Imran-khan-spech-karachi

آپ ٹیکس بھی نہ دیں اور ملک بھی چل جائے ایسا نہیں ہوسکتا :وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں وزیراعظم بنا تو ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ خسارہ تھا۔جن مشکلات کا ہم نے سامنا کیا ان کا ہم عوام کو بتا ہی نہیں سکتے تھے اس لیے کہ روپے کی قدر میں اور کمی نہ ہو جائے ۔
ان کا کہناتھا ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہمارے پاس ڈالر تھے ہی نہیں روپے کی قدر کو روکنے کیلئے۔ جب ایک کرنسی گرنی شروع ہوتی ہےاور اس ملک کے پاس غیر ملکی سرمایہ بھی نہ ہو تو اس ملک کیلئے بڑی مشکل ہوتی ہے۔ آج میں اللہ کا بڑا شکر گزار ہوں۔ اپنی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جس طرح ہمارا روپیہ مستحکم ہوا اور سٹاک ایکسچینج بڑھی اور بزنس کمیونٹی میں ایکسپورٹ بڑھ رہی ہے۔ میرا ایمان تھا جب اس ملک میں لانگ ٹرم پالیسیاں ہوں گی ، ملک ایڈہاک بیسز پر نہیں چلے گا ایک پلاننگ کے تحت چلے گا ، میرا ہمیشہ یہ یقین تھا کہ ہمارے اندر بہت پوٹینشن ہے۔ ہندوستان ہم سے آگے نکل گیا ایک وقت تھا میں اپنے کانوں سے سنتا تھا کہ ایسٹ پاکستان بوجھ بنا ہوا ہے ویسٹ پاکستان پہ آج بنگلہ دیش بھی پاکستان سے آگے ہے۔یہ اس لیے نہیں کہ انہوں نے ترقی کی ہے بلکہ ہم پیچھے چلے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم لانگ ٹرم پالیسی پر چل رہے ہیں۔ پہلے میں نے کوئی لانگ ٹرم پالیسی نہیں دیکھی ، چائنہ اس لیے آگے نکل گیا کہ ان کے پاس لانگ ٹرم پالیسیاں ہیں ۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر آپ کا سرپلس اکائونٹ نہیں ہے تو آپ کا ملک مستحکم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ روپیہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔اور سب سے زیادہ متاثر عام آدمی ہوتا ہے۔ چار سال میں پہلی مرتبہ ہمارا کرنٹ اکائونٹ سرپلس میں چلا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اسمگلنگ کو روکنے کیلئے میٹنگیں کر رہے ہیں اس سے تاجروں کو بہت نقصان ہوتا ہے۔ اور ملک کو بھی۔ہم پورا زور لگا رہے ہیں اپنی تاجرکمیونٹی کیلئے کیونکہ ویلتھ کریٹ تاجر برادری ہی کرتی ہے۔ اور تاجروں کو بھی ٹیکس دینا ہوگا آپ ٹیکس بھی نہ دیں اور ملک بھی چل جائے ایسا نہیں ہوسکتا ۔
ان کا کہنا تھا کہ جو پرانے تاجر عادی ہیں ان کو میں کہنا چاہوں کہ آپ یہ سمجھیں آپ اپنے ملک کے لیے لڑر ہے ہیں۔جب میں باہر گیا اور باہر کے ملکوں سے ہمیں پیسے اکٹھے کرنے پڑے۔لیکن یہ ملک کی عزت کیلئے ٹھیک نہیں کہ آپ قرضے مانگیں ، ملک کبھی خودار ملک نہیں بن سکتا۔ اس لیے ہماری پوری کوشش ہے کہ ملک میں انڈسٹرلائز کریں ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سونے کے ذخیرے ہیں صرف دو کانوں کا منافع سو کروڑ ڈالر ہے۔ ریکوڈک سے اگر سونا نکل رہا ہوتا تو سوچیں ملک کہاں سے کہاں جاسکتا تھا بلوچستان کہاں سے کہا جاسکتا تھا۔ ملک کو اربوں ڈالر ملتے۔اس موقع پر انہوں نے ترک صدر کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان پر ہونے والے جرمانے کو ختم کرنے میں اہم کر دار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  آپ پاکستانی سیاحت کوسیاحت دوست بنا دیں پھر دیکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں