے، البتہ ریلوے سٹیشن کے قریب شاہ موسیٰ کا مزار پٹھانوں نے تعمیر کرایا ہے۔ قلعے کے مشرقی دروازے پر تعمیر کی جانے والی مریم مکانی یا مریم زمانی کی مسجد بھی پٹھانوں اور مغلوں کے مشترکہ فن تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔ لاہور کے تین مقامات روایتی طور پرغزنوی دور سے وابستہ ہیں اور انہیں بڑی عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان میں ملک ایاز کے مقبرے کو بڑی اہمیت حاصل ہے جس کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ اس نے لاہور کا قلعہ اور دیوار میں معجزانہ طور پر ایک ہی رات میں تعمیر کرادی تھیں۔ اس کے علاوہ مسجد وزیر خان کے ایک گوشے میں سید اسحاق کا مقبرہ اور داتا گنج بخش کا مزارمسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے جو محمود غزنوی کی فاتح فوج کے ہمراہ لاہور تشریف لائے اور طویل زندگی کے بعد لاہور ہی میں فوت ہوئے۔ انہوں نے رشد و ہدایت کے سلسلے میں گرانقدر خدمات انجام دیں لیکن افسوس انہیں رابرٹ ولیس جیسا سوانح نگار دستیاب نہ ہوا۔ داتا گنج بخش نے کشف المحجوب کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے لیکن اس میں انہوں نے اپنے عہد کی تاریخ کا ایک بھی واقعہ قلمبند نہیں کیا۔
مغلوں نے بالائی ہندوستان کے بڑے شہروں میں تعمیرات کے حوالے سے تین اہم کارنامے انجام دئیے ہیں۔ انہوں نے فن تعمیر کا نیا اسلوب متعارف کرایا جو زیادہ محنت طلب اور پرشکوہ تھا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مغلوں کو فطری مناظر سے گہری دلچسپی تھی جو ان کے کردار کا نمایاں پہلو ہے۔ انہوں نے بے مثال فواروں برگ و بار اور نقرئی آبشاروں سے مزین جونفیس باغات تعمیر کرائے مشرق کا سفر کرنے والے ہر سیاح نے ان کی دل کھول کر تحسین کی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہندی زبان میں باغ کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں۔ (باغ یا چمن کے الفاظ فارسی اور روضہ کا لفظ عربی ہے)۔ بابر کو جو،اُش اور اندے جان کے بہتے ہوئے جھرنوں سے بھری وادیوں اور سبزہ زاروں سے آیا تھا، پنجاب کے چٹیل میدانوں کو دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی۔ چنانچہ اس نے اپنی یاداشتوں میں ہندوستان کے شہروں کی بدصورتی کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ یہاں ایسا کوئی باغ نہیں جس کے چاروں طرف دیواریں بنی ہوں، نہ ہی مصنوعی آبشاریں بنائی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر آگرے میں ایک شاندار باغ تعمیر کرادیا۔ بابر نے آگے چل کر لکھا ہے:’’ہندوستان کے باشندوں نے اس سے پہلے ایسی خوبصورت عمارت بھی نہیں دیکھی تھی چنانچہ انہوں نے جمنا کے کنارے تعمیرکرائے جانے والے محلات کو کابل کے نام سے پکارنا شروع کردیا ہے۔ ان تاتاری نسل شہنشاہوں نے ہندوستان میں فطرت سے د ل بستگی کے ہزاروں سامان پیدا کیے اور قدرتی مناظر سے والہانالگاوکی بناپر باغات میں گھرے مقبرے تعمیرکرائے جو ہر مغل شہرکا طرہ امتیاز ہے۔
اپنے مقبرے خود تعمیر کرنے کی روایت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ ترک فرمانرواوں کو اپنے جانشینوں پر اعتماد نہیں تھا۔ مشرق کے مطلق العنان حکمران غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے اپنی دولت کی تقسیم کے اندیشے کے پیش نظر اسے اپنی اولاد میں منتقل کرنے میں تذبذب سے کام لیتے تھے۔ امراذاتی مراعات یا خوردبرد کے ذریعے دولت جمع کرتے اور ان کے مرنے کے ساتھ ہی اس دولت کا خاتمہ ہو جاتا۔ اس طرح یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اپنی زندگی میں کامیاب ترین شخص مرنے کے بعد موزوں یادگار کے لیے اس قدر کیوں بیتاب ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تا تاری حکمران اپنی دولت کے برباد ہونے سے پہلے اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑنے کے لیے ہمیشہ بے چین رہتا۔
مغلیہ دور کی باقیات:
لاہور کو اپنے بے شمار باغات، مقبروں اورمنقش محرابی دروازوں کی بدولت ایک بیمثل مغل شہرکا درجہ حاصل تھا اور وقت کے بے رحم ہاتھوں سے اس شہرکوکئی مرتبہ تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے باوجو فن تعمیر کے کئی نادر روزگار نمونے اب بھی یہاں موجود ہیں۔ قلعہ کو جانے والے بلند و بالامحرابی دروازے اکبر کے خصوصی انداز جبکہ دوسری یادگار عمارتیں اس کے جانشینوں کے حسن ذوق کی ترجمانی کرتی ہیں۔ قلعے کے ایک گوشے میں منقش محرابوں اور سرخ پتھر کے ستونوں سے مزین جہانگیر کی خواب گاہ ہندو مسلم فن کا لاجواب نمونہ ہے جو اکبری عہد کا خاصہ ہے۔
جہانگیر کی خواب گاہ کے تین اطراف برابر فاصلے پر ایک قطار میں سرخ پتھر کے ستون تعمیر کیے گئے ہیں۔ (اسے عام طور پر موتی مندر کہا جاتا ہے)۔ دیواروں پرنوروں ہاتھیوں اور گھوڑوں کی رنگین تصویر میں بنائی گئی ہیں۔ خواب گاہ کی چوتھی جانب واقع گنبد سے راوی نظر آتا ہے۔ برآمدوں کے ستونوں پر ہندوطرز کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ ایک طرف باغ اور اس کے درمیان سنگ مرمر کا چبوترہ ہے۔ گرمی کی تپش سے بچنے کے لیے خواب گاہ کے نیچے زیرزمین خلوت گاہیں تعمیر کی گئی ہیں۔ سکھوں اور یورپی باشندوں نے اس نادر الوجود عمارت کا حسن برباد کر دیا ہے۔ گنبددار عمارت کو میس روم میں تبدیل کردیا گیا ہے اور ستونوں کے اندر دیوار میں کھڑی کر کے وہاں رہائشی کوارٹر بنا لیے گئے ہیں۔ لیکن دوخلوت گاہیں زمانے کی چیرہ دستیوں سے اب بھی محفوظ ہیں جوا کبری دور کے ہندومسلم سٹائل کی جھلک پیش کرتی ہیں۔
شاہدرہ میں جہانگیر کا مقبرہ ،شہر کے جنوبی علاقے میں مسجد وزیر خان ،شاہی قلعے میں موتی مسجد، تخت شاہی اورسنگ مرمر کی گنبددار عمارت ،آصف خان کا مقبرہ، شالامار باغ، گلابی باغ، زیب النسا کا محرابی دروازہ اور اورنگ زیب عالمگیر کی بادشاہی مسجد،یہ سب عمارتیں ہندو مغل طرزتعمیر کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان میں خمدارگنبد، جھکی ہوئی محرابیں ،سنگ مرمر کے جھروکے اور نہایت عرق ریزی سے تیار کی گئی منقش دیوار یں شامل ہیں جوفنی اعتبار سے دہلی، آگرے اور فتح پور سیکری کی عمارتوں سے کسی طور کمترنہیں البتہ لاہور کی عمارتوں کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی بیرونی آرائش کے لیے چمکدار رنگین ٹائلیں نہایت کاریگری کے ساتھ استعمال کی گئی ہیں۔ اس سے پہلے دور کے معمار پتھروں کی نایابی کے باعث سنگ تراشی کے فن سے نا آشنا تھے جس کی وجہ سے ان کی تیار کردہ عمارتوں میں ذوق لطیف کا فقدان پایا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  عہد فیروزی

اپنا تبصرہ بھیجیں