kashmir-laik-down

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے چار ماہ ہونے والے ہیں، کشمیری اپنے وکیل اور سفیر کی طرف دیکھ رہے ہیں

EjazNews

مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں اور کرفیو کوچار ماہ ہونے والے ہیں، لیکن دنیا کشمیریوں کی شنوائی کہیں نہیں ہے۔ ابتدائی طور پر جب یہ پابندیاںاور کرفیو لگا تھا تو وزیراعظم عمران خان جس طرح کشمیر کاز کو لے کر چلے تھے ،لگتا تھا کشمیر کا مسئلہ کسی نہ کسی جانب لگ کر رہے گا۔
پھر مولانا فضل الرحمن نے دھرنا دے دیا اور وزیراعظم عمران خان کشمیر کاز سے دور ہو گئے ۔ وہ اپنی تقریروں میں اس کا ذکر کرتے رہے ہیں کہ اس دھرنے کی وجہ سے کشمیر ایشو کو بہت نقصان ہو رہا ہے لیکن اب یہ دھرنا ختم ہو چکا ہے ۔ وزیراعظم کو کشمیر کا وکیل اور سفیر بن کر کام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
کشمیر میں برفباری اور سردموسم سے کشمیریوں کو کھانے کی اشیاء اور دواؤں کی قلت کا سامنا ہے،کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے بھی قاصر ہیں۔آپ اندازہ کیجئے کہ چار ماہ ہونے والے ہیں اور کشمیر کے اندر کیا ہو رہا ہے اس سے پوری دنیالا علم ہے۔
اگرانڈیا کی اندرونی صورتحال کی بات کی جائے ،وہاں پر اقلیتوں کے ساتھ جیسا سلوک کیا جارہا ہے وہ مہذب دنیا کو لرزا رہا ہے تو سوچئے کہ جہاں پر کسی کو نہیں معلوم کیا ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کا سوچ کر ہی ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اب کشمیری عوام کو خوراک اور ادویہ تک دستیاب نہیں۔ اصل صورتحال کرفیو ہٹنے کے بعد ہی منظر عام پر آئے گی، جو یقیناً بھیانک ہو گی۔
مقبوضہ وادی میں سکول، کالجز اور تجارتی مراکز بند ہیں اور یہ مسلسل بند ہیں۔مقبوضہ وادی میں نظام زندگی پوری طرح مفلوج ہوچکی ہے، قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کے لیے سانس لینا بھی مشکل کردیا ہے۔
اگر کشمیر کے مسئلے پر انڈین میڈیا پر چلنے والے پروگراموں کو دیکھا جائے تو آپ حیرت زدہ نہیں ہوں گے کہ کشمیر ی رپورٹرز انڈیاکے پہلے سے زیادہ مخالف ہو چکے ہیں وہ کسی طور پر انڈیا کی اس ہٹ دھرمی کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔انڈیا کے ریٹائرڈ فوجی ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر برملا کہہ رہے ہیں کہ کشمیری عورتوں کے ساتھ ریپ کرنا چاہیے اور کشمیریوں کو قتل کرنا چاہیے ۔ سوچئے کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہوگی اور ان کی زندگی کیسے کیسے خطروں میں گھری ہوگی۔
کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک مقامی معیشت کو ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ارب ڈالر سے زائد کانقصان ہوچکا ہے جبکہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہیں۔کشمیری نہ جانے اپنی زندگی کیسے گزارر ہے ہوں گے۔ نہ تو وہ مزدوری کیلئے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی مزدوری دینے والوں کو ان کی ضرورت ہے۔ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پال رہے ہوں گے یہ کسی کو معلوم نہیں۔
کشمیری رہنماؤں، نوجوانوں سمیت بچے بھی جیلوں میں قید ہیں، 4 ماہ ہونے کو ہیں کشمیریوں کو نماز جمعہ مساجد میں ادا کرنے نہیں دی جا رہی۔کشمیرمیڈیا سروس کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں اکتوبر میں 10 کشمیریوں کی شہادتیں ہوئیں۔ بھارتی فورسز کی پیلٹ گنز، شیلنگ اور فائرنگ سے 57 کشمیری زخمی ہوئے۔
27فروری کی صبح پاکستان ایئر فورس نے بھارت کے دو مگ 21نامی جنگی طیّاروں کو نشانہ بنایا۔ ان میں سے ایک آزاد اور دوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ پاکستان نے آزادکشمیر کی حدود میں گرنے والے بھارتی لڑاکا طیّارے کے پائلٹ، ونگ کمانڈر، ابھینندن کو حراست میں لینے کے بعد یکم مارچ کو جذبۂ خیر سگالی کے تحت بھارت کے حوالے کر دیا۔ لیکن یہ جذبہ خیر سگالی بھی کسی کام نہیں آیا۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام حق خود ارادیت مانگتے رہے، لیکن بھارت نے پوری دنیا کے سامنے ہامی بھرنے کے باوجود انہیں یہ حق نہیں دیا۔ کشمیری بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آچُکے ہیں اور آزادی کی خاطر کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ ہیں۔بھارت خود کو دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کشمیریوں کو اُن کے بنیادی جمہوری حق سے محروم رکھے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بھارت کےاس دعوے پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ کیا کشمیریوں کو اسی طرح مرنے کیلئے چھوڑ دیا جائے ۔ ان کی آواز بلند کرنا جن کی ذمہ داری ہے وہ اپنے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنے مسائل کے ساتھ ساتھ یہ نہیں بھولنا چاہیےکہ کشمیری ہمارے بہن بھائی ہیں۔ کشمیریوں نے اپنے ہر گھر سے شہید اٹھائے ہیں ۔ کشمیرکی ذمہ داری لی ہے تو اس کو نبھانا بھی ہوگااور کشمیریوں کو اس احساس سے نکالنا ہوگا کہ وہ دنیا میں تنہا ہیں بلکہ کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہویا نہ ہو ایک ملک پاکستان ہے جو ان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔
ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا، مودی اس نعرے کے تحت ہی مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار میں آئے اور اپنی انتخابی مہم میں بار بار مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرتے رہےہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بورس جانسن برطانیہ کے نئے وزیراعظم منتخب

اپنا تبصرہ بھیجیں