parveen-shakir

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی ۔۔۔۔ میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤنگی

EjazNews

پروین شاکر اردو شاعری میں ایک معتبر نام تھی وہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کی ایک ایسی خوش نصیب شاعرہ تھیں جنہوں نے کم عمری ہی میں شہرت کے افق کو چھولیا تھا اور اپنی شخصیت اور شاعری سے نوجوان ذہنوں کو بے حد متاثر کیا تھا۔
پروین شاکر کی شاعری پڑھنے کے بعد بلا تامل اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کے ہاں صرف رومانیت ہی نہیں بلکہ زندگی ٹھوس مسائل بھی ہیں۔ ان کی شاعری کلاسکیت اور جدت کا ایک حسین امتزاج ہے اور اسی توازن کے سبب انہوں نے فنی عظمتوں کو پالیا۔
جذبے کی جس سچائی سے پروین شاکر نے اردو شا عری کے قارئین کے دل و دماغ دونوں کو ان کی گہرائیوں کی آخری حد تک متاثر کیا ہے وہ سچائی ’’خوشو‘‘ میں ان کے ذاتی کرب کی ٹیس تھی۔
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جائوں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا!
صرف ذات کی تنہائی کے مسئلے کو لے لیجئے جو پوری بیسویں صدی کا مسئلہ ہے۔ مغرب و مشرق میں اس تنہائی نے درد مشترک کی صورت اختیار کر رکھی ہے۔ ان کی شاعری میں اعلیٰ شاعری کا تمام حسن موجود ہے ۔ خیال کی سچائی اور حرارت فکر کی تازگی اور جذبات اور احساس کی خوبصورتی اور بیان کی صفائی اور پختگی اور پھر ان سب سے بڑھ کر جو چیز اسے خصوصیت سے ودیعت ہوتی ہے وہ اُن کی غیر معمولی جرأت اظہار اور بے باکی ہے جس کی بدولت وہ نازک سے نازک نسائی محسوسات کو فنکارانہ چابکدوستی سے بیان کرتی ہیں۔ اس میں رومان کا حسن ، زندگی کی تلخی ، ترشی اور شیربر ینی کے ساتھ نئی تراکیب ،نئی تشبیہات و استعارات کے ساتھ ڈھل گیا ہے اُس نے روایت کے حسن میں نہ صرف اضافہ کیا ہے بلکہ اسے نئی جہتیں عطا کی ہیں۔
جتنا ہو فزوں عطائے رب ہے
تخلیق کا کرب بھی عجب ہے
وہ روایتی جادو سے بہک کر ابہام کے گرداب میں نہیں الجھتی بلکہ وہ قدامت کے گنبد سے نکل کر جدیدیت کے کشادہ صحن میں در آتی ہے تاکہ وہ جدید زندگی کے سجے سجائے ڈرائنگ روم کی بھرپور تصویر کشی کر سکے۔
راکھ کے ڈھیر پہ اب ر ات بسر کرنی ہے
جل رہے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح
۔۔۔
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
۔۔۔
وہ جو پہلے گئے تھے، ہمیں ان کی فرقت ہی کچھ کم نہ تھی
جان ! کیا تجھ کو بھی شہر نامہرباں کی ہوا لگ گئی
جذبات و غیر جذباتی، ڈرامائی و غیر ڈرامائی اور اس قسم کی دوسری جزئیات کے بیان میں بھی پروین شاکر کا کلام کبھی موثر اور توانا شاعری کی سطح سے نیچے نہیں اترا ۔ اس کا راز پروین شاکر کے شعور کی پختگی اور احساس کی لطافت میں تھا۔
سلیم احمد کی رائے میں پروین نے اپنی غزل سے حسن و لطافت کی اس قوت کو جسے نسائیت کہتے ہیں بولنا سکھایا ہے، اس کے لہجے میں بیسویں صدی میں سانس لیتی ہوئی ایک ایسی تازگی کا احساس ہوتا ہے جو اپنی نت نئی وارداتوں کے اظہار کے لئے کسی پروین شاکر ہی کا انتظار کر رہی تھی۔
کس شباہت کو لئے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا
۔۔۔
پھولوں کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن
کچھ اس میں ہوائوں کی سیاست بھی تھی
’’خود کلامی‘‘ میں سچائی کی اس دھار نے پروین شاکر کی شاعری میں ایسی کاٹ پیدا کی ہے کہ اس تصنع بھرے ریا کار ، منافق اورزر پرست معاشرے میں شاید ہی کوئی جھوٹ اس کی زد سے بچ رہا ہو۔
اس کے وصل کی ساعت ہم پہ آئی تو جانا
کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں بسر ہونا
۔۔۔۔
زمین اپنی محبت میں بے غرض تو نہیں
یہ اور بات کہ ہر ہاتھ کا حساب نہ ہو
دولت سے خریدی جانے والی محبت کے اس دور میں جبکہ محبت کا بھرم اٹھتا جارہا ہے اور دولت کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے ۔ اُن کی کتاب خوشبو آج بھی محبت کو اعتبار اور وقار بخشتی ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے اوربھی قابل قدر ہے کہ خوشبو انسانی تاریخ کے ایک جنس زدہ دور کی تصنیف ہونے کے باوجود اس حقیقت پر اصرار کرتی نظر آتی ہے کہ عشق جنس پر مبنی ضرور ہے لیکن عشق جنس کا دوسرا نام ہرگز نہیں۔عشق صرف جسم کی طلب نہیں، روح کی تکمیل بھی ہے لیکن اس بات کوصرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو صرف جسم نہیں روح بھی رکھتے ہیں۔
پروین شاکر کی شاعری کا ایک امتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری سے اپنے دیس کی مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ ان کی شاعری میں اس ملک کے پھولوں کیخوشبو ملتی ہے۔ ان کی شاعری میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں لڑکیاں کس طرح جوان ہوتی ہیں ان کے دن کن خوابوں میں گزرتے ہیں اوران کی راتیں کس طرح کے رتجگے کی نذر ہوتی ہیں۔ ان کے کپڑے اور ان کے زیور کس طرح اور کس حد تک ان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کے تصورات و توہمات ان کی محبتوں میں کیا کیا رنگ ملاتے ہیں۔ ان کی گفتگو کتنی گونگی ہوتی ہے اور ان کی خاموشی کتنی بلیغ ۔
کمال ضبط کو خود بھی تو آزمائوں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجائونگی
سپر د کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آئونگی
بدن کے کرکب کو وہ بھی سمجھ نہ پائیگا
میں دل میں روئوں گی آنکھوں میں مسکرائونگی
وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے منائوںگی
اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گنگنائوں گی؟
وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کےاشاروں پہ سر جھکائونگی
سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب بھی کبھی تیری آواز سن نہ پائوں گی!
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا!!
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جائونگی
امجد اسلام امجد ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ میں پروین کو خاتون شاعرہ کے خانے میں رکھ کر اس کے فنی قدکو کم اور محدود نہیں کرنا چاہتا۔ خوشبو ، صدبرگ اور خودکلامی نے یہ ثابت کر دیا کہ اس کا ستارہ اردو شا عری کے افق پر کوند کر بکھر جانے کے لیے نہیں بلکہ یہاں رکنے اور ٹھہرنے کے لئے آیا ہے۔ میں نے خوشبو کے فلیپ پر اس ستارے کا استقبال کیا تھا اور خودکلامی کی تقریب رونمائی میں اس کو سلام پیش کیا تھا۔ اگر مجھے اشفاق احمد صاحب کی طرح لکھنا آتا تو میں کہتا کہ اگرچہ میں پروین سے بڑا اور بذات خود ایک عظیم شاعر ہوں اور یوں میرا فرض بنتا ہے کہ میں اپنی عظمت کی حفاظت کے لیے کسی دوسرے کی عظمت کو تسلیم نہ کروں مگر پٹنے کی اس دھان پان اور ملوک سی کڑی نے کچھ ایسا چکر چلایا ہے کہ اس کی بڑائی کو تسلیم نہ کرنا کچھ کمینی سی بات لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مسئلہ کشمیر کب اور کیوں پیدا ہوا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں