Conversion-Disorder

ذہنی دباؤ ( کنورژن ڈس آرڈر) کو سمجھئے

EjazNews

ایک تحقیق کے مطابق قدیم یونان میں خواتین کے پوشیدہ امراض کے لیے ہسٹریا کی اصطلاح استعمال کی گئی، کیونکہ یونانی زبان میں ’’ہسٹرا‘‘ کے معنی رحم کے ہیں۔ ماہرنفسیات، سگیمنڈ فرائڈ کے نظریئے کے مطابق ’’خواتین میں ہسٹریا کی بنیادی وجہ جنسی فرسٹریشن ہے۔‘‘ لیکن بعض ماہرین نفسیات نے اس نظریئے کو رد کرتے ہوئے اپنے اپنے نظریات پیش کیے۔ تاہم، ہسٹریا لاحق ہونے کی کوئی حتمی وجہ سامنے نہ آ سکی۔ بہرحال، اب متعدد تحقیقات، مشاہدات کے بعد جدید میڈیکل سائنس نے ان سب کی نفی کرتے ہوئے اس عارضے کوConversion Disorderقرار دے دیا ہے، جس کا تعلق ذہنی دبائو اور گھٹن سے ہے، نہ کہ رحم سے۔ اور اس عارضے کے لاحق ہونے میں جنس کی بھی کوئی قید نہیں۔ یہ صرف خواتین ہی کو نہیں، بلکہ مردوں اور نوجوان بچوں، بچیوں کو بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ مرض کے شکار افراد لاشعوری طور پر ایسی حرکات کرتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
جب ہم کسی مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں، تو عمومی طور پر اس کا حل تلاش کرتے ہیں یا پھر جھنجھلا کر دوسروں پر غصّہ نکالتے ہیں، لڑتے جھگڑتے ہیں، مگر کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں، جب ذہن درپیش حالات قبول کرتا ہے، نہ ہی صورتحال سے نمٹنے کا کوئی حل سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کا کوئی بہت قریبی عزیز خوف ناک حادثے میں انتقال کرجائے۔ ایک فوجی محاذِ جنگ پر لڑ رہا ہے یا پھر ایک بہو، جس کے سسرال والے ظالم بھی ہیں اور میکے میں بھی کوئی جذباتی سہارا دینے والا نہیں۔
ایک بہو جو ہر لحاظ سے سسرال میں کمزور حیثیت کی حامل ہے۔ وہ نہ تو اس ماحول سے چھٹکارا پا سکتی ہے، نہ ہی کسی سے لڑ جھگڑ کر، چیخ چلا کر اپنا غصّہ نکال سکتی ہے۔ اور یہی مختلف حالتیں کنورژن ڈس آرڈر کی بنیادی وجوہ ہیں۔ یعنی ایک ایسا فرد، جو خود کو مسائل میں اُلجھا محسوس کرتا ہو، مگر شعوری طور پر حل نکالنے سے قاصر ہو، تو اُس کا ذہن لاشعوری طور پر ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گا، جس کی مدد سے وہ اس صورتحال سے باہرنکل سکے۔مثلاًکوئی فردکسی پیارے کو اپنے سامنے مرتا دیکھنے کے بعد بولنے، دیکھنے یا چلنے سے معذور ہوجاتا ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف گھر کا ماحول یک لخت بدل جائے گا،بلکہ سب کی توجہ اس نئے مسئلے کی طرف مبذول ہوجاتی ہے۔ اور زیادہ تر کیسز میں ایسا تب ہی ہوتا ہے، جب وہ فرد کسی نہ کسی حوالے سے خود کو اس حادثے کا ذمدار سمجھتا ہو اور لاشعوری طور پہ خود کو سزا دے رہا ہو۔
اس کی علامات ہر مریض میں مختلف ہوتی ہیں۔ بعض مریضوں کو جھٹکے لگتے ہیں، تو کوئی کھڑے کھڑے گر جاتا ہے اور بظاہر بے ہوش دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں آسیب زدگی کی علامات سب سے عام تصور کی جاتی ہیں، جیسے نامانوس آواز میں باتیں کرنا، بار بار بے ہوش ہوجانا اورغیبی مخلوق کا نظر آنا وغیرہ وغیرہ۔ دیگر علامات میں جسم کے کسی حصے کا مسلسل ہلنا، گہری سانس لینا، بینائی کا چلے جانا اور جسم کے کسی عضو کا مفلوج ہوجانا وغیرہ شامل ہیں۔ کنورژن ڈِس آرڈر کا دورہ مرگی کے دورے سے مشابہت رکھتا ہے(یعنی اچانک ہاتھ پائوں مُڑ جانا، منہ سے جھاگ آنا اور گر جانا وغیرہ)،اسی لیے زیادہ تر افراد ان دونوں عوارض کو ایک ہی مرض سمجھتے ہیں،جبکہ ایسا نہیں ہے۔
یہ بات سمجھنے والی ہے جب مرگی کا دورہ پڑتا ہے، تو مریض کو اچانک گر جانے کی وجہ سے شدید چوٹیں آسکتی ہیں، بعض مریضوں کا پیشاب خارج ہوجاتا ہے اور زبان دانتوں تلے آ کر کٹ بھی سکتی ہے۔ اس کے برعکس کنورژن ڈِس آرڈر میں مریض کا لاشعور ہوشیار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مریض جب گرتے ہیں، تو شدید چوٹیں لگنے کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں۔ کنورژن کا دورہ عموماً لوگوں کی موجودگی میں اور مریض کے جاگنے کے دوران پڑتا ہے، جبکہ گہری نیند، نشہ آور ادویہ یا ہائپنوسزکے زیراثر اس کی علامات ختم ہو جاتی ہیں۔
کنورژن ڈس آرڈر کے علاج معالجے کے حوالے سے کچھ اہم باتیں ذہن نشین کرلیں۔ پہلی بات تو یہ کہ مریض جو حرکات کر تا ہے، اُن سے وہ خود بھی واقف نہیں ہوتا ہے، لہٰذا کبھی بھی یہ نہ سمجھیں کہ مریض آپ کو یا لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے۔ یہ سب اس کے لاشعور کی وجہ سے ہے، جس سے اس کا شعور بالکل واقف نہیں ہوتا۔ کنورژن ڈس آرڈر کی تشخیص کے لیے ماہرین سے رجوع کریں، تاکہ درست تشخیص ہوسکے۔ کنورژن ڈس آرڈرکی حتمی تشخیص صرف دماغ کے ایم آئی آر ہی کے ذریعے ممکن ہے، لہٰذا کبھی بھی جسمانی معائنے کے بغیر صرف کنورژن ڈس آرڈر ہی نہیں، بلکہ کسی بھی ذہنی بیماری کا علاج شروع نہ کیا جائے۔ علاج کے لیے سب سے بہتر طریقہ تو یہی ہے کہ اُن مسائل پہ توجہ دی جائے، جن کی وجہ سے مریض ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ اپنے پیاروں کونہ تو اپنے لفظوں اور رویوں سے تکلیف دیں ، نہ ہی اُن کے لیے زندگی اس قدر مشکل بنائیں کہ انھیں بیماری میں جائے پناہ تلاش کرنی پڑے۔ایسا مریض ذہنی طور پر بہت حساس ہو چکا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملیریا ایک خطرناک بیماری جس سے بچاؤ ممکن ہے
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں