hazrat-safiha

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر

EjazNews

یہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پھوپھی ہونے کے ساتھ ہی ساتھ خالہ زاد بہن بھی ہیں۔ حضرت سید الشہداءحضرت حمزہ ؓ کی بہن ہیں۔ ابو سفیان بن حرب ؓ کے بھائی حارثؓ سے ان کی شادی ہوئی تھی ،جس سے ایک لڑکا پیدا ہوا تھا۔ اس کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہ ؓ کے بھائی عوام بن خویلدؓ سے نکاح ہوا جس سے حضرت زبیر ؓ پیدا ہوئے۔ چالیس برس کی عمر جب ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام پھوپھیوں میں یہ شرف صرف حضرت صفیہ ؓ کو حاصل ہے کہ انہو ں نے اسلام قبول کیا۔ اسد الغابہ میں ہے ”والصحیح انہ لم یسم غیرھا“۔ “ یعنی صحیح یہ ہے کہ ان کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی کوئی پھوپھی ایمان نہیں لائیں۔ حضرت صفیہ ؓ اپنے بیٹے حضرت زبیر ؓ کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ میں آئیں غزوئہ احد میں جب مسلمانوں نے شکست کھائی تو وہ مدینہ سے نکلیں۔ صحابہ سے عتاب آمیز لہجہ میںکہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو چھوڑکرچل دئیے۔ “ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو آتے دیکھا تو حضرت زبیرؓ کو بلا کر ارشاد کیا کہ حمزہؓ کی لاش نہ دیکھنے پائیں۔ حضرت زبیرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پیغام سنایا۔ بولیں کہ میں اپنے بھائی کا ماجرا سن چکی ہوں۔ لیکن خدا کی راہ میں یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اجازت دی۔ لاش پر گئیں ۔ خون کا جوش تھا اور عزیز بھائی کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے۔ لیکن ”انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہہ کرچپ ہو گئیں اور مغفرت کی دعا مانگی۔ واقعہ چونکہ نہایت درد انگیز تھا اس لیے ایک مرثیہ کہا جس کے ایک شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے مخاطبت کرتی ہیں۔
ان یوم ما اتی علیکم لیوم کورث شمسہ وکان مضیئا
ترجمہ : آج آپ پر وہ دن آیا ہے جس میں آفتاب سیاہ ہوگیا ہے حالانکہ پہلے وہ روشن تھا۔ (اصابہ)
غزوئہ احد کی طرح غزوئہ خندق میں بھی انہوں نے نہایت ہمت اور استقلال کا ثبوت دیا۔ انصار کے قلعوں میںفارع سب سے مستحکم تھا۔ اور حضرت حسانؓ کا تھا یہ قلعہ بنو قریظہ کی آبادی سے متصل تھا۔ مستورات اسی میں تھیں اوران کی حفاظت کے لیے حضرت حسان شاعر متعین کر دئیے گئے تھے۔ یہودیوں نے یہ دیکھ کرتمام جمعیت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہے، قلعہ پر حملہ کر دیا۔ ایک یہودی قلعہ پھاٹک پر پہنچ گیا اور قلعہ پر حملہ کرنے کا موقعہ ڈھونڈ رہا تھا۔ حضرت صفیہ ؓ نے دیکھ لیا، حسان سے کہا کہ اُترکر قتل کر دو۔ ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو پتہ دے گا۔ حضرت حسان ؓ کو ایک عارضہ ہو گیا تھا جس نے ان میں اس قدر جبن پیدا کر دیا تھا کہ وہ لڑائی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اس بنا پر اپنی معذوری ظاہر کی اور کہا اگر میں اس کام کا ہوتا تو یہاں کیوں ہوتا۔ حضرت صفیہ ؓنے خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ لی اور اتر کر یہودی کے سر پر اس زور سے ماری کہ سر پھٹ گیا۔ حضرت صفیہ ؓ نے کہا اچھا جاﺅ اس کا سر کاٹ کر قلعہ کے نیچے پھینک دو تاکہ یہودی مرعوب ہو جائیں۔ لیکن یہ خدمت بھی حضرت صفیہ ؓ کو انجام دینی پڑی۔ یہودیوں کو یقین ہوا کہ قلعہ میں بھی کچھ فوج متعین ہے اس خیال سے پھر انہوں نے حملہ کی جرا¿ت نہ کی۔ (طبقات ابن سعد)
11ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے انتقال فرمایا ۔ حضرت صفیہؓ کو جو صدمہ ہوا ہوگا ظاہر ہے انہوں نے نہایت پر درد مرثیہ لکھا جس کا مطلع یہ ہے
نفقد رسول اللہ اذ حان یومہ فیلعین جودی بالدموع السواجم
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اے آنکھ خوب آنسو بہا۔ (سیرة ابن اسحق)
حضرت صفیہ ؓ سے شجاعت اور اطاعت کا سبق سیکھو۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اُم سلیم ؓ کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں