Shafqat-shaikha

وزیر قانون نے حکومت کا موقف واضح کرنے کیلئے رضاکارانہ استعفیٰ دیا ہے:معاون خصوصی شہزاد اکبر

EjazNews

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد شفقت محمود نے شیخ رشید اور معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دی جس میں ان کا کہنا تھا آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیاہے، آئین کے آرٹیکل 243کے تحت وزیر اعظم کو یہ اختیار ہے کہ وہ صدر کو ایڈوائس کریں، اس طریقے پر عمل کیا گیا اور صدر نے آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دی۔ وزیر اعظم کے پاس یہ صوابدیدی اختیار بھی ہے کہ وہ حالات کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کر سکتے ہیں، اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں، اس معاملے میں خاص طور پر جس چیز کو مدنظر رکھا گیا وہ یہ کہ خطے میں غیر معمولی حالات ہیں اور بھارت کی طرف سے کئی محاذوں پر خطرات ہیں۔بھارت بار بار پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور کوئی جھوٹا آپریشن کر سکتا ہے، ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ غیر معمولی صورتحال ہے، مقبوضہ کشمیر میں 113 دن سے جاری کرفیو بھی غیر معمولی حالات ہیں جبکہ بھارت دریاؤں کا پانی روکنے کی بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھاکہ کابینہ نے آرٹیکل 255 کے رولز میں ترمیم کردی ہے اور ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 255 میں لفظ مدت میں توسیع کا اضافہ کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو آرمی ریگولیشن 255 کے تحت توسیع دی گئی تھی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ فروغ نسیم وفاقی وزیر کی حیثیت سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے اور حکومت کا موقف واضح کرنے کیلئے رضاکارانہ استعفیٰ دیا ہے تاکہ اٹارنی جنرل کی معاونت کریں گے۔ جب وہ معاونت پوری ہوجاتی ہے تو وزیراعظم کی منظوری سے واپس کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔
جبکہ اس موقع پر وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا وزیر قانون فروغ نسیم نے کابینہ اجلاس میں اپنا استعفیٰ رضا کارانہ طور پر پیش کیا ہے جس کو منظور کرلیا گیاہے۔اس کابینہ کے لیے انہوں نے بڑی خدمات دی ہیں۔
فروغ نسیم نے سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن کی معطلی کے بعد ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں استعفیٰ پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  حکومت نے میاں شہباز شریف کیخلاف دررخواست واپس لے لی

اپنا تبصرہ بھیجیں