bajwa

چیف جسٹس نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع معطل کر دی

EjazNews

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے جیورسٹ فاونڈیشن کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ڈاﺅن نیوز کے مطابق سماعت کے آغاز پر درخواست گزار جیورسٹ فاونڈیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک درخواست موصول ہوئی ہے، درخواست گزار اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ موجود ہے جبکہ اس درخواست کے ساتھ کوئی بیان حلفی بھی موجود نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ درخواست آزادانہ طور پر دی گئی ہے یا بغیر دباو¿ کے، اس لیے ہم درخواست واپس لینے کی درخواست نہیں سنیں گے۔
عدالت عظمیٰ نے درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 184 (سی) کے تحت عوامی مفاد میں اس درخواست پر سماعت کی اور اسے ازخود نوٹس میں تبدیل کردیا۔
درخواست پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں اٹارنی جنرل انور منصور خان پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ‘صرف صدر مملک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرسکتے ہیں’، وزیراعظم کو اس توسیع کا اختیار نہیں، جس پر عدالت میں موجود اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی اور سمری کو کابینہ کی جانب سے منظور کیا گیا۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ میں بھی اس طرح کی درخواست دائر ہوئی تھی جو واپس لے لی گئی تھی۔
عدالت میں اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے صدر نے 19 اگست کو آرمی چیف کی توسیع کی منظوری دی تو 21 اگست کو وزیراعظم نے کیسے منظوری دے دی، سمجھ نہیں آرہا کہ صدر کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے دوبارہ کیوں منظوری دی۔
اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے دستخط کیے، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کابینہ اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد صدر نے دوبارہ منظوری دی، اس پر انہیں اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صدر مملکت نے کوئی منظوری نہیں دی۔
خیال رہے 25 نومبر کو جیورسٹ فاونڈیشن نے آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ملتان سلطانز کو شکست دیدی

کامران خان نے بھی جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھاہے کہ آرمی چیف کی extension کے نوٹیفیکیشن کی معطلی لازم تھی کیونکہ سپریم کورٹ کے سامنے ثبوت تھے وزیر اعظم کی لیگل ٹیم نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھانے کے لئے تمام قوائد ضوابط کا قیمہ نکال دیا سپریم کورٹ کے لئے بھی God send opportunity آگئی کہ عمران خان کو دکھائے کہ عدلیہ آزاد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں