blinder

انسانی ہمت کی داستان جو جسم میں جوش بھر دے

EjazNews

وہ دیکھ سکتا ہے نہ سن سکتا ہے لیکن پھر بھی اس نے 127ممالک کی سیر کر لی۔ وہ تنہا تھا کوئی اس کے آس پاس نہ تھا کوئی مدد گار نہ ساتھی اور نہ گائیڈ۔ بند آنکھوں اور بہرے کانوں سے 127ممالک کو اس نے اپنے پیروں کے نیچے محسوس کیا۔ ان کے خوبصورت پہاڑوں کی مٹی اپنے پیروں کے نیچے اور ان کی دیواروں کے نقش و نگار اس نے اپنے ہاتھوں میں محفوظ کیا۔ لوگوں کی خوشبو ، گاڑیوں کا سفر اور رواں دواں ٹریفک کی خوشبو کو اس نے محسوس کیا۔ بظاہر یہ سب ایک ناممکن سفر تھا۔ سبھی نے اس سے کہا ٹونی جائل (tonygily) یہ تم کیا کر رہے ہو ایسا نہ کرو تم یہ دیکھ نہیں سکو گے جانے کا فائدہ کیا۔ لیکن اس نے کسی کی نہ سنی وہ بچپن سے ہی سفر کا شوقین تھا۔ کان کو لگانے والا ایک آلہ خریدا۔ اور ایک ایسا آلہ جس کی مدد سے اسے بلند و بالا پہاڑ کا ہیولہ سا دکھائی دے سکتا تھا۔ اس کے سوا وہ نہ کچھ دیکھ سکتا تھا نہ سن سکتا تھا۔ سب سے پہلے اس نے امریکہ کی 50ریاستوں کے سفر کی تھانی اور وہ تنہا ایک کونے سے ریاست در ریاست پھرتا رہا۔ اس نے میامی اور رفاتہ کے پانیوں میں سفر کیا۔ سانس فرانسکو کی ٹھنڈی ہوا?ں کے بیچوں بیچ گزرتی کشتیوں کا وہ مسافر بنا۔ اور کچھ ریاستیں بھی اس نے اپنے پیروں کے نیچے محسوس کیں ان کی گرم اور سرد ہوائیں اس کے جسم سے ٹکراتی تو اسے احساس ہوتا۔ 50ریاستوں کا سفر مکمل کرنے کے بعد اس نے باقی 6براعظموں کی سیر کی ٹھانی۔ لیکن میرا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا 127ممالک کے تمام دنیا کے ممالک کی سیر کو جانا چاہتا ہوں ہر ملک کی سیر کروں گا حتیٰ کہ اسی سفر میں میری موت ہوگی اس نے غیر ملکی جریدے ٹیلی گراف ٹریول کی نمائندہ اینا بیل فین وٹ ایلیٹ سے کہا۔40جائل دنیا کے سفر کے بارے میں بہت پر عزم ہے وہ محض 9مہینے کا تھا جب اسے آنکھوں کی ایک بیماری نے آلیا جسے ٹون ڈسٹرافی اور فوٹو فوبیا کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں بیماریاں کسی سے اس کی بینائی چھین لینے کے لیے کافی ہیں اسے دیکھنے سے خوف آنے لگتا ہے 6سال کا تھا کہ دونوں کانوں کی بصارت اچانک چلی گئی۔ 10سال کی عمر تک وہ سیاہ اور سفید میں تمیز کر سکتا تھا رفتہ رفتہ یہ بھی ختم ہو گئی۔ اس وقت وہ مکمل طور پر نابینہ ہے البتہ بصارت کوئی 20فیصد باقی ہوگی طاقتور آلات بصارت کی مدد سے وہ تھوڑی بہت آوازوں کو محسوس کر سکتا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے کوئی شکستہ ٹیلی فون کی تاروں سے بات کر رہا ہو۔ محض کچھ آوازوں اور لفظوں کو سن سکتا ہے اکثر کو نہیں۔
جائل خصوصی بچوں کے لیے بنائے گئے سکول میں داخل ہوا۔ بعد میں رائل نیشنل کالج برائے نابینا میں داخل ہوگیااور یہی سے اس نے آزادانہ زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھا اور اسی رائل نیشنل کالج نے اس کو اس کی محتاجی ختم کرنے میں مدد دی۔ بریلی سے وہ الفاظ اپنے پڑھنے کے قابل ہوا اور یہی خصوصی کمپیوٹر کے سافٹ وئیر کی مدد سے وہ اپنی نقل و حمل کو بھی بہتر بنانے کے قابل ہوگیا۔ کسی نے پوچھا کہ اے جائل تجھے نہ دکھتا ہے نہ دکھائی دیتا ہے ان کے بغیر سفر کر نے کا کیا فائدہ لوگ تو تمہیں دیکھ کر گھبرا جائیں گے کہ یہ نابینا کہاں سے گھس آیا۔
میں پہاڑوں کو ہائیکنگ کرتے ہوئے محسوس کروں گا۔ ایفل ٹاور اور مجسمہ آزادی پر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ان کو محسوس کروں گا۔ میں شہروں کو اپنے پیروں کے نیچے چلتے ہوئے محسوس کروں گا میں ان کی بناوٹ اور خوبصورتی کو اپنے پیروں اور ہاتھوں سے جاننے کی کوشش کروں گا۔ میرے پیروں کے نیچے ماربل ہے، مٹی ، کنکریٹ ہے یا پتھریلی چٹانیںیا پھر ٹائلیں یہ سب کچھ میں اپنے جوتوں کے نیچے پہچان لوں گا۔ میں فضاوں کی خوشبو کو جنگل میں محسوس کروںگا اور پھر جنگل سے شہر میں آتے ہوئے خوشبووں کی تبدیلی سے کھلے میدانوں اور فضاوں کا ان کی تازہ ہواوں سے احساس کرو ںگا۔ چہرے پہ ٹکراتی ہوائیں مجھے جنگل اور شہر کے فرق کا راز بتائیں گی۔ میں مساجد میں بھی جاوں گا اور گرجا گھروں میں بھی، مندر بھی دیکھوں گا اور میں ان کی خوبصورت دیواروں کو ان کے فن تعمیر کو اپنے ہاتھوں سے محسوس کرو ںگا۔ وہاں ایک مخصوص خوشبو ہو گی ۔ایک کیفیت ہو گی جسے میں محسوس کروں گا، بازاروں کی اپنی خوشبو ہو گی میں بھنے ہوئے گوشت کی خوشبو اور پرائی ہوتے پیس کی خوشبووں کو محسوس کروںگا۔ ادرک ، لہسن اور دوسرے مرچ مصالحے کا میں احساس کرو ںگا۔ اسی شہر میں چہل قدمی ہوگی میں نے چہل قدمی اب محسوس کی۔
تنزیبار بار سٹور میں میں نے جانوروں کی خریدو فروخت کو محسوس کیا اور میں زندہ لوگوں کے درمیان گھومتا پھرتا رہا اور میں ان زندہ لوگوں سے باقی لوگوں کی زندگی کا راز پایا میں نے 16مقامات میں خوبصورت چھلانگیں لگائیں اور 3دفعہ سکائی ڈرائیور کرتا رہا۔آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ، کوسٹا ریٹا اور کومبیا کے گہرے پانیوں میں کشتیوں پر محوسفر رہا ،مجھے ان سب سے پیار ہے کیونکہ میں نے ان سب کو محسوس کیا ہے۔ میں نے ہرجگہ چلتی ٹرینوں اور کشتیوں کی سنسناہٹ کو پایا ہے۔ جائل نے اپنے سفر میں(Jaws)نامی ایک کمپیوٹر سافٹ وئیر کو اپنا محو سفر بنایا یہ ٹیکسٹ سپیچ سافٹ وئیر کہلاتا ہے اس کی مدد سے اس نے اپنی منزل مقصود پر تحقیق کی۔ اور اپنے سفر کا پورا پروگرام ترتیب دیا۔ ہاں البتہ اسے کہیں کہیں فلائٹوں کی بکنگ میں کسی کی مدد درکار ہوئی جو اس نے لے لی۔ کیونکہ کچھ فلائٹیں اتنی زیادہ جدید انداز میں آپریٹ نہ کر رہی تھیں۔ وہ ڈیجیٹل ڈیوائس کی مدد سے محو سفر رہا۔ اپنے مخصوص نمبروں اور سمز کو اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کرتا رہا۔ حتی کہ اس کے کمپیوٹر میں ای بک بھی محفوظ تھیں۔
کئی منزلوں میں وہ اپنے سامان کو لے کر بھاگتا رہا۔ عام حالات میں یہ ناممکن دکھائی دیتا ہے مجھے ٹیلی فون سمارٹ فون کی ڈیوائس ٹیکنالوجی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ یہ مجھے پاگل کر دے گی بلا شبہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے میں نے مختلف جگہوں کی تلاش میں مدد لی۔ تاہم افریقہ میں تو اس نے مجھے پاگل ہی بنا دیا۔ پھر کئی شہروں میں وہ گم ہوتے ہوتے بچا۔ زبان آتی تھی نہ لب و لہجہ اور نہ ہی کسی سے کمپیوٹر پہ رابطہ کر سکتا تھا۔ میں ہر وقت اپنی جیب میں اپنی قیام گاہ کا پتہ ضرور رکھتا تھا اور یہ مقامی زبان میں لکھا ہوتاتھا۔ کہیں بھی گم ہو جانے کی صورت میں ٹیکسی والے کو تو آواز دے سکتا تھا۔ تاہم اس نے کچھ بنیادی لفظ ضرور سیکھ لیے تھے۔ ہیلو ، بائی ،واٹر اور کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظ ہی بول سکتا تھا۔
ستمبر 2012ءمیں وہ البانیہ کے سفر پر روانہ ہوا ا ور مارچ 2013ءارجنٹائن بھی گھومتا رہا اور آرمینیا بھی ، آسٹریلیا ، بحرین ، بیلا رس ، بیلجیم ، بولیویا ، بیلیزے ، بوسنیا، برازیل، برونڈی ،بلغاریہ ، کینیڈا، چلی، برطانیہ، جارجیا، جرمنی، یونان، جبرالٹر، ہنگری ، انڈونیشیا، آئس لینڈ، جاپان ، اردن ، اٹلی، کینیا، کویت ، قزاقستان، ملائیشیا، موریطانیہ، میکسیکو ، مراکش، نیدرلینڈز ، نیوزی لینڈ ، ناروے، فلسطین، پاناما، پیرا گوئے، پیرو، پولینڈ، پرتگال، قطر، رومانیہ، روانڈا، سربیا، سلووینیا، جنوبی افریقہ، سپین، سوئزلینڈ، ترکی، یوگنڈا، یوکرائن، متحدہ عرب امارات، ویت نام اور زمبابوے بھی شامل ہیں۔ مقامی لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان کی ثقافتوں کا تبادلہ کرنا بہت اچھا لگا یہی سفر کی حقیقی روح ہے۔ دنیا کے اکثر حصے آباد ہیں مگر کہیں کہیں کچھ پابندیاں ہیں۔ کہیں کہیں اسے اپنے پسندیدہ شہروں کی تلاش میں کچھ مشکلات پیش آئیں۔ آرمینیا میں اسے کچھ دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے نیوزی لینڈ سفر کے لیے سب سے اچھی جگہ لگی۔یہ دنیا کے انتہائی جنوبی شہر پشو آیا (Ushuaia) بھی گیا۔ آخری جہاز اس شہر کو جانے والا تھا اسے کچھ کرایہ زیادہ دینا پڑا اور وہ اس میں بیٹھ گیا یہ 9روزہ سفر بڑا جادوئی تھا اس نے سمندر میں تیرتی ویلز کی ہڈیوں کو ہاتھ لگا کر انہیں ساحل پر محفوظ کیا۔ برفانی تودوں، گلیشئرز اور پینگوئینز کی اس نئی دنیا میں وہ بہت خوش و خرم رہا یہ دنیا کا بڑا منفرد اور الگ تھلگ خطہ ہے۔ 2008ءمیں اس نے اپنے گردے تبدیل کروانا پڑے۔جو اس کے سوتیلے باپ نے عطیہ کیے تھے اور 3مہینے بعد وہ دوبارہ سفر پر روانہ ہوا۔اس مرتبہ اس کی پہلی منزل برطانیہ تھی۔وہ پہلے بھی کئی مرتبہ برطانیہ جا چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  قیامت خیز سردی میں نئی تاریخ رقم

اپنا تبصرہ بھیجیں