Shah-mahamood

سی پیک سے صرف چین کو فائدہ ہوگا پاکستان کو نہیں، یہ امریکہ کی سوچ ہے پاکستان کی نہیں: وزیر خارجہ

EjazNews

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پاکستان سی پیک کے حوالے سے امریکہ کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔سی پیک کے معاملے میں یہ امریکہ کی رائے ہو سکتی ہے لیکن پاکستان اس سے متفق نہیں ہے۔ہم اس رائے کو مسترد کرتے ہیں اور اس بیان سے سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
امریکہ کی جنوبی اور وسطی ایشائی امور کی نائب سیکرٹری ایلس ویلز نے بیان دیا تھا کہ سی پیک سے صرف چین کو فائدہ ہوگا اور پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔ امریکہ نے اس سے بہتر ماڈل تجویز کیا تھا۔
اس بیان کے بعد سے چین کا رد عمل بھی سامنے آیا تھا جس میں چینی حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت کہاں تھا جب پاکستان شدید توانائی کے بحران میں تھا۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے اور کرتا رہے گا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاحکومت نہیں سمجھتی کہ سی پیک پاکستان کے قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرے گا۔ اگر پاکستان کے مجموعی قرضوں کا حجم دیکھیں تو 74 ارب ڈالرز میں سے سی پیک کا صرف 4.9 ارب ڈالرز ہے۔ سی پیک کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوگا، یہ درست نہیں۔سی پیک کے منصوبے جاری رہیں گے۔ سی پیک معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، ہم نے اسے مزید وسعت دی ہے، یہ ایک گیم چینجر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی سماجی اور اقتصادی امور کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کر رہا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی ایلس ویلز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا پاکستان کی معیشت پر بوجھ کا تعلق سی پیک سے نہیں، پاکستان چین کی دوستی سے پیچھے ہٹے گا نہ ہی کسی کی لڑائی کا حصہ بنے گا۔ملک کے اندر اور باہر سی پیک کے خلاف مہم چلائی گئی، امریکہ اس کا حصہ تھا یا نہیں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  سب کی نظریں لاہور ہائیکورٹ پر جمی ہوئی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں