نا جانے کب فلسطینیوں کی داد رسی ہوگی اس مہذب دنیا میں

EjazNews

30مارچ 2018ءکو اسرائیلی فوجوں نے 1970ءکی تاریخ دوہرائی تھی ۔ جب صابرہ اور شکیلہ کے کیمپوں پر خوفناک بمباری کے ذریعے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا۔
شہادتیں فلسطینیوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ فلسطینی سرزمین 1949ءسے شہیدو ں کے لہو سے تر ہے۔ مارچ 2018ءمیں فلسطینیو ں نے مارچ کا اعلان کیا، مارچ کا پہلا دن تھا مساجد سے اس مارچ میں شرکت کے لیے خصوصی اعلانات کیے گئے۔ 40فٹ لمبی سرحد پر 5مقامات احتجاج کے لیے مقرر کیے گئے تھے۔ سرزمین فلسطین پر قائم یہودی فوجیں بھی جدید گولا بارود ، آتشی گیس، آگ بسانے والے گولوں ، جدید آنکھوں اور جسم میں خارش پیدا کرنے والی آنسو گیس او رربڑ میں چھپی ہوئی لوہے کی گولیوں سے مصلح تھے۔ مظاہرے کے پہلے روز کچھ لوگوں کے مطابق ہزاروں اور کچھ لوگوں کے مطابق لاکھوں لوگوں نے حماس کے کیمپوں پر ڈیرے ڈال لیے۔ وہ اب سرزمین فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے بلند کر رہے تھے ،چند ایک نے اسرائیل کے حامی رہنماؤں کی تصویروں کو نظر آتش کر کے دل کی آتش کو ٹھنڈا کیا۔اسرائیلی فوج نے تھوڑا سا صبر کا مظاہرہ کیا، جمع ہوتے ہوئے ہجوم کو خوف زدہ اسرائیلی فوج نے وہ تمام ہتھیار استعمال کرنے شروع کر دئیے جو ان کے پاس تھے ۔آسمان سے آگ لگانے والے گولے برسائے ، ربڑمیں چھپی لوہے کی گولیاں ، جسم اور آنکھوں میں چبھن پیدا کرنے والی آنسو گیس ، سرحدی علاقہ آنسو گیس میں ایسے چھپ گیا جیسے دھند کی چادر ہو۔ مارچ میں مارچ کا نعرہ اسرائیلی فوج نے خاک و خون میں بدل دیا۔ 16افراد موقع پر شہید ہوئے آسمان پر ہونے والی گولوں کی بارش نے کم از کم ایک ہزار افراد پر زخموں کے نشان لگائے، معمولی زخموں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ یہ دنیا کی نظروں سے ڈھکے چھپے نہیں۔
فلسطینیوں نے سرحدی باڑ کی جانب جلتے ہوئے ٹائر اور پتھر اچھالے یہ پتھر اور ٹائر رستے میں جل کر بجھ گئے اور اسرائیلی فوجیوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے مگر ان پتھروں کے جواب میں وہ گولہ باری کی جس کا امریکیوں کے سوا کسی پر کوئی اثر نہ ہو۔ دنیا لمبی تان کر سو گئی مگر مغربی میڈیا کے مطابق یہ 1979 ءکا دور شروع ہوگیا۔ فلسطینی اور یہودی 50سال پیچھے چلے گئے جب دونوں قوموں میں شدید جنگ جاری تھی۔ اسرائیلی فوجو ں نے توپوں اور میزائلوں سے مصلح تھی جبکہ فلسطینیوں کے پاس اپنے ہی مکانوں کی ٹوٹی ہوئی اینٹیں اور پتھر تھے کچھ نے اپنے جسم بم بنا کر خودکش حملے کیے۔ یہ الگ بات ہے کہ تاریخ کا پہلا خودکش حملہ ایک یہودی نے کیا تھا۔ یہودیوں سے سبق لیتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں نے بھی خودکش حملے کیے۔
بموں کی اس بارش کیخلاف کویت میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایک قرار داد پیش کی۔ قرار داد کا مقصد معصوم بے گناہ فلسطینیوں کی شہادت، 30ہزار سے زائد بے گناہ فلسطینیوں پر وحشیانہ اور سیدھی فائرنگ اور آتش گیر مادے کی فائرنگ کے موضوع پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سیکرٹری کونسل کی میز پر یہ قرار داد ابھی پہنچی بھی نہ تھی کہ اسرائیل کے دست راست امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر میکی ہیلی کو فون گھما دیا اور اس قرار داد کو ردی کی ٹوکری میں پھکوانے کے لیے لابنگ کرنے کی ہدایت کی ۔ جب قرار داد کے حق میں بہت کم ووٹ ڈالے گئے اور ووٹ ڈالنے والے ممالک بھی عالمی سیاست میں کوئی شنوائی نہیں رکھتے جبکہ اسرائیلی فوجیوں کی وحشیانہ اور سیدھی فائرنگ کے موضوع کو ارکان پارلیمنٹ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کا 16رکنی وفد فائرنگ کے روز فلسطین میں موجود تھے اور ان کے رہنماؤں سے مذاکرات میں مصروف تھا۔
امریکہ روسی سفارت کاروں کے فیصلے پر پورے یورپ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ناکام رہا ہے۔ البتہ کچھ ممالک نے اس کا ضرور ساتھ دیا۔ لیکن روس اور فلسطین کا معاملہ الگ الگ ہے۔ چین ، جاپان اور سکیورٹی کونسل کے بعض مستقبل ممبرا ن نے اسرائیل کو اتنی اہمیت دینے کے خلاف ہیں ۔ حقائق کو چھپانا اور امن کو ٹھکرانا چین ، برطانیہ اور فرانس کی تاریخ میں شامل نہیں ۔ چنانچہ کویت کی قرارداد آسانی سے مسترد نہیں ہوسکی۔ یوں بھی فلسطین کے بارے میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے ٹربیونل کا فیصلہ پہلے سے ہی کارڈز پر ہے۔ اسرائیل کئی مرتبہ جنگی جرائم کا ارتکاب کر چکاجنگی جرائم کے ٹربیونل سے تعلق رکھنے والی ایک سابق شخصیت نے بھی اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا۔ کئی فلسطینی شخصیات اور این جی او پہلے سے اقوام متحدہ میں جنگی جرائم کے ٹربیونل سے رابطے میں ہیں ان کی درخواستیں زیر التواءہیں کیس خاصہ مضبوط ہے۔
1949ءمیں اسرائیل میں فلسطینی مہاجرین کی تعداد 6لاکھ تھی جو کم ہوتے ہوئے اب 3لاکھ 90ہزار ہے اسے تاریخ کا المیہ کہیے یا اقوام متحدہ کی بے حسی یا عالمی ضمیر کی کمزوری کہ فلسطینی اپنے ہی خطے میں مہاجر کہلا رہے ہیں اور اپنی ہی سرحدوں پر جمع ہونے پر انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے یہ تاریخ کا ایسا المیہ ہے۔ ایسا داغ ہے جسے دھویا نہیں جاسکتا۔
اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ 2018ہو یا 2019ہو ،فلسطینیوں کے گھر ماتم کدہ بنے ہوئے ہیں اور دنیا چپ سادہ کر سوئی ہوئی ہے کہ ہمارا گھر تو محفوظ ہے نا۔ دنیا بہت مہذب ہو چکی ہے اتنی مہذب ہو چکی ہے اسے انسانوں کی نسل کشی بھی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ ایران کشیدگی ، نئے خطرات منڈلانے لگے

اپنا تبصرہ بھیجیں