Children-kitchan

گاجر کا حلوہ

EjazNews

ہوا یوں کہ اتوار کے دن سب گھر والے شادی پر گئے ہوئے تھے اور میں گھر میں اکیلا تھا تومیرے دماغ نے مصروف رہنے کی ترکیب سوچنی شروع کی۔
اچانک اس دماغ نے جو بقول میرے ابا جان کے کسی گدھے کا ہے، نہایت ہی خوبصورت ترکیب سوجی۔ اس وقت میں اپنے آپ کو دنیا کا عقل مند ترین شخص سمجھ رہا تھا ۔ وہ ترکیب یہ تھی کہ میں اپنے نوکر کی مدد سے گاجر کا حلوہ بنائوں اور خوب مزے لے لے کر کھائوں۔ میں نے اپنے دماغ کو شاباش دی اور آستینیں چڑھا لیں۔ نوکر کو بازار سے ایک کلو گاجریں لانے کا حکم دیا ۔ اب گاجریں آگئیں تو سوچنے لگا کہ حلوہ کیسے پکایا جائے۔ میں نے حلوائیوں کو کئی دفعہ حلوہ پکاتے دیکھا تھا اور طریقہ بھی یاد تھا مگر اس وقت کم بخت طریقہ تھا کہ یا د ہی نہیں آرہا تھا۔ میں نے حلوائیو ں والے طریقے پر سوبار لعنت بھیجی اور گھریلو طریقے سے حلوہ پکانے کا پروگرام بنایا۔
خیر میں نے نوکر سے گاجریں دھلوائیں اور پھر کش کروائیں۔ پھر میں نے اپنے شاہی نوکر سے مشورہ کیا کہ دودھ کتنا ڈالا جائے تو اس نے نہایت ہی بزرگانہ انداز میں جواب دیا ’’جناب! اگر گاجروں میں دودھ ڈال کر حلوہ پکائیں تو بھی بعد میں دودھ غائب ہو جائے تو کیوں نہ دودھ کی جگہ پانی استعمال کیا جائے۔ اس طرح حلوہ بھی پک جائے گا اور بچت بھی ہوگی۔ یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے۔‘‘
میں نے فوراً اس کا مشورہ قبول کرلیا۔ چولھے پر دیگچا چڑھایا۔ اس میں تقریباً چھ گلاس پاس ڈالا اور گاجریں ڈال کر چمچے کی مدد سے ہلانا شروع کیا۔ میں دو گھنٹے سے چمچا ہلا رہا تھا مگر پانی تھاکہ سوکھ ہی نہیں رہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ما بدولت نے چولھے میں آگ ہی نہیں جلائی تھی۔ وقت دیکھا تو گھر والوں کے آنے میں صرف دو گھنٹے باقی تھے۔ چنانچہ اپنے شاہی مشیر کو طلب کیا۔ صورت حال بتائی اور اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد مانگی۔
وہ اتنی دیر میں خود کو ایک ماہر حلوائی سمجھ چکا تھا۔ بولا ’’ندیم میاں! تمام گاجریں اور پانی کے ساتھ چینی وغیرہ پریشر ککر میں ڈال دو۔ ایک منٹ میں حلوہ تیار ہو جائے گا۔‘‘
میں نے فوراً اس مشورے پر عمل کیا اور ککر کے نیچے آگ خوب تیز کر دی۔ آدھ گھنٹے کے بعد اچانک باورچی خانے میں سخت دھماکا ہوا۔ جی ہاں ککر بھاپ زیادہ ہونے کی وجہ سے پھٹ گیا اور میں بے ہوش ہوگیا۔
ہوش میں آیا تو میں ہسپتال کے بستر پر دراز تھا۔ ٹھیک ہونے کے بعد خوب پٹائی ہو ۔ اس کے بعد میں نے حلوہ بنانے سے توبہ کرلی مگر کھانے سے نہیں۔
(یہ میرے بچپن کی کہانی ہے اس وقت یوٹیوب نہیں ہوتا تھا)۔
(ندیم حمید مرزا)

یہ بھی پڑھیں:  نظام شمسی اور ثناء کے سوالات
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں