bajwa-chief

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع: سماعت کل تک کیلئے ملتوی

EjazNews

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی۔
آرمی چیف کی جانب سےعدالت میں فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور خان پیش ہوئے۔
کیس کی سماعت کے شروع میں چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ میڈیا پر غلط خبریں چلیں کہ ہم نے ازخود نوٹس لیا ہے، میڈیا کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ ہم ریاض حنیف راہی کی درخواست پر ہی سماعت کر رہے ہیں۔
اٹارنی جنرل انور منصور خان سے جب استفسار کیا کہ یہ بات طے ہے کہ کل جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی ان کو تسلیم کیا گیا، خامیاں تسلیم کرنے کے بعد ان کی تصحیح کی گئی تھی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں خامیوں کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں تو تصحیح کیوں کی گئی؟۔جسپر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں اس کی وضاحت کرتا ہو، توسیع کے حوالے سے قانون نہ ہونے کا تاثر غلط ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے کہ صرف 11 ارکان نے ہاں میں جواب دیا تھا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر باقی اراکین نے ہاں میں جواب دیا تھا تو کتنے وقت میں دیا تھا یہ بتا دیں، کل جو آپ نے دستاویز دی تھیں اس میں 11 ارکان نے ہاں لکھا ہوا تھا، نئی دستاویز آپ کے پاس آئی ہے تو دکھائیں۔
جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل کے عدالتی حکم میں بعض غلطیاں ہیں، میں نے کل آرمی رولز کا حوالہ دیا تھا، عدالت نے حکم نامے میں قانون لکھا، عدالت نے کہا کہ صرف 11 ارکان نے کابینہ میں توسیع کی منظوری دی۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب تو حکومت اس کارروائی سے آگے جاچکی ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کابینہ سے متعلق نکتہ اہم ہے اس لیے اس پر بات کروں گا۔
انور منصور کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے تو وہی لکھا جو آپ نے دستاویزات میں دیا، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن اراکین کے جواب کا انتظار ہے ان کا جواب ہاں میں نے تصور کیا جانا چاہیے، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس قانون میں ہے کہ جن کے جوابات کا انتظار ہو وہ ہاں تصور ہوگا۔
اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ رول 19 میں لکھا ہے کہ جن کے جواب کا انتظار ہو وہ ہاں تسلیم ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس رول میں یہ بھی واضح ہے کہ جواب کے انتظار میں وقت کا تعین ہوگا، آپ ہمیں دستاویزات میں تعین کردہ وقت دکھا دیں۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 18ویں ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ میں تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف ملٹری کو کمانڈ کرتا ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیکل 243 کے مطابق صدر مملکت، افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں، آرٹیکل 243 کے تحت ہی صدر، وزیراعظم کے مشورے پر افواج کے سربراہ تعینات کرتے ہیں۔
اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 243 مراعات و دیگر معاملات سے متعلق ہے، کیا تعیناتی کی مدت کی بات کی گئی ہے، آرمی چیف کتنے عرصے کے لیے تعینات ہوتے ہیں، کیا آرمی چیف حاضر سروس افسر بن سکتا ہے یا ریٹائر جنرل بھی، اس معاملے میں قواعد کو دیکھنا ضروری ہے۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے پاس ترمیمی مسودہ ابھی آیا ہے، جس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس کہ ہمارے پاس وہ بھی نہیں آیا۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے پوچھا کہ آئین و قانون کی کس شق کے تحت قواعد تبدیل کیے گئے، آرٹیکل 255 ان لوگوں کے لیے ہے، جو سروس سے نکالے جاچکے یا ریٹائر ہوچکے ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا انتہائی اہم معاملہ ہے، اس میں سب کی بات سنیں گے، یہ سوال آج تک کسی نے نہیں اٹھایا، اب اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ریمارکس دئیے کہ ماضی میں 5 یا 6 جنرلز خود کو توسیع دیتے رہے ہیں، مستقبل میں ایسے مسائل پیدا نہ ہوں، اس لیے اس معاملے کو تسلی سے دیکھتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ اب واضح ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے مگر اس میں آئین خاموش ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مدت تعیناتی نوٹیفکیشن میں لکھی جاتی ہے جو صوابدیدی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تاثر دیا گیا کہ آرمی کی چیف کی مدت ملازمت 3 سال ہوتی ہے، ساتھ ہی جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے آج بھی ہمیں آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جو صفحات آپ نے دئیے وہ نوکری سے نکالنے کے حوالے سے ہیں، آرمی ریگولیشنز کے مطابق ریٹائرمنٹ معطل کرکے افسران کو سزا دی جاسکتی ہے، حال ہی میں 3 سینئر افسران کی ریٹائرمنٹ معطل کر کے سزا دی گئی تھی۔
اسی دوران عدالت میں موجود بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آرمی چیف کی مدت 3 سال کہاں مقرر کی گئی ہے؟ کیا آرمی چیف 3 سال بعد گھر چلا جاتا ہے۔
عدالتی سوال پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل 57 سال کی عمر میں 4 سال کی مدت مکمل کر کے ریٹائر ہوتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لیفٹیننٹ جنرل کے علاوہ کہیں بھی مدت کا تعین نہیں کیا گیا، بعض لیفٹیننٹ جنرلز کو تعیناتی کے بعد 4 سال کی مدت نہیں ملتی جبکہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر ہی نہیں۔
جس پر اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ جی، آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا کوئی ذکر نہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا دستاویزات کے ساتھ آرمی چیف کا اپوانٹمنٹ لیٹر ہے، جنرل قمر باجوہ کی بطور آرمی چیف تعیناتی کا نوٹیفکیشن کہاں ہے، کیا پہلی بار جنرل باجوہ کی تعیناتی بھی 3 سال کے لیے تھی، آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا اختیار کس کو ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اگر ریٹائرمنٹ سے 2 دن قبل آرمی چیف کی توسیع ہوتی ہے تو کیا وہ جاری رہے گی، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ٹرم کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کا تعین کہیں نہیں، فوجی افسران کو کمیشن ملتا ہے جب ان کی تعیناتی ہوتی ہے، آرٹیکل 243 کے تحت کابینہ سفارش نہیں کر سکتی، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ واضح ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی سفارش وزیراعظم نے کرنی ہے۔اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کابینہ کی سفارش ضروری نہیں تو 2 مرتبہ معاملہ کابینہ کو کیوں بھیجا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کروں کہ تعیناتی میں توسیع بھی شامل ہوئی ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نارمل (عام) ریٹائرمنٹ سے متعلق آرمی کے قواعد پڑھیں، آرمی ایکٹ کے رول 262 سی کو پڑھیں، جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال دی گئی ہے، ساتھ ہی جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ 262 میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کا ذکر نہیں۔
اس پر انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ آرمی چیف پبلک سرونٹ نہیں ہیں، ان کی تعیناتی پبلک سرونٹ کرتے ہیں، آرمی چیف افسر سے بالاتر گریڈ میں ہوتے ہیں۔
اٹارنی جنرل کی بات پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ توسیع اور نئی تعیناتی کا ہے، اس کو کیسے قانونی طور پر ثابت کریں گے، جس پر انور منصور خان نے کہا کہ تعیناتی کی تعریف میں دوبارہ تعیناتی بھی آتی ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ریٹائرمنٹ اور ڈسچارج کا ذکر رولز میں ہے، جب مدت مکمل ہوجائے پھر نارمل ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، 253 کے ایک چیپٹر میں واضح ہے کہ گھر کیسے جائیں گے یا فارغ کیسے کریں گے۔
اس موقع پر چیف جسٹس کے ریمارکس کے دوران اٹارنی جنرل نے بولنا چاہا تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ انور منصور آپ جلدی میں تو نہیں، جس پر جواب دیا گیا کہ نہیں میں رات تک یہاں ہوں، آرٹیکل 255 میں ایک ایسا لفظ ہے جو اس معاملے کا حل ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس آرٹیکل میں حالات کے تحت اگر ریٹائرمنٹ نہ دی جاسکے تو 2 ماہ کی توسیع دی جاسکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بندہ اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکا ہے تو اس کی ریٹائرمنٹ کو معطل کیا جاسکتا ہے، اگر جنگ ہورہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کی حد کا کوئی تعین نہیں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوسکتی، مدت پوری ہونے پر محض غیر متعلقہ قاعدے پر توسیع ہوسکتی ہے، یہ تو بہت عجیب بات ہے۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصار کررہے ہیں وہ تو صرف افسران کے لیے ہے، جس میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں، آپ کے آرمی چیف اس میں نہیں آتے۔
دوران سماعت فروغ نسیم نے کہا کہ جنگی صورتحال میں کوئی ریٹائر ہورہا ہو تو اسے کہتے ہیں، آپ ٹھہرجائیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 255 اے کہتا ہے کہ اگر جنگ ہورہی ہو تو چیف آف آرمی اسٹاف کسی کی ریٹائرمنٹ کو روک سکتا ہے، یہاں آپ چیف کو سروس میں برقرار رکھ رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کا سارا کیس 255 اے کے گرد گھوم رہا ہے، اس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ 1948سے آج تک تمام آرمی چیف ایسے ہی تعینات ہوئے، ‘جسٹس کیانی کی توسیع بھی ایسے ہی ہوئی۔
عدالت میں اٹارنی جنرل کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جسٹس کیانی کہہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جسٹس نہیں جنرل کیانی تھے، چیف جسٹس کی اس بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔
تاہم اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن فوجی افسران کو توسیع دی گئی ان کی فہرست دے چکا ہوں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا ریٹائرڈ جنرل کو آرمی چیف تعینات کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی سوال پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ شاید ریٹائر جنرل بھی بن سکتا ہو لیکن آج تک ایسی کوئی مثال نہیں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا 3 سالہ مدت کے بعد آرمی چیف فوج میں رہتا ہے یا گھر چلاتا ہے۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ فوجی افسران سروس کی مدت اور مقررہ عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہوتے ہیں، ہم قانون سمجھنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی جلدی نہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تو رات تک دلائل دینے کے لیے بھی تیار ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وفاقی حکومت ریٹائرمنٹ کے بعد ہی ریٹائرمنٹ کو معطل کر سکتی ہے۔
اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ دوران جنگ ممکن ہے کہ افسران کو ریٹائرمنٹ سے روکا جاتا ہے، ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے مطابق آرمی چیف دوران جنگ افسران کی ریٹائرمنٹ روک سکتے ہیں، حکومت آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کو روکنا چاہتی ہے۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی معطلی عارضی نہیں ہوتی،اس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آئینی عہدے پر تعیناتی میں توسیع آئین کے تحت نہیں، عارضی سروس رولز کے تحت دی گئی، بظاہر تعیناتی میں توسیع آرمی ریگولیشنز کے تحت نہیں دی گئی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں، جو بولنا ہے بولیں، پھر ہم قانونی نکات پر بات کریں گے، ہم آپ کے دلائل کی تعریف کرتے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آپ کے تمام سوالات کے جوابات دیتا رہوں گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کو دلائل مکمل کرنے دیں، پھر قوانین پڑھیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے قانون پر بات کر لیں، پھر اپنا موقف دیں، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت کے ہرسوال کا جواب دوں گا۔
انور منصور کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹکڑوں میں جواب کا کوئی فائدہ نہیں، آرمی ایکٹ کو سمجھے بغیر ہمیں دلائل کیسے سمجھ آئیں گے، آپ کا ایک ایک لفظ سن کر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ان رولز اور ریگولیشن کو پڑھتے ہیں، پاک فوج کے تقسیم ہند سے پی کے کے رولز کو روزانہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیسے عدالت کہے گی ویسے کہیں گے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو کہنا ہے کہیں ایک ایک لفظ نوٹ کر رہے ہیں۔
اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ پہلا سوال یہ ہے کہ آرمی چیف کی مدت تعیناتی کیا ہوگی، آرمی چیف کی مدت تعیناتی پر آئین خاموش ہے، دوبارہ آرمی چیف کی تعیناتی کس قانون کے تحت ہوگی، کیا ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائرڈ جنرل کو دوبارہ آرمی چیف بنایا جا سکتا ہے؟
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کی صوابدید ہے، اصل مسئلہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کا ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی آرٹیکل 243 کے تحت ہوتی ہے، مدت مقرر نہ ہو تو کیا آرمی چیف تاحیات عہدے پر رہیں گے، 1947 سے تعیناتی کی یہی روایت رہی ہے، عوام کو آگاہ کروں گا تعیناتی کی مدت کا تعین کیسے ہوتا ہے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قانون کی عدالت ہے، یہاں شخصیات معنیٰ نہیں رکھتیں، جو کام قانونی طور پر درست نہیں اسے کیسے ٹھیک کہہ سکتے ہیں، اگر قانون کے مطابق درست نہیں تو پھر ہم فیصلہ دیں گے، اس پر انور منصور خارن نے جواب دیا کہ بعض اوقات سختی سے چھڑی ٹوٹ جاتی ہے،عدالت کو قانون پر اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کو اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں کوئی لچک نہ ہو، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے قانون سے دلائل کا آغاز کریں۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں فوج کے قانون کو پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں، ایکٹو سروس سے متعلق سیکشن 2 پڑھ کر سناؤں گا، جنرل قوم کا افسر ہوتا ہے، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے سوال چیف کا ہے جنرل کا نہیں، اس پر انور منصور نے کہا کہ عدالت کو میں تعیناتی کی دیگر مثالیں بھی پیش کروں گا۔دوران سماعت چیف جسٹسس کا کہنا تھا کہ اس طرح تو کسی اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسی آپ نے کی ہے۔آرمی چیف کو آپ نے شٹل کاک بنادیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملزم حکومت اورعوام کو دھوکا دے کر گیا ہے:اسلام آباد ہائیکورٹ

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جائیے دو دن ہیں کچھ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں