health-tips

عمر کے ہر حصے میں صحت مند رہنے کیلئے عمر کے مطابق معمولات اپنائیں

EjazNews

پنجابی کا محاورہ ہے (عمرا وچ کی رکھیا اے۔ دل جوان ہونا چاہدا اے)، عمر میں کیا رکھا ہے، دل جوان ہونا چاہئے یا پھر عمر محض ایک ہندسہ ہے۔ کہنے اور سننے میںتو یہ باتیں بہت اچھی لگتی ہیں، لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے ۔ہر گزرتا لمحہ آپ کی عمر گھٹا رہاہے اور آپ کو پیرانہ سالی کی طرف لے جارہا ہے۔ اکثر لوگوں کو جوانی گزارنے یہاں تک کہ ادھیڑ عمر ہونے کے بعد ہوش آتاہے کہ اگر وہ اپنا طرزِ زندگی بہت پہلےہی تبدیل کرلیتے تو حالات یکسر مختلف ہوتے۔اورآج وہ پہلے سے کہیں زیادہ صحت مند ہوتے۔
جیسے ہی کسی شخص کی عمر 30سال کی حد عبور کرجائے تو آپ کو اپنے معمولات میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنے لیے وقت نکالنا بہت ضروری ہوجاتا ہے، مثلاً اگر آپ صبح یا شام کو چہل قدمی کرنا اپنا معمول بنالیتے ہیں اور کبھی ناغہ نہیں کرتے تو آپ70سال کی عمر میں بھی اتنی ہی آسانی اور مزے سے چہل قدمی کررہے ہوں گے اور تھکن نہیں ہوگی۔ یہ بالکل ایساہی ہے کہ آپ کم وزن سے ایکسرسائز کا آغاز کریں اور جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا تو آپ کے زائد وزن اٹھانے کی صلاحیت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ کوئی بھی چیز مستقل مزاجی سے کی جائے تو وہ آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے اور آپ اسے غیر محسوس طریقے سے کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔
طرز زندگی بدل کر آپ ایک بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ کو خیال کرنا ہوگا کہ آپ کے جسم کے کون سے اعضا کیسے کام کرتے ہیں۔
جلد آپ کے جسم کا ایک اہم عضو ہے، اگر اس کی دیکھ بھال اچھی طرح کی جائے تو یہ پورے جسم کی دیکھ بھال میں لگی رہتی ہے، ساتھ ہی جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول رکھتی ہے۔اگر آپ معمولی سے یہ کام کرلیں جو نہایت آسان ہیں تو آپ اپنے جسمانی جلد کی بہترین حفاظت کر سکتے ہیں۔ باہر نکلتے وقت عینک کا استعمال کریں۔ ممکن ہو تو سال میں ایک مرتبہ سکن سپیشلسٹ سے اپنی جلد ضرور چیک کروائیں۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے ایسی خوراک کو اپنے کھانے کا حصہ بنائیں جس سے آپ کی جلد کی حفاظت ہو سکے۔ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہپ کی پیدائشی بے ترتیبی
اپنی عمر کی مطابقت سے جو ایکسر سائز آپ کو اچھی لگتی ہے اسے ضرور کریں

آپ عمر کے جس حصے میں ہیں اس کے مطابق اپنی غذا کا انتخاب کریں۔ اس کے لیے آپ اپنے دماغ سے بھی کام لے سکتے ہیں لیکن اگر ماہرین غذائیت کی بتائی ہوئی درج ذیل غذائوں سے استفادہ کر یں تو یہ آپ کی صحت کیلئے زیادہ بہتر ہوں گی۔
پھل اور سبزیاں استعمال کریں۔ پروٹین، جیسے مچھلی اور پھلی کھائیں۔ روزانہ بغیر چھنا دلیہ، بغیر چھنے آٹے کی روٹی کا استعمال کریں۔ کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات جیسے کہ دودھ، دہی اور پنیر وغیرہ جن میں وٹامن ڈی ہوتاہے استعمال کریں۔ پروسیس کی ہوئی غذائوں، ریفائنڈ شوگر اور غیر صحت بخش چکنائی ( مرغن غذائوں ) سے جس حد تک پرہیز کر سکیں ضرور کریں۔ نمک کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ بلڈ پریشر کی سطح کم رہے۔ تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اور آپ کے ارد گرد تمباکو نوشی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔
اس کے بعد ایکسرسائز کا معمول آپ کو بیماریوںسے دوررکھتا ہے ، خاص طور پر دل کے امراض اور کینسر کے خلاف متحرک رکھتاہے۔ ایکسرسائز سے ذہنی تناؤ میں کمی کے علاوہ نیند، جلداور ہڈیوں کی صحت میں بہتری آتی اور موڈ بہتر رہتاہے۔ ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ ہفتے میں ڈھائی سے پانچ گھنٹے کی عام اور سوا سے ڈھائی گھنٹے کی تیز ایکسرسائز یا دونوں کاامتزاج آپ کے عضلات کو مضبوط بناتاہے۔ یہ ایکسرسائز آپ اپنی عمر کے لحاظ سے خود تجویز کر سکتے ہیں۔لیکن آپ جو بھی ایکسر سائز کریں اسے زندگی کا معمول بنا لیں۔
ذہنی دباؤ صرف آپ کی ذہنی ہی نہیں جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتاہے۔ اس طرح وقت سے پہلے آپ کے چہرے پر جھریاں پڑنے اور دل کی بیماریاں ہونے کے مواقع بڑھنے لگتے ہیں۔ ا سی لیے ذہنی دباؤ کو دور یا کم کرنے کیلئے ریلیکس ہونے کی تکنیکس اپنائیں۔بھرپور نیند اور دوستوں سے بات چیت کریں اپنے دل کا غبار اپنے کسی دوست کے سامنے نکال سکتے ہوں تو ضرور نکالیں تاکہ بوجھ کم ہو سکے۔ دوست احباب سے ملنا جلنا زیادہ کردیں۔ اپنی باتیں کریں، ان کی باتیںسنیں۔ دوسروں کے مسائل سن کر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق انھیں مشورہ دیں۔ اپنی پریشانی کادوسرے سے ذکر کریں۔ اسے دور کرنے کے مشورے حاصل کریں۔ دوسروں کی غلطیاںمعاف کریں۔ پانچ وقتہ نماز کی عادت بھی ذہنی دباؤ کو کم کرنےمیںبہت مدد دیتی ہے۔
ایک جیسےمشاغل سے انسان اُکتا بھی جاتاہے، نت نئی چیزیں کرنے سے نہ صرف زندگی کی رونق باقی رہتی ہے بلکہ ہمارے اندر نیا جذبہ بھی پیدا ہوتاہے۔ آپ عمر کے جس بھی حصے میں ہوں آپ اس کے مطابق اپنا کوئی مشغلہ اپنا سکتے ہیں۔ مثال کے طورپر کسی کو کرکٹ کھیلنے کا شوق ہے ، کسی کو فٹ بال کا شوق ہوتا ہے ، کسی کو شطرنج کا ہوتا ہے تو کسی کو باغبانی کا ۔ کچھ لوگ عمر کے ہر حصے میں کچھ نہ کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے مشاغل آپ کو ذہنی طور پر متحرک اورجینے کی امنگ کو تازہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  طبی معلومات
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں