hazrat-fatima-bint-asad

حضرت فاطمہؓ بنت اسدؓ کا ذکر خیر

EjazNews

یہ حضرت علیؓ کی والدہ محترمہ ہیں۔ جب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو ان کے بعد حضرت فاطمہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دست و بازو رہیں۔ اورآپ کی بڑی بڑی خدمتیں کیں۔ جب مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت ملی تو حضرت فاطمہؓ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ جب حضرت علی ؓ کا حضرت فاطمہ ؓ زہرا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد ہوا تو حضرت علیؓ نے اپنی والدہ (حضرت فاطمہؓ بنت اسد ) سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی آئی ہیں۔ میں پانی بھروں گا اور باہر کا کام کروں گا اور وہ چکی پیسنے اور آٹا گوندھنے میں آپ کی مددکریں گی۔ (اسد الغابہ)
اصابہ میں ہے کہ یہ نہایت صالحہ بی بی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زیارت کوتشریف لے جاتے اوران کے گھرآرام فرماتے تھے۔
کنز العمال میں ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیض اتار کر کفن دیا اور قبر میں اتر کر لیٹ گئے لوگوں نے وجہ دریافت کی تو آپؐ نے فرمایا کہ ابو طالب کے بعد ان سے زیادہ میرے ساتھ کسی نے سلوک نہیں کیا تھا۔ اس بنا پر میں نے ان کو قمیض پہنایا کہ جنت میں ان کو محل ملے ۔قبر میں اس لیے لیٹا کہ شدائد قبر میں کمی واقع ہو۔ (اسد الغابہ)

یہ بھی پڑھیں:  حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں