imran-khan-4

میں اپنی کرسی بچانے کیلئے نہیں آیا بلکہ تبدیلی کے لیے آیا ہوں اور ڈاکوؤں کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں زچہ و بچہ ہسپتال و یونیورسٹی آف میانوالی کا سنگ بنیاد ررکھنے کے بعدتقریب سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے جب ایک سسٹم کرپٹ ہو جاتا ہے تو ہر ادارے میں مافیا بیٹھ جاتا ہے اور جب آپ تبدیلی لے کر آتے ہیں تو یہ مافیا کھڑا ہوجاتا ہے، تب حکمران کہتا ہے کہ میں اپنی کرسی بچاؤں۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے احتساب ختم کرکے شریف خاندان کو این آر او دے دیا اور وہ بیرون ملک روانہ ہوگئے۔جب پرویز مشرف کی کرسی مشکل میں پڑی تو این آر او دے کر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو لے کر آئے۔
ان کا کہنا تھا میں اپنی کرسی بچانے کیلئے نہیں آیا بلکہ تبدیلی کے لیے آیا ہوں اور ڈاکوؤں کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا۔ میانوالی میں صحت اور پانی کی سپلائی سکیموں اور تعلیم کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔ نوجوانوں کو بہترین روزگار دینے کے لیے انہیں ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا۔مجھے اپنی سیاست کے ابتدائی دور میں میانوالی میں پذیرائی ملی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں میانوالی میں رکن قومی اسمبلی تھا تب مجھے صرف پٹواری، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی شکایات موصول ہوتی تھیں۔تب میں نے نظام بدلنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ عمران خان ہو یا نہ ہو، نظام قائم رہے۔
وزیراعظم نے بلدیاتی اداروں کے بارے میں بھی بات کی جس کے متعلق ان کا کہنا تھا پاکستان میں کبھی بھی وہ بلدیاتی نظام نہیں آیا جو فلاحی ریاست کا تصور پیش کرے۔ہمارا بلدیاتی نظام ایسا ہوگا جس میں صوبوں سے اختیارات اضلاع اور گاؤں تک جائیں گے۔ پیسہ اضلاع اور گاؤں تک پہنچے گا اور گاؤں کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ کس مد میں پیسہ خرچ کیا جائے۔ شہری علاقوں میں انتخابات ہوں گے جہاں ناظم منتخب ہو گا اور وہ اپنی ٹیم تشکیل دے گا اور تمام امور اس کی ذمہ داری ہوگی ۔ شہر سے پیسے اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کو بہتر بنانے کی ذمہ داری ناظم پر ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہی بلدیاتی نظام رائج ہے۔
اسی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا جب میں نے نواز شریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو میں نے ڈاکٹروں کی رپورٹس سامنے رکھ لی، رپورٹ میں لکھا تھا کہ ان کے دل، گردے ،ہارٹ بھی ٹھیک نہیں ہے،شوگر بھی ہے۔میں کبھی نواز شریف کی طبی رپورٹ کو دیکھتا اور کبھی نواز شریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھتا۔جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہوا یا لندن کی ہوا لگنے سےاب میں سوچ رہا ہوں اس پر تحقیق ہونی چاہیے یا نہیں۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ حسن نواز آٹھ ارب کے گھر میں رہتا ہے دوسرے بہن بھائی بھی ارب پتی ہیں ۔ جبکہ اسحٰق ڈار کے والد کی سائیکلوں کی دکان تھی۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مولانا فضل الرحمن کو بھی آہنی ہاتھوں سے لیتے ہوئے کہا کہ کسی سے کوئی ڈیل نہ ہوئی ہے نہ ہوگی۔ڈیل اس ملک کے ساتھ غداری ہے۔وہ شخص جو خود کو مولانا کہتا ہے جھوٹ بول کر مدارس کے بچوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ مولانا کے ہوتے ہوئے کسی یہودی کو سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔یہ بے روزگاروں کا ٹولہ تھا۔
وزیراعظم نے تقریب میں معیشت کے بارے میں بھی بتایا اور اپنی معاشی ٹیم کو اچھی کارکردگی دکھانے پر مبارکباد بھی۔ انہوں نے پنڈال میں موجود لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے میری طاقت بننا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حج قرعہ اندازی ہو گئی ، کامیاب درخواست گزاروں کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع دی جائے گی:وزیر مذہبی امور

اپنا تبصرہ بھیجیں