cleaning

صفائی نصف ایمان ہے

EjazNews

ایک مسلمان کو صفائی کی تلقین کرنا اسے اپنے فرائض سے غفلت کرنے پر شرمندہ کرنے کے برابر ہے کیونکہ صفائی تو اس کے ایمان کا جزو ہے۔گندگی تو ایک مسلمان کے لئے زہر قاتل ہے اور کسی بھی قسم کی نجاست کی آلودگی کی صورت میں وہ نہ کوئی دینی کام سر انجام دے سکتا ہے اورنہ دنیاوی، طہارت صفائی اور پاکیزگی کی اہمیت اس حکم سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم جس سے ایک مسلمان قدم قدم پر رہنمائی حاصل کرتا ہے کو وہ جب تک مطہر نہ ہو ہاتھ تک نہیں لگا سکتا۔
اسلام کا عرب جیسے ملک میں ظہور ہوا جو ایک ریگستان ہے اور جہاں پانی کی قلت ہے۔ اسلام کا طہارت اور پاکیزگی پر اس قدر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ طہارت اور ایمان ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ پانی کی قلت کی وجہ سے عرب صفائی کا بالکل خیال نہیں کرتے تھے۔ خاص طور پر ہر قسم کا گوشت کھانے کی وجہ سے انہیں دانتوں کی بیماریاں لاحق رہتی تھیں آج تحقیق کہتی ہے کہ انسان دانتوں کی صفائی سے لاپرواہی برت کر اپنے دانتوں سے اپنی قبر کھودتاہے لیکن نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کی صفائی کےلئے ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ حضور ﷺنے فرمایا کہ اگر میری امت پر شاق نہ گزرتا تو میں اسے فرض قرار دیتا۔
مسلمانوں میں صفائی طہارت فطرت ثانیہ کا حیثیت رکھتی ہے۔ نماز جیسی اہم عبادت کے لئے جس کا دن میں پانچ وقت ادا کرنا فرض ہے۔ مسلمانوں کے لئے ضروری قرار دیا گیاکہ اس کا بدن اس کے کپڑے اور اس کی نماز پڑھنے کی جگہ نجاستوں اور آلودگیوں سے پاک ہو۔ تہمد اور پاجامہ کو ٹخنہ سے اوپر رکھنے کے حکم میں یہی مصلحت ہے کہ کپڑا نجاستوں سے آلودہ نہ ہو اور جسم میں سے مس ہو کر جراثیم کی پیدائش کا سبب نہ بنے۔
اقراءکے بعد جو دوسری وحی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کی گئی وہ سورة مدثر کا یہ حکم ہے۔ ”وثیابک مطہر“ (اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ) کیونکہ لباس جسم اور جان کی صفائی اور پاکیزگی ہی کے راستے قلب کی پاکیزگی تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اسلام نے عورت کے لئے مکمل ستر اور مردوں کے لئے موزوں ستر پوشی ضروری قرار دی ہے عورت کی مکمل ستر پوشی میں فحاشی کے تداراک کے علاوہ یہ حکمت بھی مضمر ہے کہ عورتیں گھروں کی صفائی میں روزانہ بلکہ دن بھر مصروف رہتی ہیں۔
جسمانی اعضا اگر کھلے ہوں تو ان میں جراثیم کے سرایت کر جانے کے زیادہ امکانات موجود رہتے ہیں میلے کپڑوں کی دھلائی میں یہ امکان بھی زیادہ ہے ۔پانی ایک عام جراثیم کش مائع ہے۔ اس سے وضو میں اور غسل میں کم از کم تین بار پانی استعمال کرنے کا حکم ہے تاکہ جراثیم کے اثرات کا احتمال نہ رہے۔ جناب سرور کونین ہادی¿ دارین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے فوری غسل جنابت کی تاکید فرمائی اور جمعہ کے دن غسل کرنے خوشبو لگانے اور کپڑے بدلنے کی ہدایت فرمائی ہے اس جسمانی طہارت کے بعد قرآن کریم قلبی اور ذہنی پاکیزگی پر بھی زور دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اس میں مال کے پاکیزہ کرنے کا بھی حکم بھی موجود ہے۔
جسم و جان، قلب و نگاہ کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے گھر گلی محلہ اور شہر کی صفائی کی طرف بھی توجہ دے۔
(اے ڈی ظفر)

یہ بھی پڑھیں:  گلوبل صورت حال اور مسلمانوں کے لیے راہ عمل

اپنا تبصرہ بھیجیں