hazrat-fatima

محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر

EjazNews

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بڑی محبوب ترین اولاد میں سے تھیں۔ آپ ؐ نےفرمایا فاطمہ ؓ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جواسے ناراض کرے گا وہ مجھ کو ناراض کرے گا۔ (مسند احمد)

اور فرمایا تمام دنیا کی عورتوں میں سے حضرت مریم ؑ اور حضرت آسیہ ؓ ، خدیجہ ؓ اور فاطمہ ؓ اقتداء کے لیے کافی ہیں۔ (ترمذی)
فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے ہوا تھا۔ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہیز میں ایک پلنگ اور ایک بستر اور ایک چادر اور ایک مشک اور دو چکیاں عنایت فرمائی تھیں اور عمر بھر یہی چیز کام آتی رہیں۔ (اصابہ)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہؓ کے تعلقات میں خوشگواری پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت علی ؓ اور حضر ت فاطمہ ؓ میں کبھی کبھی خانگی معاملات کے متعلق رنجش ہو جاتی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں میںصلح کر ادیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ آپؐ گھر میں تشریف لے گئے اور صفائی کرادی، گھر سے مسرور نکلے ۔ لوگوں نے پوچھا آپؐ گھر میں گئے تھے تو اور حالت تھی اب آپؐ اس قدر خوش کیوں ہیں۔ فرمایا میں نے ان دو شخصوں میں مصالحت کرادی جو مجھ کو محبوب تر ہیں۔

ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے ان پر کچھ سختی کی۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر پہنچیں۔ پیچھے پیچھے حضرت علی ؓ بھی آئے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے شکایت کی آپؐ نے فرمایا بیٹی تم کو خود سمجھنا چاہئے کہ کون شوہر اپنی بیوی کے پاس خاموش چلا آتا ہے۔ حضرت علی ؓ پر اس کا یہ اثر ہوا کہ انہوں نے حضرت فاطمہ ؓ سے کہا۔ اب میں تمہارے مزاج کے خلاف کوئی بات نہ کروں گا۔ ایک دفعہ حضرت علیؓ نے ایک دوسرا نکاح کر نا چاہا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو سخت برہم ہوئے۔ آپؐ نے مسجد میں خطبہ دیا۔ اس میں اپنی ناراضی ظاہر کی ۔ (فرمایا) میری لڑکی میرا جگر گوشہ ہے جس سے اس کو دکھ پہنچنے گا ۔ مجھے بھی اذیت ہوگی۔ چنانچہ حضرت علی ؓ اس ارادے سے باز آئے اور حضرت فاطمہ ؓ کی زندگی تک پھر کبھی نکاح نہیں کیا۔ حضرت فاطمہ ؓ اپنے گھر کا کاروبار خود کرتی تھیں۔ چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے۔ مشک میں پانی بھر بھر کر لانے سے سینے میں گٹے پڑے گئے تھے۔ گھر میں جھاڑو دیتے دیتے کپڑے چیکٹ ہو جاتے تھے۔ چولھے کے پا س بیٹھے بیٹھتے کپڑے دھوئیں سے سیاہ ہو جاتے تھے ۔ لیکن بایں ہمہ جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار گھر کے کاروبار کے لیے ایک لونڈی مانگی اور ہاتھ کے چھالے دکھائے تو ارشاد ہوا کہ جان پدر ! بدر کے یتیم تم سے پہلے اس کے مستحق ہیں۔ (ابودائود)

یہ بھی پڑھیں:  ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

ایک مرتبہ آپؐ حضرت فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے ۔ دیکھا کہ انہوں نے ناداری سے اس قدر چھوٹا دوپٹہ اوڑھا ہے کہ سر ڈھانکتی ہیں تو پائوں کھل جاتے ہیں اور پائوں چھپاتی ہیں تو سر برہنہ رہ جاتا ہے۔

صرف یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کو آرائش یا زیب و زینت کی کوئی چیز نہیں دیتے تھے بلکہ اس قسم کی جو چیزیں ان کو دوسرے ذرائع سے ملتی تھیں ان کو بھی ناپسند فرماتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے ان کو سونے کا ایک ہار دیا۔ آپؐ کو معلوم ہوا تو فرمایا کیوں فاطمہؓ کیا لوگوں سے کہلوانا چاہتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکی آگ کا ہار پہنتی ہے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے ایک غلام خرید لیا۔

ایک دفعہ آپؐ کسی غزوہ سے تشریف لائے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے بطور خیر مقدم کے گھر کے دروازے پر پردے لگا دئیے اور حضرت حسن اورحضرت حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کے کنگن پہنائے۔ آپؐ حسب معمول حضرت فاطمہ ؓ کے گھر آئے تو اس دنیوی سازو سامان کو دیکھ کر واپس گئے۔ حضرت فاطمہ ؓ کو ان کی ناپسندیدگی کا حال معلوم ہوا تو پردہ چاک کر دیا اور بچوں کے ہاتھ سے کنگن نکال ڈالے۔ بچے آپؐ کی خدمت میں روتے ہوئے آئے۔ آپؐ نے فرمایا ’’یہ میرے اہل بیت ہیں ،میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ ان زخارف سے آلودہ ہوں۔ اس کے بدلے فاطمہؓ کے لیے ایک عصب کا ہار اور ہاتھی کے دانت کے کنگن خرید لادو۔ ‘‘ (ابودائو، نسائی)

صدق و ریاستی میں بھی ان کا کوئی حریف نہ تھا ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ’’ میں نے فاطمہ ؓ سے زیادہ کسی کو صاف گو نہیں دیکھا البتہ ان کے والد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اُم ہانیؓ کا ذکر خیر

حضرت فاطمہ ؓ حد درجہ حیا دار تھیں۔ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طلب فرمایا تو وہ شرم سے لڑ کھڑاتی ہوئی آئیں ،اپنے جنازے پر پردہ کرنے کی جو وصیت کی تھی وہ بھی اسی بنا پر تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت کرتی تھیں جب وہ خورد سال تھیں اور آپؐ مکہ معظمہ میں مقیم تھے تو عقبہ بن ابی معیط نے نماز پڑھنے کی حالت میں ایک مرتبہ آپؐ کی گردن پر اونٹ کی اوجھڑی لا کر ڈال دی قریش مارے خوشی کے ایک دوسرے پرگرے پڑتے تھے کسی نے جا کر حضرت فاطمہ ؓکو خبر کی۔ وہ اگرچہ اس وقت 5-6برس کی تھیں لیکن جوش محبت سے دوڑی آئیں اور اوجھ اٹھا کر عقبہ کو برا بھلا کہا اور بددعائیں دیں۔ (بخاری)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے نہایت محبت کرتےتھے ۔ معمول تھا جب کبھی سفر فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہؓ کے پاس جاتے اورسفرسے تشریف لاتے تو جو شخص سب سے پہلے خدمت میں باز یاب ہوتا وہ بھی حضرت فاطمہ ؓ ہی ہوتیں۔ حضرت فاطمہؓ جب آپؐ کی خدمت میں تشریف لاتیں تو آپؐ کھڑے ہو جاتے۔ ان کی پیشانی چومتے اور اپنی نشست سے ہٹ کر اپنی جگہ بٹھاتے۔ آپؐ ہمیشہ حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے تعلقات میں خوشگواری پیدا کرنے کی کوشش فرماتے رہتے تھے۔

داغ بے پدری
حضرت فاطمہ ؓ کی عمر مشہور روایت کے مطابق 29سال کی تھی کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی۔ حضر ت فاطمہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اولاد تھیں اور اب صرف یہی باقی رہ گئی تھیں ۔ اس لیے ان کو صدمہ بھی اوروں سے زیادہ ہوا ۔ وفات سے ایک دن پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بلا بھیجا۔ وہ تشریف لائیں تو ان سے کچھ کان میں باتیں کیں۔ وہ رونے لگیں پھر بلا کر کچھ کان میں کہا تو ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے دریافت کیا تو کہا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ابھی ظاہر کرنا نہیں چاہتی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو پھر حضر ت عائشہؓ نے دریافت کیا تو حضرت فاطمہ ؓ نے جواب دیا کہ اب بتا سکتی ہوں۔ پہلی دفعہ میں آپ ؐ نے فرمایا کہ میں اسی بیماری میں انتقال کروں گا۔ جب میں رونے لگی تو فرمایا میرے خاندان میں سب سے پہلے تمہیں مجھ سے آکر ملو گی تو ہنسنے لگی۔
وفات سےپہلے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بار بار غشی طار ی ہوئی تو حضرت فاطمہ ؓ یہ دیکھ کر بولیں ’’اکرب اباہ ‘‘ ۔ ہائے میرے باپ کی بے چینی ۔ آپ ؐ نے فرمایا تمہارا باپ آج کے بعد بے چین نہ ہوگا۔ آپؐ کا جب انتقال ہوا تو حضرت فاطمہ ؓ پر ایک مصیبت ٹوٹ پڑی۔ اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ جب تک زندہ رہیں کبھی تبسم نہیں فرمایا۔ بخاری میں لکھا ہے کہ جب نعش مبارک کو دفن کر کے واپس آئے تو حضرت فاطمہ ؓ نے حضرت انسؓ سے پوچھا کہ تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاک ڈالتے اچھا معلوم ہوا۔ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر خیر

وفات حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد چھ ماہ گزرے تھے کہ رمضان گیارہ ہجری میں حضرت فاطمہ ؓ نے وفات پائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی کہ میرے خاندان میں سب سےپہلے تم ہی مجھ سے آکر ملو گی پوری ہوئی۔ یہ منگل کا دن تھا اور رمضان کی تیسری تاریخ تھی اسی وقت وفات پائی۔ (رضی اللہ عنہا)

حضرت فاطمہؓ کی تجہیز و تکفین میں خاص جدت کی گئی۔ عورتوں کے جنازے پر جو پردہ لگانے کا دستور ہے اس کی ابتداء ان ہی سے ہوئی ۔اس سے پہلے عورت و مرد سب کا جنازہ کھلا ہوا ہی جاتا تھا چونکہ حضرت فاطمہؓ مزاج میں انتہا درجہ کی حیاتھی، اس لیے انہوں نے حضرت اسماء بنت عمیسؓ سے کہا کہ کھلے جنازے میں عورتوں کی بے پردگی ہوتی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں۔ اسماء ؓ نے کہا جگر گوشہ رسول میں نے حبش میں ایک طریقہ دیکھا ہے آپ کہیں تو اسے پیش کروں ۔ یہ کہہ کر خرمے کی چند شاخیں منگوائیں اور اس پر کپڑا تانا جس سے پردہ کی صورت ہوگئی۔ حضرت فاطمہ ؓ بے حد مسرور ہوئیں کہ یہ بہتر طریقہ ہے۔ حضرت فاطمہؓ کے بعد حضرت زینبؓ کا جنازہ بھی اسی طریقہ سے اٹھایا گیا۔ حضرت علیؓ نے ان کو غسل دیا اور خود ہی جنا زے کی نماز پڑھائی۔ قبر کے بارے میں سخت اختلاف ہے ،کہا ں مدفون ہیں بعض کے قول کے مطابق دار عقیل میں دفن ہوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں