childre-entertainment

انٹرٹینمنٹ سے محروم پاکستانی بچے

EjazNews

اسے المیہ کہیں یا کچھ اور کہ پاکستانی بچوں کو دکھانے کیلئے ٹی وی اور فلم انڈسٹری کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ بچے وہی کچھ دیکھنے پر مجبور ہیں جو بڑوں کو دکھایا جاتا ہے۔ شرمین عبید چنائے لمبے لمبے وقفے کے بعد بچوں کیلئے کوئی فلم بنا دیتی ہیں لیکن یہ اتنا بڑا غیب ہوتا ہے کہ ان کی اینی میٹڈ فلموں کا ہونا نہ ہونا ایک جیسا ہی ہے۔ ان کے علاوہ اس شعبے میں شاذو ناذر ہی کوئی قسمت آزمانے والا ہوگا۔
دنیا بھر میں بچوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ ان کی انٹرٹینمنٹ کا خیال رکھا جاتا ہے ان کیلئے خصوصی طور پر مواد تیار کیا جاتا ہے ۔ چاہے وہ اینی میٹڈ فلموں کی صورت میں ہو، کارٹونز کی صورت میں ہو یا جیسا بھی ہوا ان کو ان کے معاشرے کے مطابق دکھایا جاتا ہے ۔ لیکن ہمارا المیہ دیکھیں کہ ہماری فلم انڈسٹری جب عروج پر تھی تب بھی ہمارے پاس بچوں کیلئے کچھ نہیں تھا اور اب جب فلم انڈسٹری ریوائول آف سینما کا ٹیگ لیے ہوئے ہے تو ایسے موقع پر تو ان کے بارے میں کیاکہا جاسکتا ہے ۔لیکن فلم سے بھی ایک اہم میڈیم ہوتا ہے ٹی وی انڈسٹری ۔
ٹی وی انڈسٹری نے بھی پاکستانی بچوں کیلئے کوئی خاص مواد تیار نہیں کیا ۔ جب صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا تب بچوں کیلئے کچھ نہ کچھ بن ہی جاتا تھا جیسا بھی ہوتا تھا یہ الگ بحث ہے۔ لیکن دور جدید میں چینلوں کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانی بچوں کو دکھانے کیلئے ہمارے چینلوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری بھی نہ رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں