health-avernace

کیا پاکستانیوں کو صحت مند رکھنے کیلئے ہم کچھ کر رہے ہیں؟

EjazNews

کیا پاکستانیوں کو صحت مند رکھنے کیلئے ہم کچھ کر رہے ہیں؟
پاکستان میں سالانہ 63لاکھ 80ہزار بچے جنم لیتے ہیں۔ جن میں سے 4لاکھ 29ہزار بچے اپنی پہلی سالگرہ نہیں دیکھ پاتے اور یہ ماﺅں کی گود میں دم توڑ دیتے ہیں ۔انہیں میں سے 2لاکھ 90ہزار 393بچے پہلے ہی مہینے میں دم توڑ جاتے ہیں ، پاکستان میں ایک ماہ میں کم عمر ی میں جاں بحق ہونے والے بچوں کا تناسب عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہے بلکہ شرمناک حد تک زیادہ ہے اس کی کئی وجوہات ہیں 40فیصد بچے پری میچور پیدائش کے باعث جاں بحق ہوتے ہیں۔ 21فیصدبرتھ Acphyxyaایکسپسویا اور 18فیصد انفیکشن کے باعث جاں بحق ہوجاتے ہیں جبکہ ایک سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی بڑی وجہ ہیں ان میں سے 60فیصد تو ان پیدائشی امراض کی وجہ سے دنیا چھوڑ دیتے ہیں جن کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں جبکہ مزید 17.7فیصد نمونیا اور 11.3فیصد ڈائریا کے باعث مرتے ہیں۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں اسہال اور ملیریا سے مرنے والے بچے ہوتے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے اسہال اور ملیریا کی بیماریوں پر کوئی کنٹرول نہیں ان دونوں امراض سے مرنے والے بچوں کا تناسب 1لاکھ 30ہزار کے لگ بھگ ہے۔ جو عالمی تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔
پاکستان کی آبادی تقریباً پونے 21کروڑ ہے مردوں کی آبادی 10کروڑ سے زائد اور خواتین کی 10کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ فی گھرانہ بچو ں کی 3.17ہے جبکہ کروڈ ڈیتھ ریٹ (CDR6)یعنی 25فیصد بچے پیدائش کے بعد انتقال کر جاتے ہیں آبادی میں اضافہ کا تناسب 2.1فیصد اور اوسط عمر 69.8مردوں کی اور 69.7بتائی جارہی ہے۔ مرد کی اوسط عمر 69.4اور عورت کی اوسط عمر 70.2برس ہوچکی ہے۔ یعنی خواتین مردوں سے تقریباً 8ماہ زیادہ زندہ رہتی ہیں۔ پاکستان میں ایک سال سے کم عمر بچوں کی موت کا تناسب 6لاکھ 14ہزار ہے جبکہ 5سال کی عمر سے نیچے مرنے والوں کی تعداد85.4ہے ۔زچہ کی موات165.6فی ہزار ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر لیا جارہا ہے۔ لیکن اس پر بھاری اخراجات کے باوجود یہ منصوبے ثمر آور نہیں ہو رہے۔
پاکستان میں ہر سال 1لاکھ 48ہزار سرطان کے نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ تاہم مریضوں کی اصل تعداد کا کوئی پتہ نہیں اس بارے میں بھی ہمارے پاس جامع اور قابل اعتماد اعداد و شمار کا فقدان ہے۔ پاکستان میں سرطان کی سب سے عام وجہ پھیپھڑوں اور منہ کا سرطان ہے۔ ان دونوں کا تعلق سگریٹ نوشی سے ہے۔ لیکن سگریٹ نوش ہیں کہ کچھ سننے کو تیار نہیں۔ ان کے خیال میں موت تو برحق ہے زندگی کے غموں کو سگریٹ کے مرغولوں میں اڑایا جاسکتا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں۔ سگریٹ تو جل کر دھوئیں میں بدل جاتی ہے مگر انسانی پھیپھڑوں پر بھی ایسے داغ چھوڑ دیتی ہے جو اسے وقت سے پہلے فرشتہ اجل میں چھوڑ دیتی ہے۔ وفاقی حکومت نے سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے سیل بنایا ہے۔پولیس اور دوسرے محکموں کے ذریعے انسداد سگریٹ نوشی پر قوانین سازی کی ہے۔ یہ سیل اور انسداد سگریٹ نوشی کے قوانین کافی عرصے سے نافذ ہیں۔ مگر ان قوانین کے تحت آج تک کبھی کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ تمباکو کنٹرول سیل کے ماہرین کی اصل پرفارمنس سے قوم لا علم ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں سگریٹ نوشی کی بڑھتی ہوئی علت اور اس کا سراغ لگانے کے لیے ایک سروے ہوا تھا یہ سروے گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے اینڈ گلوبل ایڈیلڈ سروے کہلایا۔ اس سروے کے اعداد و شمار بھی ابھی عوام کے سامنے نہیں رکھے گئے۔ اگرچہ تمام پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی منع ہے کہ بورڈ آویزاں ہے مگر کئی مقامات پر سگریٹ نوشی ہوتی ہے۔ 31مئی یوم انسداد تمباکو نوشی کے طور پر منایا جاتا ہے اس سال بھی پچھلے سال کی طرح خاموشی سے گزر جائے گا ۔یہاں انتخابات کی گہما گہمی میں عوام کی صحت تمباکو کے دھوئیں کی طرح مٹتی چلی جائے گی۔ سگریٹ نوشی پر قوانین اور فلم سازی منع ہے لیکن شاید ہی کوئی ایسی فلم ہو جس میں سگریٹ نوشی کرتے ہوئے نہ دکھایا ہواور تو اور اب تو بچے اور بچیوں کو بھی سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے یہ ہمارا المیہ ہے۔
2011ءسے پاکستان میں پولیو ایمر جنسی نافذ ہے یہ وہ سال تھا جب عالمی اداروں نے پاکستان پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔ انسداد پولیو پروگرام بھاری اخراجات کے باوجود ناکامی سے ہمکنار ہوا۔ نیشنل ایمرجنسی پروگرام کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسداد پولیو کے لیے نیشنل ٹاسک فورس کی قیاد ت وزیراعظم پاکستان نے خود سنبھال لی۔ان سب کا مقصد ملک سے پولیو کا خاتمہ ہے۔
یوسف رضا گیلانی کو سوئس اکاﺅنٹس سے فرست نہ تھی۔ وہ ان اکاﺅنٹس کی الجھنوں میں الجھے رہے۔ راجہ پرویز اشرف رینٹل پاور کیس اور میاں نواز شریف پانامہ پیپرز اور پانامہ کیس کو بھگتتے رہے۔ شاہد خاقان عباسی بہت سادہ طبیعت شخصیت تھے وہ اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھتے ہی کہاں تھے۔یہ ٹاسک فورس 2011ءسے کسی ایمر جنسی ایکشن پلان کے ذریعے اپنے اجلاس کی منتظر ہے۔ملک میں نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر بھی قائم ہے۔وفاق اور صوبوں کے علاوہ یہ سینٹر عالمی اداروں سے بھی مکمل رابطے میں ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف ہمارے بڑے پارٹنر ہیں۔ نیشنل پولیو پروگرام نیشنل پولیو ایمرجنسی پی سی ون جنوری 2016ءمیں منظور ہوا اس کا دورانیہ اسی سال 31دسمبر کو ختم ہوگیا ۔ امداد دینے والے کبھی مہنگی دوائیں تھما دیتے ہیں اور کبھی ان کی دھوائیں اتنی موثر ثابت نہیں ہوتیں ۔
ملک میں ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کی تعداد 80لاکھ ہے۔یہ سروے آج سے کئی سال پرانا ہے۔ وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق ملک میں ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں 5لاکھ سالانہ کا اضافہ ہورہا ہے چنانچہ2007-8میں ہیپاٹائٹس کے 80لاکھ مریض اور 2013میں 1کروڑ 5لاکھ اور 2017ءمیں سوا کروڑ تھے۔ حکومت کے پاس ہیپا ٹائٹس کے علاج کے لیے کوئی قابل ذکر مرکز موجودہی نہیں ۔جو ہیں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ عالمی اداروں اور خود مقامی ماہرین کے مطابق ہیپا ٹائٹس کے پھیلاﺅ کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ طبی آلات کاصحیح طریقے سے جراثیموں سے پاک نہ ہونا، سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور گندا پانی اس کی بڑی وجوہات ہیںاور یہی دراصل اس کے انفیکشن کا بڑا سبب ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے ہیپا ٹائٹس کے 25زیادہ متاثرہ اضلاع کی تحصیل ڈی ایچ کیو، آر آئی سی اور بی ایچ یو کو سوئی کٹر مہیا کر دئیے ہیں۔ٹیکے لگانے کے فوراً بعد ان کٹر وں کی مدد سے سوئی کو کاٹ کر ناقابل عمل بنایا جا ئے گا۔ اس کی روک تھام کے ٹریننگ کا عمل بھی کرایا گیا، یہ پروگرام عملدرآمد کی سطح پر ہے۔ ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے وفاقی اور صوبائی حکام کو بھی اس کی روک تھام کے کچھ رہنما اصولوں سے آگاہی فراہم کی ۔لیکن ہیپا ٹائٹس ہر سال بڑھتا جارہا ہے۔
بریسٹ کینسر پاکستان میں عام ہے یہ ہر سال 40ہزار خواتین کی جانیں لے لیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اس کے پھیلاﺅ کے بارے میں کئی مرتبہ خبر دار کر چکا ہے۔ خطرے کی گھنٹیاں ہمارے ذہنوں میں گونج رہی ہیں۔ سرطان کی ایک قسم اب بچوں کو بھی معاف نہیں کر رہی اور نوجوان بچیاں بھی اس مرض میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 10کروڑ خواتین میں سے کم و بیش 1کروڑ خواتین نے اپنی زندگی میں ایک مرتبہ کینسر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے یعنی ہر 10ویں عورت یا بچی کینسر کا شکار بن سکتی ہے چنانچہ کینسر پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ناقص خون کی فراہمی کا مسئلہ چند سال پہلے نہایت خوفناک تھا اب کسی حد تک اس پر قابو پایا جا چکا ہے۔ گزشتہ 3-4حکومتوں نے اس سمت میں بہت کام کیا۔ جرمنی کے عالمی ادارے کی مدد سے سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام شروع کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی غیر قانونی تعمیرات کس کا کیا موقف ہے

ہمیں اچھوت ، غیراچھوت کی بیماریو ں کے اہداف کے حصول میں کئی دقتوں کا سامنا ہے۔ ٹی بی ، ملیریا اور ایڈز کو دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح یہاں بھی نظر انداز کیا گیا۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ کا تعلق پانی سے پیدا شدہ امراض سے ہے۔ پانی زندگی بھی دیتا ہے اور موت کی علامت بھی ۔ ذہنی امراض بھی حکومت کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی تناﺅ ، معاشی بے چینی ، قیمتوں میں عدم استحکام، خالص خوراک کی عدم دستیابی، سرکاری تعلیمی سہولتوں کا فقدان، گھریلو جھگڑے ڈپریشن کے بڑے اسباب ہیں ۔ خوراک پہلے ہی پوری نہیں ملتی۔40فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور جن کو ملتی ہے انہیں بھی خالص نہیں ملتی۔ گوشت اور دودھ میں پانی، مرچوں میں چینی ، سبزیوں میں گندے پانی ، پھلوں میں سکرین کے انجکشن کی ملاوٹ نے قوم کو بیماریوں میں دھکیل دیا ہے اور حکومت کاتنکے جیسے ہاتھ بیماری میں جکڑے ہوئے کروڑوں لوگوں کے لیے بے معنی ہیں۔
شراب اور دوسری منشیات کوشرخ اموات میں اضافے کا ایک سبب قرار دیا جارہا ہے ، اس سے مرنے والے آدھے لوگوں کو بچانے کی کوشش حکومت کرے گی ایسا کہنا سابق حکومت کا تھا۔اور ایک ٹارگٹ بھی رکھا گیا تھا جس کے تحت2030ءتک حکومت اس سے مرنے والے آدھے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرے گی۔ پاکستان میں ملیریا دوسرا خطرناک مرض ہے۔ یہ چھوت کی بیماری 56اضلاع میں بہت زیادہ ہے۔ جن میں بلوچستان کے 17،سندھ کے 12،خیبر پختونخواہ کے 12اور خیبر ایجنسی کے 7اضلاع شامل ہیں جبکہ ٹی بی پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ مرض نزلہ کی طرح ادویات سے مزاحمت پیدا کر لیتا ہے۔ یہاں ہر ایک لاکھ میں سے 231افراد ٹی بی کا شکار ہیں۔ زچہ و بچہ کی اموات کسی طرح قابو میں نہیں آرہی ۔
صحت کے جس شعبے کے متعلق بات کر لیں آپ کو مایوسی کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ ہسپتالوں میں لگی لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں ۔ بڑے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں کا منظر ایسا نظر آتا ہے جیسے پورا پاکستان ہی بیمار ہو گیا ہو ۔ حکومت کو صحت کی جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت یہ دعوے بھی کرتی ہے کہ وہ صحت عامہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں لیکن ان دعوﺅں کی حقیقت نظر نہیں آرہی۔

یہ بھی پڑھیں:  بدترین قتل عام: جس میں مرنے والوں کی تدفین پچیس سال سے جاری

اپنا تبصرہ بھیجیں