laughing-child

چلو کچھ مسکرا لیتے ہیں

EjazNews

مالک نے اپنے نئے ملازم سے کہا ’’دیکھو فضلو میں ذرا باہر جارہا ہوں اگر میرے پیچھے کوئی آئے تو اس کا حکم ماننا اور اس سے اچھی طرح پیش آنا‘‘۔ کچھ دیر بعد جب مالک واپس آیا تو اس نے ملازم سے پوچھا ’’ابے فضلو! کوئی آیا تھا؟‘‘
’’جی ہاں!سرکار ! می نے ا ٓپ کی ہدایت پر پورا پورا عمل کیا۔‘‘ ملازم نے جواب دیا۔ ’’اس نے آتے ہی مجھ سے کہا: ہاتھ اوپر اٹھا لو۔ میں نے ہاتھ اوپر اٹھالیے اور وہ روپوں والا صندوقچہ لے کر چلتا بنا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک آدمی جو مالٹے بیچ رہا تھا کہ رہا تھا۔
’’آنے کے دو، آنے کے دو۔‘‘
ایک آدمی جو قریب ہی کھڑا تھا، کہنے لگا ’’اور جانے کے کتنے؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
اُستاد:(شاگرد سے) تم آج بھی سکول کا کام کر کے نہیں آئے۔ مار کھانے کیلئے تیار ہو جائو۔
شاگرد : جناب میں ہاتھ دھوآئوں۔
استاد: وہ کیوں؟
شاگرد:جناب! میری ماں نے مجھے ہدایت کر رکھی ہے کہ ہر چیز کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھوئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
باتونی حجام: (گاہک سے) تمہارے بال کیسے کاٹوں؟
گاہک: خاموشی سے کاٹو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مالک: (نوکر سے) خبر دار آئندہ مجھ سے پوچھے بغیر کوئی کام نہ کرنا۔
نوکر: (دوسرے روز) حضور چھوٹے صاحب گڑھے میں گر گئے ہیں۔
آپ کہیں تو ان کو نکال لائوں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
طاہر : میں ایک دفعہ نہایا تو پانی دس میل تک پھیل گیا۔
مانی: یہ کیسے ممکن ہے؟
طاہر: میں ریل گاڑی کے غسل خانے میں نہا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دیہاتی سڑک کے درمیان چل رہا تھا۔ ایک سپاہی نے اسے روک کر پوچھا: آپ کا اسم شریف؟
وہ شخص چپ رہا۔
سپاہی نے پھر پوچھا: آپ کا اسم شریف کیا ہے؟۔ وہ شخص ڈرتے ڈرتے بولا:
جناب! اسم شریف تو مجھے یاد نہیں۔ اگر کہیں تو درود شریف سنا دیتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک عورت پارسل کرانے ڈاک خانے گئی تو ڈاک بابو نے کہا’’ٹکٹ زیادہ لگے ہیں۔‘‘
عورت نے گھبرا کر کہا’’کہیں یہ پارسل منزل سے دور تو نہیں چلا جائے گا؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
استاد: اس محاورے کو فقرے میں استعما ل کرو۔ ہاتھ پائو ں مارنا۔
شاگرد: جب ہمارے ابا جان زیادہ غصے میں ہوں تووہ ہمیں ہاتھ پائوں مارنا شروع کر دیتے ہ یں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مداری تماشا دکھا رہا تھا۔ اس نے ہجوم سے ایک لڑکے کو بلای اور پوچھا
’’لڑکے بتائو تم میرے رشتے دار تو نہیں ہو یا تم نے مجھے کہیں دیکھا تو نہیں؟‘‘
لڑکے نے معصومیت سے جواب دیا’’نہیں ابا جان‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مجرم: (جوتیز رفتاری کی بنا پر گرفتارہوا تھا): حضور! میری عادت ہے کہ میں ہر کام جلدی کرنے کا عادی ہوں۔
جج: خوب بہت خوب۔ اب میں دیکھتا ہوں تم ایک سال کی سزا کتنی جلدی کاٹتے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک غائب دماغ پروفیسر صاحب نے ایک دعوت سے واپسی پر اپنی بیگم سے کہا۔
’’آج بٹ صاحب کی دعوت میں میری چھتری کھوگئی ۔ بڑی دیر کی تلاش کے بعد ایک بھلے مانس نے ڈھونڈ کر دی۔‘‘
’’لیکن چھتری تو آپ لے کر ہی نہیں گئے تھے‘‘ بیگم نے حیرت سے کہا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسکراہٹیں

اپنا تبصرہ بھیجیں