hazrat-roqiya

حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

EjazNews

جرجانی نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکیوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ لیکن مشہور روایت یہ ہے کہ زینب ؓ کے بعد (جب آپ کا سن شریف 33سال کا تھا) قبل نبوت پیدا ہوئیں۔ پہلے ابولہب کے بیٹے عتبہ سے شادی ہوئی۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ یہ شادی قبل نبوت ہوئی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیٹی ام کلثوم ؓ بھی ابو لہب کے دوسرے لڑکے عتبہ سے ہوئی تھی۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپ نے دعوت اسلام کا اظہار کیا تو ابو لہب نے بیٹوں کو جمع کر کے کہا اگر تم محمد کی بیٹیوں سے علیحدگی اختیار نہیں کرتے تو تمہارے ساتھ میرا سونا بیٹھنا حرام ہے۔ دونوں فرزندوں نے باپ کے حکم کی تعمیل کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہ ؓ کی شادی حضرت عثمان ؓ سے کردی۔ نکاح کے بعد حضرت عثمان ؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ حضرت رقیہ ؓ بھی ساتھ گئیں۔ مدت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوان کا کچھ حال معلوم نہ ہوا۔ ایک عورت نے آکر خبر دی کہ میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی اور فرمایا کہ ابراہیم ؑ اور لوط ؑ کے بعد عثمان ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بی بی کو لے کر ہجرت کی ہے۔ حبش میں حضرت رقیہ ؓ کے ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبد اللہ تھا۔ لیکن صرف 6سال زندہ رہا۔ حضرت عثمان ؓ حبش سے مکہ کو واپس آئے اور وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ حضرت رقیہ ؓ مدینہ میں آکر بیمار ہوئیں۔ یہ غزوہ بدر کا زمانہ تھا۔ حضرت عثمان ؓ ان کی تیمار داری کی وجہ سے شریک جہاد نہ ہو سکے۔ عین اسی دن جس روز زید بن حارثہ ؓ نے مدینہ آکر فتح کا مژدہ سنایا رقیہ ؓ نے وفات پائی۔ غزوئہ بدر کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکے۔ (سیرة النبی )

یہ بھی پڑھیں:  ام المساکین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں